خواتین کا سیاست میں ضروری کردار، اور گلگت بلتستان کی خواتین

تحریر: کرن قاسم 

آئین پاکستان کو بلاشبہ یہ شرف حاصل ہے کہ اس میں مملکت کے تمام تر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ، سمیت اقلیتی برادری کی بنیادی حقوق کو مطلوبہ حد تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ اسی لئے تمام حقیقت پسند معاشرتی دانشورطبقے 1973 کے اس آئین کو وفاق پاکستان کی اتحاد و ایکا کی مضبوط علامت و زنجیر سمجھتے ہیں۔ میرا بھی اس نظریئے پر غیر متزلزل ایمان ہے کہ وفاق اور صوبائی اکائیوں کو متحد اور پیوستہ رکھنے والے اس آئین پاکستان پر بالغانہ نظر رکھنے والے آئینی ماہرین کے مطابق اس آئین کے اندر تمام سماجی طبقات کے بینادی حقوق کی ضمانت دینے کے ساتھ ساتھ مشرقی معاشرے کے اندر انتہائی گہرائی سے موجزن خواتین کو حاشیائی( marginal person)فرد بنانے کےرجحان کے مناسب علاج کیلئے مخصوص نمائندگی دینے کا نظریہ وضاحت و صراحت کے ساتھ موجود ہے جس کا بنیادی مقصد، پارلیمان کیلئے منعقد عام  انتخابات میں خواتین کی مناسب تعداد کی کسی بھی ممکنہ کمی کو پورا کرنا ھے تاکہ خواتین کی ایک مناسب تعداد ایوان میں بہرصورت موجود رہیں اور صنف نازک سے متعلق معاملات میں اپنی رائے اور احتجاج کو بروقت یقینی بنا سکیں۔ میں بحثیت صحافت کی ایک ادنی طالبہ اپنی مقدور بھر فکری اور علمی بساط کے مطابق پاکستان میں خواتین سے وابستہ امور و منصوبہ بندی کے نشیب و فراز نظر رکھنے کی حقیر سی کوشش جاری رکھنے کی سعی کرتی رہتی ہوں ۔ میں جب تحریک پاکستان کے مرحلے پر مسلمان خواتین کا کردار دیکھتی ہوں تو تب بھی مجھے اس مرحلے پر خواتین تحریک آزادی کے گمنام مجاہدین کی صفوں میں نظر آتی ہیں ۔ یہ صورتحال اس مشرقی معاشرے میں “مردانہ تسلط male dominance ” والے رجحان کی غمازی کرتی دکھائی دیتی ہے۔   مگر صد سلام و آفرین ان تمام ماوں اور بہنوں کو جنہوں نے استقامت کیساتھ ، صبر و استقامت کے ساتھ اپنی جدوجہد ہرقیمت پر جاری رکھا اور وطن عزیز کو آزادی جیسی بیش قیمت نعمت سے مالا مال کردینے میں اپنا کردار توانا انداز میں ادا کردیا ۔

 آزادی کے مرحلے کے بعد بقائے آزادی کیلئے درکار قربانیوں کا فریضہ بھی خواتین وطن گاہے بگاہے ادا کرتی چلی آرہی ہیں۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کے معاشرتی رول social role اور صنفی فرق و امتیاز Gender discriminations کے بارے میں رجعت پسندانہ زاویئےconservative approaches آہستہ آہستہ مثبت انداز میں تبدیل ہورہے ہیں جوکہ خواتین کی بحالی اور ترقی کی جانب سفر میں ایک مثبت قدم ہے اور اس امر کا بین ثبوت ہے کہ قومی سیاسی  دھارے  national   mainstream politics  میں خواتین آج پہلے کی نسبت واشگاف اور ببانگ دہل انداز میں اپنے حقوق کا بھر پور انداز میں دفاع کر تے ہوئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی آواز اٹھا رہی ہیں اور بلاشبہ یہ پاکستان جیسے روائتی معاشرے میں، جہاں خواتین کل آبادی کا ۵۳ فیصد ھیں، کیلئے ایک  اطمینان بخش عمل ہے۔ اس تمام تر صورتحال کے حوالے سے میری کم فہم و دانست کے مطابق خواتین کے سماجی رول میں تبدیلی کے پیچھےجو محرکات کارفرما ہیں ان میں خواتین پارلیمنٹیرین کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔  ملک کے اندر خواتین کے حقوق سے متعلق جاری جدوجہد میں جہاں مقامی کوشش و اقدامات کارفرما ہیں وہاں بین الاقوامی غیر سماجی تنظیمات جسے عرف عام میں NGOs کے نام سے پہچان مل چکی ہے کا بھی اہم رول ہے ۔ مگر مجھے بحثیت ایک رکن جمیعت خواتین ، خواتین کے حقوق کی جنگ لڑنے والی NGOs کی خوشنما نعروں اور ترجیحات سے متعلق کئے جارہے بلند و بانگ دعوؤں پر ہمیشہ تحفظات رہی ہیں کیونکہ ترقی نسواں کے یہ عملبردار مغربی تہذیب و تمدن کے زیر اثر ترجیحاتی ایجنڈے پر کام کرتی ہیں اور اس کا منفی اثر خواتین کے جائز حقوق کے بارے اٹھائی جانے والی آواز پر بھی ہوتا ہے ۔ کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جائز کام کو ناجائز انداز میں میں پایہٴ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرنا ازخود ایک نامناسب عمل ہے۔

مجھے صحافت کے شعبے سے وابستگی کے باعث اکثر و بیشتر مختلف سماجی نظریات و احساسات کو قریب سے دیکھنے اور محسوس کرنے کا اتفاق عموما زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ مجھے عوام الناس کے جن رجحانات سے زیادہ پالا پڑتا ہے ان میں زیادہ تر غیر حقیقی شبہات اور اندازوں کے مرہون منت تشکیل پاتے ہیں تاہم اسلامی معاشرے کے خواتین کے اندر مغربی انداز فکر و عمل پیدا کرنے کی کوشش عالمی میڈیا اور کچھ اندرونی اور بیرونی سرگرمیوں کے زریعے نفوذ کرنے کی براہ راست یا باالواسطہ کرنے کے شواہد ہمیشہ بےنقاب ہوتے رہتے ہیں کیونکہ یہ ترجیحات ، افعال اور اعمال اسلامی معاشرتی سانچوں میں مطابقت نہیں رکھتے اور یوں متنازعہ بن جاتے ہیں اور تنازعات کی یہ منفرد خاصیت ہوتی ہے کہ جب یہ ابھرتے ہیں تو ایک ہلچل کا سماں پیدا ہوتا ہے جوکہ معاشرتی ساز اور آواز میں سرایت کرتے کرتے بالاخر عوامی رائے تشکیل دینے کا محرک و موجب بن جاتی ہے جسے  عام لفظوں میں رائے عامہ public opinion کہا جاتا ہے۔  رائے عامہ وہ طاقت رکھتی ہے جو سماجی اقدار اور معیارات کا تعین کرنے میں اثر و رسوخ رکھتی ہے ۔  پاکستانی معاشرے کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین سے متعلق امور خواہ ان کا تعلق خانگی زندگی سے ہو یا پھر معاشرتی ہمیشہ ہی رائے عامہ کی کجروی کا شکار ہوکر مشکلات و تنازعے کی ذد میں رہتی چلی آ رہی ہے جس کی واضح جھلک میدان سیاست کے انتخابی عمل میں آزادی کے 73 سال گزرنے کے باوجود بھی بھر پور نمائندگی کا نہ ھونا اور بذریعہ مخصوص نشستوں کے خواتین کو نمائندگی دینا دراصل خود ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ھے اور یہ اسلامی جمہوری پاکستان میں خواتین کے حوالے سے ایک بہت بڑے معاندانہ رویےّ کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتا ھے۔

چونکہ ھمارا معاشرہ ان چند معاشروں میں شامل ہے جہاں مرد اقلیت میں اور خواتین اکثریت میں ہونے کے باوجود  عجیب یک طرفہ تماشہ کا شکار ہے اور یہاں کی اکثریت (خواتین) تمام شعبہ ھائے زندگی میں نہ صرف اقلیت کے طور پر محتاج محتاج اور دست نگر ہی دکھائی دیتی ہے اور میں اس حوالے سے اگر یہ کہوں تو ناانصافی ہرگز نہیں ہوگی کہ پاکستانی خواتین نہ صرف اسلامی تعلیمات کے تحت حاصل حقوق سے محروم رہتی چلی آرہی ہیں بلکہ مسلسل استحصال کا بھی نشانہ ہیں ، جس کو دور کئے بغیر تعمیر و ترقی کا خواب سراب سے کم نہیں کیونکہ مستحکم و خوشحال معاشرے کی بنیادیں خواتین کے جاندار کردار کے بنا تشکیل پانے کا خواب ہمیشہ سے تاریخ میں ناکامی کی موت آپ مرچکا ہے ۔

پاکستان کی سیاسی افق کا جائزہ لیا جائے اور تاریخ کا بے لاگ مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بے شمارقومی سیاسی پارٹیاں وجود میں آئیں ہیں لیکن سب کی بنیاد رکھنے کااعزاز کسی بھی تیسری دنیا کے روائتی معاشرے کی طرح خواتین کے حصے میں نہ ہرگز آیا۔ تاریخ کے جھروکوں سے عیاں ہوتا ہے کہ جب ایوبی آمریت اپنے عروج پر تھی تو محترمہ فاطمہ جناع کو منصب صدارت کے لئے ایوب خان کے مقابلے پر لانے کی سعی شروع ھوئی ۔ محترمہ فاطمہ جناح خود تو کبھی بھی عملی سیاست میں براہ راست طور پر فعال نہیں رہی لیکن ان پر صدارتی الیکشن کے حوالے سے جو انحصار کیا گیا وہ ان کی بطورخاتون شخصیت کے اعتراف میں ہرگز نہیں البتہ وہ صدارتی انتخاب کیلئے اس باعث  چنی گئی تھیں کہ وہ قائد اعظم کی ھمشیرہ تھیں۔ لیکن یہ امر بھی تاریخ کے مغز میں بطور یاداشت موجود ہے کہ فاطمہ جناح کو الیکش کے مرحلے میں بطور ہمشیرہ قائد جو ادب و احترام ملنا چاہئے تھا وہ کسی بھی طور انہیں نہ مل سکا اور اس کی مرکزی وجوہات میں سے ایک تفریق صنف Gender based کا بھی تھا ورنہ محسن قوم خاندان کے ساتھ بے لحاظی کی داستانیں اس کے سوا دردناک ہرگز نہیں ہوسکتی ہیں اور وقت کے جہاندیدہ مبصرین  مادر ملت کے ساتھ الیکشن کے دنوں میں روا رکھے گئے سلوک کو ھماری تاریخ کے ایک شرمناک باب سے تعبیر کرتے ہیں۔ اپنی ذاتی انا کی تسکین اور مفادات کے تحفظ کیلئے آئینی اور اخلاقی حدود و قیود سے بغاوت کرنے کی سرشت سے لبرلیز کچھ حلقوں نے جو کہ مشرقیت اور اس کے اقدار و اعیار کے علمبرداری کے دعووں میں صف اول پر دکھائی دیتے ہیں نے یہ  شرمناک حرکت بھی کر ڈالی کہ   گوجرانوالہ کے بازاروں میں کتیا کے گلے میں فاطمہ جناع کے نام کی تختیاں لٹکا  توہین آمیزی کی اور اس مکروہانہ انداز میں مادر ملت اورانکے بھائی قائداعظم کی عظیم خدمات کا اتنا گھٹیا صلہ دیا۔

میدان سیاست میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کی دوسری قابل ذکر خاتون محترمہ بے نظیر بھٹو تھیں جنکےعلاوہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی بھی خاتون کسی سیاسی پارٹی کی سربراہ نہ بن سکیں ۔انکے سیاسی کردار، پاکستان کے لئے انکی خدمات اور ایک روائتی مردانہ معاشرے میں ان کا دو دفعہ منصب وزیر اعظم سنبھالنا بلا شبہ ایک روشن مثال ھے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اپنی سیاست بچانے اور چلانے کے لئے انہیں بھی استعارے’ کے طور پر مردانہ نام  ‘بھٹو’ کو زندہ رکھنا پڑھا اور انکے ھر جلسے کی شروعات اور اختتام ‘کل بھی بھٹو زندہ تھا،آج بھی بھٹو زندہ ھے’ ، ہرگھر سے بھٹو نکلے گا جیسے مردانہ توصیف سے لبریز نعروں کی صورت میں ہی ھوتا تھا۔  قومی دھارے کی سیاست میں قائدانہ حثیت کا حامل سیاسی نظریہ و بصیرت سے مالامال کوئی خاتون شخصیت بے نظیر بھٹو کی وفات کے دس سال بعد بھی قومی سیاسی دھارے میں منظر عام پر نہیں آسکی جو بے نظیر کے عدم موجودگی کے سبب خواتین کے بارے میں سیاسی شعبے کے اندر پیدا خلا کو پر کیا جاسکے اور نہ جانے یہ سلسلہ مستقبل میں کب تک جارہی رہے گا اس بارے حتمی رائے اس وقت قائم نہیں کی جاسکتی ہاں البتہ موجودہ سیاسی منظر نامے میں مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کے جیل جانے کے باعث مریم نواز کا سیاسی کردار تیزرفتاری کے ساتھ واضح ہونے کے امکانات ہیں اور مستقبل میں مریم نواز ممکنہ طور پر مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کے ممکنہ مواقعوں سے فیض یاب ہوسکتی ہے ۔

اگر گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ پر نگاہ دوڑائی جائے تو یہاں کی سیاسی صورتحال پر بھی ملک کے مجموعی سیاسی منظرنامے کی چھاپ نظر آتی ہے اور یہاں کی خواتین کی سیاست بھی مردوں کی رحم کرم کے مرہون منت ہی دکھائی دیتی ہے ۔

 مجھے اس حقیقت کے تسلیم کرنے میں ہرگز تامل نہیں کہ پاکستانی معاشرہ آج بھی باوجود مختلف سطحی کوششوں کے سیاست میں خواتین کے متحرک کردار کو تسلیم کرنے میں فیاضی کا مظاہرہ کرنے وسعت النظری سے تاحال محروم نظر آرہا ہے اور اس کا بین ثبوت یہ ہے کہ پاکستانی سیاست آج بھی باقی تمام اداروں اور شعبہ ہائے زندگی کی طرح خواتین کے حوالے سے بلخصوص انہیں  مسائل اور تضادات کا شکار ھے جن سے نمٹنے کیلئے آئین میں مخصوص نشستوں کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ مختلف متحارب سیاسی رہنماؤں کا مخالف پارٹی سے وابستہ خواتین پر الزامات در الزامات، کردار کشی، قابل اعتراض الفاظ کا استعمال اور طعن و تشنیع سے دراصل جہاں اخلاقی گراوٹ کی تصویر نمایاں ہوتی ہے وہاں معاشرے میں خواتین کے اصل مقام کے بارے عمومی رجحان و ترجیحات کا بھی تعین ھوتا ھے اور یہ پہلے سے زوال پزیر  اخلاقی قدروں کے انحطاط اور روبۂ زوال ھونے کی نشانی بھی کرتا ہے۔  اس کے علاوہ معاشرے کے اندر خواتین کے ساتھ روا رکھے گئے مظالم کے مختلف رنگ و روپ دراصل اجتماعی معاشرتی رویوں کے عکاس ھیں جو مختلف شکلوں میں نمودار ھوتے رھتے ھیں ۔ عزت کے نام پر قتل خواتین کے ساتھ زیادتی اور انہیں کسی بھی سیاسی عمل سے بالواسطہ و بلاواسطہ دور رکھنا کسی طور بھی ایک مہذب معاشرے کا وطیرہ نہیں ھو سکتا۔ دوسری طرف مخصوص نشستوں پر منتخب ھونے والی خواتین پر بالخصوص یہ بھاری زمہ داری عائد ھوتی ھے کہ وہ زاتی مفادات، مخالفت اور رنجش سے بالا تر ھو کر، ، تمام حاصل یا فراھم کردہ مواقعوں کو خواتین کی بہتری کے لئے استعمال کریں اور اعلی اخلاقی اور عملی کردار سمیت مناسب قانون سازی جوکہ اسلامی نظام معاشرت سے مکمل ہم آہنگ ہو، کے زریعے پاکستانی معاشرے میں خواتین کی سیاسی حقوق کو یقینی بنانے کا زینہ بنیں اور کسی بھی  منفی طریق عمل کے زریعے باقی خواتین کے لئےسیاسی راستے محدود و دشوار گزار بنانے کا سبب و موجب نہ بنیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments