دیدار حسین کا قتل اور انصاف کا نظام

شاہ عالم علیمی

10 نومبر 2015 میں پاکستان بھر کی میڈیا میں ایک خبر چھا گئی کہ گلگت بلتستان کے علاقے چلاس میں جنات نے ایک بچے کو اغوا کرکے قتل کردیا ہے۔ اگلے دن سےملکی اور غیر ملکی ٹیلی ویژن، اخبار اور شوشل میڈیا پر یہ خبر کئ دنوں تک گردش کرتی رہی۔ میرے دل و دماغ کشمکش کی وجہ سے کچھ سمجھنے سے قاصر تھے۔ ایک سوال ہی میرے سامنے تھا کہ آخر اس جن نے پوری دنیا میں جاکر اس بچے کو کیوں اغوا کیا؟ اور پھر قتل کیا!

جنات کے بارے میں جہاں تک میں نے پڑھ رکھا تھا وہ یہ تھا کہ یہ خدا کے مخلوق اپنی زندگی جیتے ہیں اور انسانوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ تاہم یہاں جن تھا اور ہمارا معصوم احمد تھا۔ پتا نہیں چھ سات سال کے احمد کی ان کے ساتھ کیا دشمنی تھی کہ انھوں نے اس کو اغوا کرکے قتل کردیا اور پھر نامعلوم افراد کی طرح اس کی لاش بھی گما دیا۔ یہ خبر بذات خود انتہا درجے کی مافوق الفطرت تھی تاہم اس پر طبق اس وقت پڑی جب لگے ہاتھوں گلگت بلتستان کے وزیر خوراک نے دعوی کیا کہ احمد کا قاتل غیر مسلم جن ہے کوئی مسلمان جن ایسا نہیں کرسکتا۔

ویسے ان کی بات صیح تھی۔ جو بھی غلط کام یہاں ہوتے رہے ہیں ان سب میں یہود و ہنود کا ہی تو ہاتھ ہے۔ ہم تو دنیا سنوارنے چلتے ہیں لیکن یہ ہمیشہ ہاتھ دھو کر ہمارے پیچھے پڑتے ہیں۔ اور ہر وقت ہماری راہوں میں روڑے اٹکاتے رہتے ہیں بلکہ مائنز بوتے رہتے ہیں۔ اور مجھے تو لگتا ہے کہ معصوم احمد کے اغوا اور پھر قتل اور لاپتہ ہونے کے پیچھے بھی سی ائی اے، را اور موساد کا ہی ہاتھ ہوسکتا ہے۔

اس ملک میں نوے فیصد شہریوں کے قتل اور گمشدگی کے پیچھے ویسا بھی نامعلوم افراد کا ہاتھ ہوتا ہے۔ چلو ایک احمد کی گمشدگی اور قتل کے پیچھے نامعلوم جن یا بقول وزیر موصوف کافر جن کا ہاتھ ہے تو کونسی بڑی بات ہے۔

آج چار سال بعد بھی اہل خرد پوچھ رہے ہیں معصوم احمد کا قاتل ‘جن’ گرفتار کیوں نہیں ہوا؟؟

تین سال قبل گلگت شہر میں تقریباً احمد کی ہی عمر کے ایک معصوم بچے کو ایک درندے نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرکے اس کی نعش کھیتوں میں پھینک دیا تھا۔ کیا اس بچے کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا ملی؟ نہیں۔

آج اشکومن میں چودہ سال کے نوجوان دیدار حسین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد انسان نما حیوانوں نے اس کا بیہمانہ قتل کرکے لاش دریا میں پھینک دیا۔

ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ علم کے بجائے جہالت، منطق دلیل کے بجائے وہم و گمان چیستان پر یقین رکھتے ہوں جہاں ثبوت سے زیادہ دیومالائی قصے وزنی ہوں وہاں معصوم احمد کے خون کا ذمہ دار جن کو قرار دیکر خاموشی اختیار کرنے پر حیران نہ ہو۔

ایک بیمار معاشرے میں جہاں نفسیاتی امراض عروج پر ہوں اور ذہنی فریسٹریشن عام ہوں جہاں گرتی ہوئی اخلاقی اقدار کے ساتھ ساتھ کوئی متبادل اخلاقی نظام وضع نہ ہوں وہاں اپ قوم لوط کی روایات کو عام ہوتے ہوئے دیکھ کر حیران نہ ہوں۔

دیدار حسین کے ساتھ زیادتی اور پھر اس کا بیہمانہ قتل چند اوباش ذہنی مریضوں نے نہیں بلکہ ایک معاشرے نے کیا ہے جو مجموعی طور پر ذہنی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا ہے۔

معاشرے یا تو مستحکم اخلاقی اقدار پر چلتے ہیں یا سخت قسم کے مربوط قوانین پر۔ یہ دونوں ہمارے یہاں ناپید ہیں۔ کسی زمانے میں معاشرے میں اور کچھ نہیں تو اخلاقی نظام، خوف خدا صیح تعلیمات کی وجہ سے قائم تھا پھر اوپر سے لوگ غربت کی وجہ سے ایک دوسرے سے منسلک تھے۔ وہاں ہمسایہ صرف ہمسایہ نہیں بلکہ بھائی ہوتا تھا۔ بندہ اس کے معاملے میں خوف خدا رکھتا تھا۔ آج غربت گئی، اخلاقی اقدار گئے، خوف خدا گیا سو جلوت اور ملوت ایک ہوگئے۔ حد یہ ہوگئی ہے کہ ایک ایسی نسل پیدا ہوگئی ہے جو اپنی ماں اور اپنے باپ کی بھی قدر جاننے سے انکاری ہے۔ ایسے میں بگڑتے ہوئے معاشرے کو کنٹرول کرنے کے لیے واضح قوانین نہ ہوں تو قوم لوط کی روایات اور نمرود کے رواج کا پروان چڑھنا کوئی انہونی بات نہیں ہے۔

پچھلے ایک دو ہفتوں میں ایسے ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ بندہ ذہنی طور پر سکتے میں ہے۔ زبان سے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں، ایک بد بخت نے احمد جیسے ہی ایک پھول جیسے بچے کو مدینے میں قتل کردیا۔ شاید اس درندے کو یہ خیال بھی نہیں آیا کہ حرم کے اندر جانور کو بھی تکلیف پہنچانا منع ہے۔

اشکومن میں نوجوان دیدار حسین کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ انسانیت کی تذلیل ہے۔ بدقسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں لوطی قوم کے درندے کو ہنس کر معاف کر دیا جاتا ہے اور جو مظلوم ہوتا ہے اس پر زندگی بھر طعنہ زنی کی جاتی ہے۔

یا ہمارا رویہ ایسا ہوگیا ہے کہ ہم کچھ فرسودہ جملے استعمال کرکے ایسے گنوانے واقعات کو جسٹیفائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسے کوئی مسلمان اس طرح نہیں کرسکتا، چلو جو ہوا اللہ بخش دے وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ ایسی باتوں میں کوئی وزن ہے ہی نہیں۔ یہ قاتل کا یار بننے کے مترادف ہے۔ آج کے انسان کا ذہن اس کا معاشرہ اس کی ضروریات اس کی سوچ یکسر تبدیل ہوچکی ہے۔ لوگوں کو دوزخ پر یقین نہیں ہے ان کو جنت پر اور حوروں پر یقین ہے۔ آپ ان کے ایمان سے جنت اور حوریں نکال دیں اور ان کے دل سے معاشرے کا دباو اور دماغ سے لوگوں سے ڈر نکال دیں ان کی اکثریت اعلان کریگی کہ یہ کسی خدا پر یقین نہیں رکھتے۔

ہمارے رویوں میں تبدیلی آنے کے لیے ابھی بہت وقت ہے۔ کیونکہ ایک بدعنوان معاشرہ آسانی سے سدھر نہیں سکتا ہے۔

ہمارے یہاں پچھلے تین عشروں میں بیشمار نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو بہیمانہ طور پر قتل کردیا گیا ہے۔ تاہم ان میں سے ایک کے بھی قاتل کو قرار واقعی سزا نہیں ملی۔ میں ایسے قاتلوں کو جانتا ہوں جو چند سال بعد جیل سے باہر آگئے اور آج سینہ تان کر جی رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہاں قاتلوں کو سزا کیوں نہیں دی جاتی؟ مقتول کو انصاف کیوں نہیں دیا جاتا ہے؟ ایک قاتل کو تین چار سال بعد آزاد کرکے پھر اسے بغیر کسی وارننگ کے معاشرے کے اندر کیوں بھیجا جاتا ہے؟

مہذب ملکوں میں بھلے ہی پھانسی پر پاپندی لگائی جارہی ہے لیکن وہ مہذب ملکوں کے لیے ہے۔ وہ ان علم پر مبنی معاشروں کے لیے ہے جہاں لوگ کسی سے سرزد ہوئی غلطی سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ تاہم وہاں بھی مجرم کو قرار واقعی سزا دی جاتی ہے۔ وہاں کسی مجرم کو تین چار سال بعد آزاد گھومنے نہیں دیا جاتا۔

جنسی طور پر ہراساں کرنے والے چھوٹے سے چھوٹے مجرم کو بھی باقاعدہ جنسی جرائم کے رجسٹر میں ڈالا جاتا ہے۔ اس سے لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے۔ اسے بچوں سے دور رکھا جاتا ہے۔ اسے مخصوص جگہوں میں جانے پر پاپندی ہوتی ہے۔ اور اس کی رہائی سے پہلے اس کو سایئکلوجیکل ٹریٹمنٹ دیا جاتا ہے۔ کیا ہمارے یہاں ایسا ہوتا ہے؟ ممکن ہی نہیں ہے!

ہم بندر کی طرح مخصوص کاموں میں ان معاشروں کی نقل کیوں اتارتے ہیں جن میں اور ہم میں آسمان و زمین کا فرق ہوتا ہے!

دیدار حسین قتل ہوا، اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ اس سے پہلے بھی درجنوں معصوم لوگ قتل ہو چکے ہیں جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ جزا و سزا کا نظام صیح نہ ہونے کی وجہ سے یہ جرائم آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ تاہم آج جو بھی درندے دیدار حسین کے قتل کے اس گنوانے جرم میں ملوث ہیں ان کو قرار واقعی سزا دی جائیں تاکہ آئندہ کسی کو اس طرح کے کام کرنے کی جرات نہ ہو۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments