مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں، تیری رہبری کا سوال ہے

تحریر: یاسین حسین

میں امن اور محبت کا اک حسین باب ہوں دنیا میری خوبصورتی کے مٖثال دیتے ہیں میری سچائی کے قسم کھاتے ہیں میری سادگی پہ رشک کرتے ہیں میری دیدار کے لیے بے تاب رہتے ہیں میں کائنا ت کے نقشے پر جنت کا ٹکڑا ہوں میں امن کا گہوارہ حسین و جمیل خطہ بلتستان ہوں۔ مجھے اپنی ماضی پر ناز ہے میں اپنی حال سے ناخوش اور مستقبل کے لیے فکر مند ہوں۔ میری بے مثال روایات میری پہچان ہے دنیا کے ادیبوں نے میری تہذیب پر سینکڑوں کتابیں قلمبند کیے ہیں۔اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں اور رحمتوں کے باوجود میں اپنی وجود اور شناخت تلاش کررہا ہوں۔ میں اس رہبر کی تلاش میں ہوں جو مجھے میری پہچان اور عروج دے۔

قوموں کو ترقی اور عروج عظیم لیڈرکی بدولت ملتی ہے کسی بھی قوم کی عروج و ذوال میں لیڈر کا نمایاں کردار ہوتا ہے۔ اگر لیڈر قوم کو صحیح سمت میں ڈال دیں تو ترقی کی عروج حاصل کرتے ہیں اگر لیڈر قوم کو صحیح راستہ دیکھانے میں ناکام ہو جائے تو قوم ذوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دنیا کی موجودہ طاقتیں جو دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں یا حکمرانی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان طاقتوں کی عروج کے پیچھے لیڈرز ہی نظر ائیں گے یہاں تک پہنچنے کے لیے ان کے لیڈرز نے بے پناہ محنت سے وہ رستے تعین کیے جن پر چل کر وہ کامیاب ہوے ہیں۔

بدقسمتی سے میرے قوم کو جمہوریت کے اڑ میں بدترین راہنما ملے ہوے ہیں جن سے جمہوریت کی بو بھی نہیں آتا۔ عوام اور ووٹ کی تقدس کا ان کی نظر میں کوٖئی حثیت نہیں رکھتی یہ لوگ عوام کو بے وقوف اور لاشعور سمجھتے ہیں۔ رہبر عوام کی جذبات کا ترجمان ہوتا ہے وہ عوام کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے عوام کی ہر راے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ رہبر اعلی ظرف کا مالک ہوتا ہے۔

                                                   جمہور کے ابلیس ہیں ارباب سیاست

                                                   باقی نہیں اب مری ضرورت تہ افلاک

 ضلع گانچھے حلقہ نمبر ۲ میں مسلم لیگ ن مسلسل تین مرتبہ کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ عوام کی اس اعتماد، محبت اور ووٹ کے صلے، مقامی رہنما اب سوشل میڈیا پر براہ راست گالیاں لکھ کر دے رہے ہیں۔ یہ لوگ دنیا کے انو کھے رہبر ہیں جو اپنے حلقے کے عوام کو براہ راست گالیاں دیتے ہیں۔ ان کی اعلی ظرفی کا یہ عالم ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک کمنٹ کے جواب میں گالیاں لکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو رہبر یا لیڈرکہنا اس لفظ (رہبر)کے ساتھ  ناانصافی ہوگی ۔

                                               تماشا، کہ اے محو ائینہ داری

                                              تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں

ستم ظریفی تو یہ ہے کہ کچھ تعلیم یافتہ نوجوان چیلے بدستور ان نمائندوں کے گالیوں کی وضاحت ( جسٹی فائی ) کر رہے ہیں۔ یہ لوگ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر لو گوں کو یہ منطق سمجھانے بکی کوشش کر رہے ہیں کہ صاحب نے جو کچھ فرمایا سب صحیح ہیں کچھ غلط نہیں کہا۔ غلطی تو ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ایسا کہنے پہ مجبور کیا۔ بھئی غلط صحیح کا تعین کرنے سے پہلے آپ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ ایک منتخب عوامی نمائند ہ براہ راست گالیاں کیوں دیتا ہے۔ کیا ایسے غیر مہذب زبان کا استعمال ایک عوامی نمائندے کے لیے زیب دیتا ہے۔ سیاسی اختلافات ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ آپ بدتمیزی کی انتہائی درجے پہ چلے جائیں۔

میرے خیال میں غلطی عوام کی ہے کیونکہ عوام نے ایسے شخص کو منتخب کیا جو ایک مہذب معاشرے میں رہتے ہوے بھی  اخلاقیات سے عاری ہیں۔ عوام اپنے منتخب نمائندے کی حرکات پر صدمے میں ہیں عوام اپنے فیصلے پر شر مندہ بھی ہیں اگلی دفعہ عوام ضرور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے اور مستقبل  میں  ایسے  فیصلے نہیں کریں گے جس سے انہیں شرمندہ ہونا پڑے۔ امید ہے عوام مستقبل میں ایسے نمائندہ تلاش کریں گے جو حقیقی معنوں میں رہبر ہو۔ 

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments