آب و ہوا کی تبدیلی اور شسپر گلیشئر حسن آباد

ڈاکٹر محمد آصف خان 

جامعہ قراقرم کے تبدیلی آب و ہوا اور گلیشئر زمطالعہ گروپ کے تحقیقی مقالے سے ماخوذ

کائنات کے حسن و جمال میں دریاؤں ، پہاڑوں ، صحراؤں ، ریگستانوں اور گلیشئرز کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ قطبین کے گلیشئرزکے بعد گلگت بلتستان اور قراقرم ، ہندوکش اور ہمالیہ ریجن میں موجود گلیشئرز کی مقدار اور افادیت کی وجہ سے ان کو تھرڈ پول(تیسرا قطب ) کہا جاتا ہے ۔ ان کو پانی کے ٹاور بھی کہا جاتا ہے کیونکہ پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبی ضروریات ان گلیشئرز کی مرہون منت ہے ۔

اس وقت عالمی کوہیائی علاقے مختلف مسائل سے دوچار ہیں۔ ان مسائل میں آبادی کا تیزی سے اضافہ ، ماحولیاتی آلودگی ، آب و ہوا کی تبدیلی اور اس کے اثرات ، گلیشئرز کے پگھلاؤ کا عمل ، خوراک کا فقدان کے اثرات ، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات شامل ہیں۔ بین الاقوامی پینل برائے تبدیلی آب و ہوا (IPCC)کے پانچویں رپورٹ کے مطابق کرۂ ارض کا درجہ حرارت پچھلی تین دھائیوں میں تقریباً 0.85سنٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے ۔ جس کا گلیشئر ز کے پگھلاؤ کے عمل میں اضافہ پر کافی اثر ہے ۔ یہ عمل قراقرم ،ہندوکش کے ریجن میں گلیشئرز پر خصوصی طورپر دیکھا جاسکتا ہے ۔ اس علاقے میں کم بلندی پر واقع گلیشئرز ان خطرات سے زیادہ دوچار ہیں ۔ گلیشئرز کی سرعت کے ساتھ پگھلاؤ کے عمل سے وہاں مختلف قسم کی گلیشئرز جھیلیں (Glacial Lakes) معرض وجود میں آئی ہیں۔ یہ جھیلیں اور متعلقہ گلیشئرز مسلسل نیچے کی طرف آرہی ہیں۔ جس کی وجہ سے ایک طرف تو گلیشئرز کے پگھلاؤ کے عمل میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف ان جھیلوں کے قریب گلیشئرز کی دیواریں پتلی ہونے کی وجہ سے ان کے پھٹنے اور سیلاب آنے کا خطرہ بتدریج بڑھ رہا ہے ۔ اس عمل کو Glacial Lake Outburst Flood (GLOF) بھی کہا جاتا ہے ۔

پچھلے دو تین دہائیوں میں ان گلیشئرز جھیلوں کی تعداد میں اضافہ ہو چکا ہے۔ ان کی وجہ سے قراقرم، ہندوکش ، ہمالیہ ریجن میں GLOFواقعات کا اضافہ بھی ہو رہا ہے ۔

GBریجن میں بھی مختلف گلاف کے حادثات رونما ہو رہی ہیں ۔ حال ہی میں عطاء آباد جھیل کی ظہور پذیری اور اشکومن وغیرہ کی جھیلوں کے بننے سے اس بات کی تصدیق کی جاسکتی ہے کہ ان علاقوں میں گلیشئرز کے پگھلاؤ ں کے عمل میں تیزی واقع ہو رہی ہے ۔

اس ضمن میں حال ہی میں حسن آباد ہنزہ میں واقع شسپر گلیشئرز کے پگھلاؤ اور اس کی جھیل کے حجم میں اضافہ اور اس کی حرکت کی وجہ سے ممکنہ سیلاب کے اثرات کا مطالعہ کرنے کیلئے قراقرم یونیورسٹی کے ریسرچ گروپ نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ۔ راقم بھی اس ٹیم میں شامل تھا جس میں آئی مارک کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نظامی اور شعبہ ماحولیات کے اساتذہ اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی ۔ اس مطالعے کی بنیاد پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا گیا ہے ۔ یہ مضمون اس تحقیقی مقالے سے ماخوذ ہے ۔

حسن آباد ہنزہ علی آباد سے ملحق ایک چھوٹا گاؤں ہے جو پاکستان کے شمال گلگت بلتستان ریجن میں واقع ہے ۔ حسن آباد نالہ شسپر گلیشئر سے نکلتا ہے اور بالآخر دریا ہنزہ میں مل جاتا ہے ۔ یہ علاقہ ہنزہ کی وادی میں پن بجلی کے پیداوار کے حوالے سے انتہائی اہم ہے ۔ اس وقت اس نالے پر حسن آباد پاور ہاؤس پیداوار 1200کلوواٹ ، نارویجن ، 700کلوواٹ چائنیز یونٹ اور 2000کلوواٹ ڈیزل پاور ہاؤس بنائے گئے ہیں۔ اس نالے کی اونچائی سطح سمندر سے 7700فٹ سے لے کر 2000فٹ تک ہے ۔ یہاں اوسطاً مقدار تقریباً 125سنٹی میٹر اور درجہ حرارت اوسطاً 11ڈگری سینٹی گریڈ ہے ۔

اس گلیشئرز کے سیٹلائٹ خاکے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ مئی 2018تک گلیشئرز(شسپر اور موچودر) زیادہ اپنی جگہ پر ساکت اور متوازن حالت میں تھے ۔ لیکن جولائی 2018کے دوران ان گلیشئرز میں غیر معمولی حرکت دیکھی گئی ہے ۔ جولائی 2018میں گلیشئرز کے گرد و نواح میں کوئی واضح جھیل نہیں دیکھی گئی ہے تاہم چارمہینوں میں نومبر 2018کے دوران ایک بڑی جھیل نظر آئی ہے ۔ شسپر گلیشئرکی اس غیر معمولی حرکت کی وجہ سے حسن آباد نالہ سے پانی کی روانی بھی بند ہوگئی ہے ۔ شسپر گلیشئر اور اس کی حرکت کی وجہ سے بننے والی جھیل اور اس کے ممکنہ پھٹاؤ اور سیلاب (GLOF)کا جائزہ لیا گیا اور اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا تا ہے کہ گلیشئر کی موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے آئندہ گرمی میں گلیشئرز کے مزید پگھلاؤ اور ممکنہ جھیل کے پھٹاؤ کے عمل سے سیلاب کی آمد (GLOF) ممکن ہے ۔ اس سیلاب سے حسن آباد نالے کے ارد گرد آباد ی اور لوگوں کے کھیت کھلیان سمیت املاک کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ گلاف کی صورت میں ممکنہ نقصانات سے بچنے کیلئے درج ذیل تجاویز پیش خدمت ہیں۔

(۱) شسپر گلیشئر کی مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ اس میں کوئی تبدیلی کو بروقت دیکھا جاسکے اور لوگوں کو بر وقت اطلاع دی جاسکے ۔
(۲) گلیشئرز کی مانیٹرنگ اور وارننگ سسٹم کے قیام بھی ضرورت ہے ۔ اس ضمن میں جامعہ قراقرم ، پاک فوج GBمیں متعلقہ سرکاری محکموں ، محکمہ موسمیات نیشنل جیالوجی سنٹر وغیرہ کے ساتھ مل کر اس نظام کے قیام میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

(۳) حسن آباد اور گلیشئرز سے متصل آبادیوں کی تربیت کی ضرورت ہے تاکہ خدانخواستہ گلیشئرجھیل کے پھٹنے کی صورت میں سیلاب سے جانی و مالی نقصانات سے بچاؤ کیا جا سکے ۔

(۴) مختلف تحقیقی اور تعلیمی اداروں اور حکومتتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی بھی ضرورت ہے ۔ اس ضمن میں کثیر تعداد میں مختلف ادارے گلیشئرز ، ماحولیاتی اور آب و ہوا کی تبدیلیوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ایسے ادارے مل کر ان گلیشئرز پر تحقیق کر سکے ۔ اس ضمن میں جامعہ قراقرم اور آئی مارک بشمول ریسرچ گروپ برائے تحقیق تبدیلی آب و ہوا اور گلیشئرز پگھلاؤ ایک کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

(۵) جامعہ قراقرم ہنزہ کیمپس میں خصوصی طور پر ایسے سیمینار اور ورکشاپ شروع کرائے جن کے ذریعے طلبہ و طالبات اور علاقے کے لوگوں کے اندر’’GLOF‘‘کے وجوہات اور اس کے ممکنہ نقصانات سے بچنے کی تدابیر کے بارے میں آگاہی پیدا کی جاسکے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments