گلگت اور سکردو میں اعصاب شکن لوڈ شیڈنگ سے نظامِ زندگی مفلوج ہے، سعدیہ دانش

گلگت (پ ر) پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی سکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ گلگت اور سکردو میں اعصاب شکن لوڈ شیڈنگ سے نظامِ زندگی مفلوج ہوچکا ہے۔ کا نام و نشان تک نہيں ہے جبکہ حفیظ سرکار سمارٹ میٹرز کے ذریعے کمیشن کے بہانے تلاش کر رہی ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام اس صدی کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ حفیظ سرکار نے پھر سے اپنے من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے اور اپنا کمیشن پکا کرنے کے لیے بجلی کا مصنوعی بحران پیدا کیا ہے۔ لوگ اندھیروں میں پتھر کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور صوبائی حکومت کرپشن کے نت نئے طریقے دریافت کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

گلگت بلتستان میں بدترین بجلی بحران پر وزیر اعلیٰ اور وزراء کی خاموشی لمحہِ فکریہ ہے بجلی بحران کے خاتمے کے نام پر جو جنریٹر لائے گئے ہیں اس کے پیچھے بھی کرپشن اور کمیشن کی داستان چھپی ہوئی ہے۔اور مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ مزکورہ جنریٹر استعداد سے کم بجلی پیدا کر رہے ہیں اور ان کے ڈیزل کی آڑ میں جو کرپشن کی جارہی ہے اس میں سے حکومت اپنا حصہ وصول کر رہی ہے ۔اسی طرح سمارٹ میٹرز منصوبہ بھی اپنے منظورِ نظر افراد کو نوازنے اور اپنے کمیشن کا حصہ بٹورنے کی منصوبہ بندی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اہم منصوبوں میں اپنی کرپشن کی خاطر معیار پر سمجھوتہ کر رہی ہے جس کی وجہ سے آئے روز لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے.گلگت اور سکردو میں بجلی کی اعصاب شکن لوڈ شیڈنگ وزیر برقیات کی ناکامی کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے۔ متعلقہ وزیر کو فوری طور پر استعفی دے کر گھر جانا چاہیے۔

گلگت اور سکردو میں مکمل طور پر اندھیروں کا راج ہے اور متعلقہ محکمے سوئے ہوئے ہیں۔طلبہ,کاورباری افراد سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔صوبائی حکومت نہ صرف عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے بلکہ الٹا لوڈ شیڈنگ کا عذاب مسلط کیا گیا ہے۔ اتنی شدید لوڈ شیڈنگ کے باوجود حکومتی اراکین کی خاموشی معنی خیز ہے۔ انہیں صوبائی حکومت کی وکالت کرنے کے بجائے عوام کی ترجمانی کرنی چاہئے اور مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ایسا لگتا ہے کہ لاقانونیت کا دور دورہ ہے اور عوام کے مسائل پر توجہ دینے والا کوئی نہیں ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments