محمد سیلم خان مرحوم، تجھ سا کہاں سے لاوں ان محفلوں میں اب

تحریر سبخان سہیل

بدلہ نہ تیرے بعد بھی موضوع گفتگو
تو جاچکا ہے پھر بھی میری محفلوں میں ہے

بے شک دنیا فانی ہے۔ كُلُّ نَفْسٍ ذائِقَةُ الْمَوْتِ

ایک عظیم انسان، ایک عظیم لیڈر، ایک عظیم امن کا سپاہی، ایک عظیم بھائی ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر دنیا فانی سے رخصت ہوئے۔ اس عظیم انسان کے نام کے ساتھ مرحوم لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور الفاظ مرحوم لکھتے ہوئے مجھے اس کا وہ چاند ساچہرہ سامنے نظر آتا ہے۔ اس عظیم انسان کو اللہ پاک اپنی جوار رحمت میں جگہ عطاء کرے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطاء کرے۔

میرے انتہائی قابل احترم بھائی محمد سیلم مرحوم کو ہم سے جدا ہوئے آج چوتھا دن ہے ۔آپ استور گوریکوٹ کنداس سے تعلق رکھتے تھے اور پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کےانتہائی پرانے اور درینہ رہنما تھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے برے دنوں کے ایک مضبوط نظریاتی کارکن تھے۔ مرحوم ایک مستقل مزاج انسان تھے ان کی زندگی ہمیشہ سے علاقے کے غریب اور مظلوم لوگوں کی خدمت میں گزری ہے۔ سیلم لوگوں کے دلوں میں راج کرنے والے سیاسی رہنما تھے، وہ کل بھی عوام کے دلوں میں زندہ تھے آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔ موت ہر انسان پر برحق ہے لیکن محمد سیلم خان کی موت پر عوام نے جس محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا پوری استور ان کی موت پر روہی۔ ہر ایک غم سے نڈال تھا۔ یہ دنیا میں کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔

محمد سیلم خان سے جو عوام نے محبت کا اظہار کیا وہ صرف اس کے دنیا سے جانے پر نہیں بلکہ کچھ مہنیے آپ کو جب معاون خصوصی وزیر اعلی گلگت بلتستان کا عہدہ ملا تھا تب بھی پوری استوری قوم نے اپنے محبوب قائد اور بھائی سے محبت کی فقید المثال استقبال کرکے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ آپ کو ضلع استور کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی ریلی کی شکل میں پرتپاک استقبال کیا اور ہر شخص نے اپنی اپنی حثیت کے مطابق اس استقبال کے لیے تیاری کی۔

سیلم خان مرحوم وہ عظیم انسان تھے جس نے ایک سیاسی پلیٹ فارم پر ہوتے ہوئے ہر کسی کا دل جیت لیا تھا حالانکہ سیاسی لوگوں کے لیے ہمارے معاشرے میں بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ قدم قدم پر مخالفین ایک پروپیگنڈاکے ذریعے پریشان کررہے ہوتے ہیں۔ لیکن محمد سیلم خان کی زندگی میں بھی کسی سے ان کے خلاف بات کرتے ہوئے نہیں سنا اور وہ خود بھی ایک ایسی مستقل مزاج کے مالک انسان تھے کبھی کسی کے بارے میں غلط رائے دیتے ہوئے نہیں سنا۔

محمد سیلم خان جیسے لیڈر صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ آپ استور میں پائیدر امن کے ایک ستون تھے۔ استور کی امن کے لیے ہمیشہ لسانی اور مذہبی خول سے باہر آکر امن کے لیے اپنا کلدی کردار ادا کیا ۔ استور کی امن کے لیے مرحوم نے بہت سی قربانیاں دی ہیں۔ مرحوم استور امن کمیٹی کے ممبر بھی تھے۔ استور امن کمیٹی کے ممبران آج بھی اس کی خدمات پر انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

مرحوم سے میرا قریبی تعلق تھا۔ وہ میرے بڑے بھائی کی طرح تھا۔ ہمیشہ کوئی بھی مشکل ہو یا کوئی کام ہوتا وہ میری بہتر رہنمائی کرتا تھا۔ وہ میرا ایک بہترین دوست اور بہترین قائد ہونے کے ساتھ ساتھ میرا بڑا بھائی بھی تھا۔ ان کی قابلیت اور ذہانت کی تعریف کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔ افسوس سد افسوس اگر زندگی نے ان کے ساتھ وفا کی ہوتی تو وہ ہم سب کے بہتر مستقبل کی ضمانت تھا۔

آج ہم ایک عظیم لیڈر سے محروم ہوئے۔ ایسے لیڈر صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ آپ ایک بہترین جرگہ دار بھی تھے وہ دن بھر عوام کے کام سے دفتروں میں اور رات بھر کسی نہ کسی کے جرگے میں ہوتے تھے۔ انھوں نے ہمیشہ عوام کی امنگوں سے بڑھ کر ان کی خدمت کی ہے۔ سیلم ایک درد دل رکھنے والے انسان تھے۔ وہ ہمیشہ عوام کے درمیان رہے ہیں۔ عوام کی دکھ ہو، سکھ ہو، پریشںانی ہو، غم ہو یا پھر عام حالت میں کسی نہ کسی طرح کے درمیان میں ہی موجودرہتے۔

محمد سیلم خان ایک حوصلہ کا نام تھا ایک نہ ٹوٹنے والا پہاڑ کا حوصلہ تھا۔ آپ کی زندگی بہت مختصر رہی۔ لیکن اس مختصر سی زندگی میں وہ عظیم کام کیے لوگ اسے صدیوں تک یاد رکھیں گے۔

محمد سیلم خان کو معاون خصوصی کی سیٹ بھی اس کی شخصیت کے قابل سیٹ نہیں تھی وہ گلگت بلتستان لیول کا ایک عظیم قائد تھا وہ خود اس سیٹ کے لیے خوائش مند نہیں تھا۔ عوام کے اسرار، پارٹی ورکروں اور یار دوستوں کی اسرار پر یہ عہدہ قبول کیا۔ وہ اس عہدے کے بعد عوام کے درمیان پھر سے وہی پرانے انداز میں گل مل گئے تھے۔ اسے کہتے ہیں عوامی نمائندہ ۔۔وہ ہر غریب کا آواز تھا، ہر اس مظلوم کای آوازہ تھا جس کا خدا کے سواء کوئی نہیں۔

آج محمد سیلم خان مرحوم کے انتقال کے بعد وہ تمام مظلوم بے سہارا، لوگ یتیم ہوئے ہیں۔ مرحوم کوبے سہارا لوگوں کے لیے اللہ رب العزت نے ایک سہارا بنا کر پیدا کیا تھا۔ آج وہ غریب مظلوم حقیقت میں یتیم ہوئے ہیں۔ جو جو زمانے کے ظلم وستم سے ستائے گئیے ہیں وہ مظلوم غریب جس کی آس و امید محمد سیلم خان مرحوم تھا ۔ کاش محمد سیلم کی شخصیت کو ہم سب پہلے سمجھتے۔ آپ نے اپنی اس مختصر سی زندگی میں اپنے لیے کوئی بنگلے کوٹھیاں، اور گاڑیاں اور دولت نہیں کمایا۔ اگر وہ چاہتے تو یہ سب کما بھی سکتا تھا۔ لیکن ان سب سے بھی زیادہ ایک نہ ختم ہونے والی دولت عزت ومحبت کما کر دار فانی سے رخصت ہوئے۔ جو ہر کوئی نہیں کما سکتا ہے۔ اور محمد سیلم خان مرحوم نے جو دولت کمائی ہے وہ نہ ختم نہیں ہونے والی دولت ہے۔

محمد سیلم خان مرحوم وزیر اعلی گلگت بلتستان کے معاون خصوصی ہونے کے ناطے جہاں بھی ہوتے ہفتے میں ایک دو بار مجھے ضرور فون کرتے۔

محمد سیلم خان مرحوم وزیر اعلی گلگت بلتستان کے معاون خصوصی ہونے کے ناطے وہ جہاں بھی ہوتے ہفتے میں ایک یا دو بار مجھے ضرور فون کیا کرتے۔ خاکسار کا تعلق صحافت سے ہونے کے ناطے وہ مجھے کسی نہ کسی ایشو پر خبرچلانے کے لیے کال کرتے تھے۔

مرحوم نے مجھے آخری بار 7 فروری کی رات کو فون کیا تھا۔ حسب معمول خریت دریافت کرنے کے بعد ہنستے ہوئے کہا کہ سہیل میں کافی عرصے سے سٹیشن سے باہر ہوں۔ وزیر اعلی صاحب بھی نارض ہونگے۔ میری غیر حاضری سے وزیر اعلی گلگت بلتستان اور صوبائی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے ایک خبر میرے نام سے لگانا ہے۔ اس رات 25 منٹ پر مشتمل تفصیلی بات کے دوران وہ اپنی صحت کی خرابی کے حوالے سے بھی بتا رہے تھے۔ انھوں نے مجھے کسی ایشوء کے اوپر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں 15 فروری کو گلگت آرہا ہوں، بیٹھکر دنوں بھائی اس پر بات کریں گے۔ اس رات وہ اتنے ہنسے تھے کہ آج بھی اس کی ہنسی میری سماعتوں میں اپنا رس گھولتی ہے۔ کافی دیر گفتگو کرنے کے بعد خدا حافظ کیا۔ کیا معلوم کہ یہ اس کی میرے لیے آخری کال ہے۔ کیا معلوم زندگی کا سفر اتنا مختصر ہوگا

اللہ رب العزت میرے محترم مرحوم بھائی کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطاء کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء کرے۔آمین یا رب العا لمین۔

آج جنت میں توبہت رونق ہوگی
یہ الگ بات ہے میرا شہر ویران ہوگیا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments