کنٹریکٹ ملازمین کا مسلہ اور حکومت کی نااہلی

اعجاز عالم

سیاست کو اکثر و پیشتر منفی انداز سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا عمل کا نام ہے جس کا ارتقا کئ صدیوں پر محیط ہے۔ انسان نے اپنی بقا کیلئےجو خون ریزی، ظلم وزیادتی،جہالت،طاقت کا غلط استعمال سے انسانی تہذیب یا انسانی معاشروں کو جو ناتلافی مجموعی نقصان پہنچایا اس غیر انسانی طریقہ جہالت کا خاتمہ کےلے جدت پسند انسانی سوچ نے سیاست کا آغاز کیا۔ سیاست کا اولین مقصد بقاءنسل انسانی کومہذبانہ انداز سے جاری رکھنا اور تشدد کا خاتمہ تھا۔دور جدید میں سیاسیات کی کئی شاخیں وجود میں آئی اور جس کےنتیجے میں معاشرے مہذب بھی بنے۔

آج ہم جس معاشرے کا حصہ ہے اور جس طرزِ حکومت کے زیرِ انتظام زندگی گزار رہے ہیں یقینا اس میں خامیاں توہیں، اس کے ساتھ ساتھ یہ یہ بھی سمجھا اشد ضروری ہے کہ کسی حکومت کی طرزِ سیاست کی مثال اگر “دریا پر بند باندھنے” کے مترادف ہو تو سمجھ آتی ہے کہ یہ طریقہ نامناسب اور خطر ناک حد تک نقصان دہ ہے۔اس کے برعکس اگر دریا کے بہاؤ کی سمت قدر کم جتن کرکے بآسانی دریا کا رخ موڈنا مقصود ہو تو یہی طریقہ ہے جس سے سیاست کے ثمرات سے عوام بعیر کسی تکلیف کے مستفید ہو سکتے ہیں۔

موجودہ حکومت کا “کنٹریکٹ ملازمین” کے بارے جو پالیسی ہے نہایت ناقص اور خامیاں سے بھرپور ہے۔ کنٹریکٹ ملازمین کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک روا ہے اس میں بہت سے ایسے پوشیدہ کردار ہیں جو زیر بحث لانی چاہیے ۔

سرکاری کنٹریکٹ ملازمین سب سے پہلے جیتے جاگتے انسان ہیں،یہ ملازمین بحیثیت انسان بے شمار حقوقِ کے مالک ہیں جو قانون میں درج ہیں اور بحیثیت سرکاری ملازمین چاہے وہ کنٹریکٹ ہو یا کنٹیجنٹ بہت سے معاملات میں قانون ان کے ساتھ ہمیشہ کھڑی ہوتی ہیں لیکن آفیسر بالا اس سے ناواقف نظر آتے ہیں، اور اپنے زیر کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک دکھا جاتا ہے ۔اکثر دیکھا گیا ہیں کہ قابلِ قدر عدالتوں میں آفیسران بالا کی ایسی سرزنش ہوتی ہے کہ ان کو اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کی ہمیشہ ضرورت ہے۔

وہ کنٹریکٹ ملازمین جو مختلف سرکاری اداروں میں اپنی خدمات سرانجام دہے رہے ہیں۔ ان میں سے اکثریت جہاں تک میں جن کو جانتا ہوں، ملک کے اعلیٰ اداروں سے فارغ التحصیل قابل لوگ ہیں جو کم وبیش پندرہ سے بارہ سالوں سے اپنی خدمات سرانجام دے دے ہیں۔المیہ تو یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کی عمریں اب سرکاری ملازمت کے لے گزر گئی ہیں ۔ان کے ساتھ جو سب سے بڑا اور برا غیر انسانی سلوک جن سرکاری اداروں کے اعلیٰ آفیسروں نے روا رکھا ہے اس کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ..ان کو سرکاری اداروں کے آفیسر اعلٰی نے زیر دستخط آفس آرڈر کے ذریعے ہرسال کنٹریکٹ بحال کرتے لیکن ساتھ ساتھ ان کو یہ تعنہ بھی دیتے ہیں کہ یہ لوگ چور دروازے سے آییں ہیں۔جب چور دروازے سے آییں ہیں تو کیا ان اعلیٰ افسران جن کی ان کے کنٹریکٹ پر دستخط موجود ہیں کیا انھوں نے کوئی تحقیق نہیں کی وہ کیا سو رہے تھے؟

حکومت سے پرزور اپیل ہے کہ تمام کنٹریکٹ اور کنٹیجنٹ ملازمین کو ریگولر کرکے ان کے گھروں کے بند چولہوں کو کھول دیا جائے۔اگر ایسا نہ ہوا تو مذید خو کشیاں ہونگی .

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments