بلیک ہول فار سٹوڈنٹس 

شاہ عالم علیمی

جب سے اہل سائنس نے گلیکسی ایم ستاسی میں ایک بلیک ہول کی تاریخی تصویر کھینچی ہے دنیا بھر میں اس پر بات ہورہی ہے۔ کوئی اسے سائنس کی اہم کامیابی سے تعبیر کررہا ہے تو کوئی اس کام کو انجام دینے والے سائنسدانوں کو خراج تحسین پیش کررہا ہے۔ بعض منچلے ایسے بھی ہیں جو اس سے مزاح کا پہلو نکالتے ہوئے ہنسی مذاق کا کام نکال رہے ہیں، کسی نے اسے ڈوناٹ donut  کی تصویر کہہ جعلی قرار دیا ہے تو کسی نے جلتے سیگریٹ کو منہ سے لگاکر قریب سے تصویر کھینچ کر ‘ثابت’ کیا ہے کہ یہ تصویر اس کی سگریٹ کی ہی ہے۔

ایک اہم بات پاکستان جیسے مالی اور سائنسی میدان میں ترقی پذیر ملک کی بھی یہاں نظر ائی۔ پاکستانی نوجوانوں نے بھی اس پر دل کھول کر بحث و مباحثہ شروع کردیا ہے؛ جس سے میں نے دو باتوں کا اندازہ لگایا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے بہت دلچسپی ہے لیکن بد قسمتی سے ملکی تعلیمی نظام بارہویں صدی عیسوی سے مماثلت رکھتا ہے۔ غریب اکثریت کو جان بوجھ کر جدید تعلیم سے دور رکھا جارہا ہے۔ دو فیصد اشرافیہ کی اولاد کے لیے الگ تعلیمی نظام ہے جہاں ان کو انگریزی میڈیم میں جدید اسلوب کے تحت تعلیم مہیا کیا جارہا ہے۔ جبکہ اٹھانوے فیصد غریب اکثریت کو بیالوجی Biology  میں مذہبیت Theology پڑھایا جارہا ہے۔ ان کو کس نے کیا کہا کے بجائے کون کون ہے سیکھایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر کے نوجوان سائنس و ٹیکنالوجی سے دلچسپی رکھنے کے باوجود ان علوم سے کوسوں دور ہیں۔ تعلیم حاصل کرکے دریافتیں اور ایجادات کرنے کے بجائے مغالطے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ سائنسی سوال کا جواب بھی مذہبی انداز سے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ سوال گندم جواب چنا کی صورت میں نکل رہا ہے۔

اپنے پچھلے مضمون میں میں نے بلیک ہول کے موضوع پر بات کی تھی۔ چند مشتاق نوجوانوں نے اس کے بعد بلیک ہولز کے حوالے سے اس قسم کے سوالات پوچھے ہیں؛

۱- کیا بلیک ہول کائینات کو ڈیلیٹ کرسکتا ہے؟

۲- کیا اب ہم بلیک ہول کے زریعےدوسری دنیا تک جائیں گے؟۳-

تم کیسے مسلمان ہو بلیک ہول پر یقین کرتے ہو ایسا کچھ نہیں ہے یہ سائنسدان جھوٹ بول کر لوگوں کو بےوقوف بناتے ہیں

۴- اگر تو بلیک پچاس بلین نوری سال کے فاصلے پر ہے تو پھر ہمیں اس کی تصویر نکالنے کے لیے اتنے ہی سال کا انتظار کرنا پڑےگا یہ تصویر جھوٹ ہے

۵- اگر بلیک ہول نظر ہی نہیں اتا تو پھر تصویر کیسے نکالی؟

۶- بلیک ہول کیسے بنتا ہے؟ اور اس کے اندر کیا ہے؟

۷- کیا بلیک ہول ختم ہوسکتا ہے اگر ہوسکتا ہے تو کیسے؟

۸- بلیک ہول کن چیزوں کو اپنے اندر کھینچ لیتا ہے؟

۹-اگر بلیک ہول ختم ہوجائے تو اس کا ہماری زمین پر کیا اثر پڑےگا؟

۱۰- اگر میں  بلیک ہول میں داخل ہوجاوں تو کیا ہوگا؟

نوجوانوں کی اس دلچسپی کو مد نظر رکھ کر میں نے سوچا کہ اج ان کے ان سوالات کے مختصر جوابات دئیے جائیں؛

بلیک ہول سائنسی افسانہ Science Fiction نہیں بلکہ سائنسی حققت Science-fact ہے، ایک بلیک ہول کا اپنا وجود ہوتا ہےالبتہ اپنی فطرت میں وہ مافوق الفطرت ہوتا ہے۔

بلیک ہولز کا زکر سب سے پہلے جان مشیل John Michel نے 1783 میں کیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ کائینات میں ایسے ستارے ہوسکتے ہیں جن کی اسیکیپ ولاسٹی Escape velocity ہمارے سورج سے کئی گنا زیادہ ہوگا؛ اس صورت میں کوئی بھی چیز بشمول روشنی ان کی گریویٹی Gravity سے بچ کر نکل نہیں سکتا۔ جان نے ایسے ستاروں کو ڈارک سٹارز Dark Stars کا نام دے دیا جو کہ بعد میں بلیک ہول کہلائے۔

بلیک ہول کیسے بنتا ہے؟

کائنات میں ایسے ستارے اور دوسرے دیوہیکل اجسام پائے جاتے ہیں جن کا ماس ہمارے سورج سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے ایسے اجرام فلکی اپنی ہی گریویٹی کو برداشت نہیں کرپاتے اور اپنی گریویٹی میں گر جاتے ہیں اور بلیک  ہول بن جاتے ہیں۔ جس نقطے پر اس کا ماس گر جاتا ہے اسے سنگلریٹی Singularity کہا جاتا ہے، جبکہ بلیک ہول کے ‘دھانے’ کو جہاں سے یہ مختلف دوسرے اشیا کو نگل لیتا ہے ایونٹ ہورائزن Event Horizon کہا جاتا ہے۔ درحقیقت ایک بلیک ہول عام آنکھ یا دوربین یا ٹیلی سکوپ سے نظر نہیں اتا تاہم اس کا ایونٹ ہورائزن جہاں سے ریڈیشن اور مختلف زرات کا دخول و  اخراج ہوتا ہے نظر اتا ہے۔ حال ہی میں جس بلیک ہول کی تصویر کھینچی گئی یہ تصویر اس کے ایونٹ ہورائیزن کی ہے خود بلیک ہول کی نہیں۔بلیک ہول سے ریڈیشن کے علاوہ مختلف قسم کے زرات کا اخراج ہوتا رہتا ہے۔ وقت وقت کے ساتھ ساتھ اگر بلیک ہول کو مزید “خوراک” نہ ملے تو ظاہر ہے وہ اپنا ماس کھو دیگا اور ایک وقت میں پھٹ جائگا اور تباہ ہوجائیگا۔ تاہم ایک بلیک دوسرے بلیک ہول سے ٹکرانے کی صورت میں یا کسی دوسرے ستارے یا سیارے کو کھا جانے کی صورت میں اس کی عمر بڑھتی رہیگی۔بلیک ہول ہر اس چیز کو اپنی طرف کھینچ لیتا جو اس کے قریب آجائے۔بلیک ہول تباہ ہونے کی صورت میں ہماری کائینات کو ‘ڈیلیٹ’ نہیں کرسکتا۔ البتہ خود اس کے ریڈیس Radius یا اردگرد بڑی تعداد میں ریڈیشن اور زرات کا اخراج ہوگا۔ تباہ ہونے کے بعد بھی بلیک ہول کے اندر کا کوئی معلومات Information ہاتھ نہیں اتا وہ اس کے ساتھ ختم ہوجات ہے۔

ابھی تک اس بات کا علم نہیں ہوسکا ہے کہ بلیک ہول کے اندر کیا ہے، البتہ یہ بات واضح ہے کہ بلیک ہول کے اندر زمان و مکان کا وجود نہیں ہوتا ہے۔ وہ دونوں ختم ہوجاتے ہیں، ہم بلیک ہول کے زریعے کسی اور دنیا میں داخل نہیں ہوسکتے کیونکہ بلیک ہول کی اپنی ایک دنیا ہے۔ ایک بار کوئی چیز اس کے اندر جانے کی صورت میں پھر اسی طرح واپس نہیں اسکتا؛ کم از کم اج تک اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

زمین یا خلا سے  کسی اجرام فلکی کی تصویر اس سے خارج ہونے والی روشنی یا ریڈیشن یا شعاعوں Rays کی مدد سے کھینچی جاتی ہے جو اس سےخارج ہوتے ہیں۔ ہاں یہ بہت ممکن ہے کہ وہ بیس چالیس کروڑ سال پہلے ہی تباہ ہوچکا ہو اور ختم ہوگیا ہوتاہم اس سے خارج ہوئی ریڈیشن سفر کرکے اج یہاں زمین میں پہنچ چکی ہو جس کی مدد سے یہ تصویر کھینچی گئی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس نے مزید اشیا کو “ہضم” کرکے اور بھی بڑا ہوگیا ہو اور اج بھی اس کا وجود ہو۔

کائینات میں بے شمار بلیک ہولز ہیں روز بنتے رہتے ہیں تباہ ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی تباہی کا ہماری زمین پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ ہاں اگر ہمارے زمین یا کوئی اور ستارہ یا سیارہ کسی بلیک ہول کے قریب سے گزر جائے تو بلیک ہول اسے نگل جائےگا اور وہ بلیک ہول کا حصہ بن جائیگا۔

آج تک اس بات کا علم نہیں ہوسکا کہ جب اپ یا کوئی اسٹرونومر Astronomer یا کوئی سیاح کسی بلیک ہول میں داخل ہو تو کیا ہوگا، ممکن ہے کہ اپ واپس آکر ہمیں بھی بتائیں۔ بہرحال بلیک ہول کے ایونٹ ہورائیزن سے اندر داخل ہوتے ہی اپ کے لیے زمان و مکان کا تصور ختم ہوگا، اپ بچ پائیں گے یا نہیں اس کا ہمیں علم نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments