زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے 

رشید ارشد

کوئی بولے بابا سے کہ اٹھے اور مجھ سے بات کرے ،خدا کے لئے بتاو میرے بابا کو کیا ہوا ہے ، جب کسی بابا کی گڑیا اپنے بابا کی لاش کے سرہانے یہ الفاظ ادا کرتی ہے توسن کر ہر صاحب دل کا کلیجہ منہ کو آتا ہے اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے ہیں۔

اتوار کی صبح چھ بجے میرے ایک دوست کا فون آیا اور مجھے یہ دل چیر دینے والی خبر سننے کو ملی کہ مجسم محبت و پیار،یاروں کے یار،گلگت بلتستان کی معروف سیاسی شخصیت وزیر اعلی کے معاون خصوصی محمد سلیم اب دنیا میں نہیں رہے ،چند لمحوں کے لئے تو دماغ سن ہوا کہ میں یہ کیا سن رہا ہوں ،اگلے لمحے انجانی سی اک آواز زہن کے نہاں خانوں میں گونجی کہ ،ہر زی روح نے موت کا مزہ چھکنا ہے ،

یادوں کے جھروکوں میں جھانک کر زندگی کے گزرے پچیس برس پیچھے کی طرف نظر کرتا ہوں تو وہ لمحے وہ ساعتیں مجھے یاد آتیں ہیں جب ہنستا مسکراتا اور محبتیں بکھیرتا محمد سلیم مجھ سے کہہ رہا تھا ،زندگی تو حیوان بھی گزارتے ہیں ،انسان اور حیوان میں کچھ تو فرق ہونا چاہئے ،انسان وہ ہے جو دوسروں کیلئے جیتا ہے ،میں اپنے لئے نہیں دوسروں کیلئے جینا چاہتا ہوں ،میں مر کر بھی زندہ رہنا چاہتا ہوں ،اس وقت سلیم کے یہ الفاظ سن کر میں کہہ رہا ہوتاتھا کہ چھوڑو یار سلیم زندگی کو انجوائے کرو ،یہ سب کتابی باتیں ہیں، کوئی کسی کیلئے نہیں اپنے لئے جیتا ہے ،یہ سب فلسفیوں کے افسانے ہیں ،محمد سلیم میری باتوں پر صرف مسکراتا تھا اور کہتا تھا کچھ بھی کہو دیکھنا میں جب دنیا سے جاوں گا تو بھی دنیا یاد رکھے گی۔۔محمد سلیم میرے دوست مجھے کیا خبر کہ آپ اپنی دھن کے اتنے پکے ہوں گے کہ انتہائی مشکل حالات اور دکھوں میں بھی اپنے غم چھپا کر دوسروں کے لئے مسکرانے کا فن آپ کو آگیا تھا ، کردار کی بلندی کے اس مقام پر فائز ہو چکے تھے کہ جہاں سے دنیا سے جانے کے بعد بھی کوئی مرتا نہیں دلوں میں زندہ رہتا ہے ،شاید احمد ندیم قاسمی نے محمد سلیم جیسے کردار کے غازیوں کے لئے ہی کہا تھا کہ ،

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاوں گا

میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاوں گا

چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار کہ میں

زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا

زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیمؔ

بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا

آج کل کی مروجہ سیاست کے سمندر میں محمد سلیم جیسے سیاسی وفادار خال خال ہیں ،محمد سلیم وہ سیاسی شہسوار تھے جسے نہ مشرف کے مظالم کے طوفان تھپیڑے سیاسی نظریات سے ہٹا سکے ،نہ مفادات کی چمک سے اس کے ارادوں میں لغزش آئی ،اپنی جماعت سے ہر قسم کے حالات میں جڑے رہے۔ایک محفل میں سلیم سے ایک بہت بڑے سیاسی گروہ کہہ رہے تھے کہ تمہیں اس جماعت نے کیا دیا ہے جس جماعت کے لئے زندگی کی تیس سال قربان کیا،ہماری جماعت میں آو آپ کو آپ کا مقام ملے گا،ان دنوں مسلم لیگ ن کے حالات کچھ بہتر نہیں ، تھے ،محمد سلیم مسکرائے اور جواب دیا کہ محترم میں ان سیاسی کارکنوں میں نہیں کہ جو یہ کہتے ہیں کہ جماعت نے ہمیں کیا دیا ،میں ان میں سے ہوں جو سوچتے ہیں کہ ہم نے جماعت اور قوم کو کیا دیا،میں زندگی رہی تو تیس برس اور اسی حالت میں گزار سکتا ہوں لیکن میری فطرت میں لوٹا بننا نہیں ،میں بہت خوش ہوں مجھے اسی مسلم لیگ ن نے عزت بخشی ہے ،،اللہ وہ دن نہ لائے کہ میں اپنی جماعت سے غداری کر وں ،،اس محفل میں کہی ہوئی باتیں مجھے یاد تھیں میں اس انتظار میں تھا کہ سلیم میں کتنا صبر ہے میں بھی آزماوں ،لیکن محمد سلیم تو میری سوچوں سے ماورا شخصیت تھے زندگی کی آخری سانسوں تک جماعت سے بھی وفا نھبائی تو استور کے عوام سے بھی ،

محمد سلیم استور کی وہ سیاسی شخصیت تھے جن سے ان کے شدید ترین سیاسی مخالفین بھی اس لئے اختلاف نہیں کرتے تھے کہ ہمیشہ تلخ سے تلخ بات کا جواب بھی مسکرا کر مددل انداز میں دیتے تھے،

محمد سلیم کو عوام کی خدمت کا جذبہ ورثے میں ملا تھا ،ان کے والد محترم نائب تحصلدار (ر)روزی خان بھی زندگی کی آخری سانسوں تک سیاست کرتے رہے اور انہوں نے بھی عوام کی خدمت کو اڑھنا بچھونا بنائے رکھا،روزی خان چچا سے بھی میری شناسائی کچھ اس لئے بھی زیادہ تھی کہ میرے مرحوم والد کے دوست تھے ،میں ہمیشہ والد کے ساتھ ان کی محفل میں ہوتا تھا ،ان کی اس دانشوارانہ اور پیار بھری گفتگو کا کل حاصل ان کے بیٹے محمد سلیم میں منتقل ہو چکا تھا ،آج محمد سلیم ہمیں چھوڑ کر منوں مٹی تلے سو چکے ہیں لیکن ان کی خدمت سے عبارت زندگی کی بدولت عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے،سیاسی وفاداروں کی جب بھی مورخ فہرست مرتب کرے گا صف اول میں محمد سلیم کا نام ضرور چمکے گا،۔میں کرب کے اس لمحے سے ابھی تک نکل نہیں سکا ہوں کہ جب محمد سلیم کی لاش کے سرہانے کھڑی بیٹی کی آواز میرے کانوں میں گونجی کہ،کوئی بولے بابا سے کہ اٹھے اور مجھ سے بات کرے ،خدا کے لئے بتاو میرے بابا کو کیا ہوا ہے، ۔ کالم کے آخر کوئی شعر اس لئے تحریر نہیں کروں گا کہ میرے پیارے دوست میرے بھائی کی شخصیت شعروں میں سما نہیں سکتی بس اتنا کہوں گا کہ ،زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments