کالمز

سرکاری ملازمین اور ہماری ترقی

دنیاء میں بہت کم ریاستیں اور حکومتیں ہیں جو ہر عمل میں اپنے لئے گڑھا کھودتی ہیں۔ گلگت بلتستان کی ہر حکومت سفارش ، رشوت، اقرباء پروری اور فرقے کی بنیاد پر لائن ڈیپارٹمنس میں گنجائش دیکھے بغیر سرکاری ملازمتیں بانٹتی رہی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس وقت گلگت بلتستان میں مستقل و غیر مستقل سرکاری ملازمین کی تعداد لگ بھگ پچاس ہزار ہے۔ باقی دنیا میں سرکاری ملازمتوں کی شرح دو یا تین فیصد ہے گلگت بلتستان میں یہ شرح بیس سے پچیس فیصد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کا غیر ترقیاتی بجٹ ترقاتی بجٹ کے مقابلہ میں دوگنا زیادہ ہے۔ یعنی سارا پیسہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، ٹی اے ڈی اے اور الاونسسز میں جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کے یہ تمام سرکاری ملازمین اپنی تنخواہوں میں اضافہ سمیت چھ مطالبات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ حکومت کو کئ مہنے قبل پیش کرچکے تھے جس پر حکومت نے ان کے یہ مطالبات پورے کرنے کا وعدہ کر لیا تھا۔ مگر بعد ازاں حکومت نے جب حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ ان مطالبات کو منظور کرنے کی صورت میں غیر ترقیاتی بجٹ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اس لئے حکومت اپنے وعدے سے منحرف ہوگئ ۔ مطالبات کو پس پشت ڈالنے کی وجہ سے تمام سرکاری ملازمین نے سی ایم ہاوس کے باہر چنار باغ کے مقام پر تین روزہ دھرنا دیا ۔ ان پر آنسو گیس شیلنگ اور لاٹھی جارج بھی کی گئ اور بعد ازاں حکومت نے ان کو وارننگ دی تھی مگر اس دوران مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان ہوا ۔ ان مذاکرات میں کیا وعدے وعید کئے گئے ہیں وہ تاحال معلوم نہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس سارے تماشے میں قصور کس کا ہے؟ یقننا پچھلی اور موجودہ حکومتوں اور ذمہ دار اداروں کا ہے جنہوں نے گلگت بلتستان میں پرائیوٹ سیکٹر کو مضبوط کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بجائے سرکاری اداروں کو ملازمتیں دینے کا ذریعہ بنایا ہے۔ جس کا خمیازہ اب سب کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اب ملازمین کے مطالبات پر عمل کرنے کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ ملازمین اگلے مرحلے میں کام چھوڑ دینگے تو مزید مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ سرکاری اداروں کی کارکردگی پہلے ہی صفر ہے اب اس مہم کے بعد حکومت اور عوام کو مزید تکلیفات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر سارا بجٹ جائے گا جبکہ ترقی کے لئے کچھ بھی نہیں بچے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر ترقیاتی اور ترقیاتی بجٹ میں توازن لایا جائے۔ پرائیوٹ سیکٹر کو فروغ دیکر روزگار کے نئے مواقع پیدا کئے جائیں تاکہ لوگ روزگار کے لئے صرف سرکار کی طرف نہ دیکھیں۔
حالیہ ملازمین کے دھرنے سے سبق سیکھا جائے۔ حالیہ دھرنے سے سبق سیکھ کر مستقبل کے لئے اچھی پالیسیاں بنائی جاسکتی ہیں۔ مگر ہمیں یقین ہے کہ ہمارے ہاں سبق سیکھنے کی زحمت نہیں کی جائی گی۔ غلطی پر غلطی کا عمل جاری ہے اور اسی کو اپنے لئے گڑھا کھودنا کہا جاتا ہے۔ گڑھے میں ہمیشہ وہ انسان خود گر جاتا ہے جو گڑھا کھودنے کا ماہر ہوتا ہے۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: