ہالیڈے ریگولیشن کی عملی مثال

شریف ولی کھرمنگی۔ بیجنگ

کل اتوار تھا۔ عام طور پر یہاں ہفتہ اور اتوار کو ہفتہ وار چھٹیاں ہوتی ہیں۔ بعض نیم سرکاری اور نجی اداروں میں صرف اتوار کو چھٹی ہوتی ہے۔ مگر اس اتوار کو چاٸنہ بھر میں لوگ دفاتر اور سکول، کالج، یونیورسٹیوں میں عام دنوں کی طرح موجود تھے۔ اگلے اتوار کو بھی ایسا ہی ہوگا۔ یعنی اتوار کے دن ہفتہ وار چھٹی نہیں ہوگی۔ اسٹاف چاہے چھوٹے لیول کے ہوں یا بڑے سب کل بھی کام کر رہے تھے اگلے اتوار کو بخوشی ڈیوٹیاں دیں گے۔ طلبہ کلاسیں لے رہے ہوں گے اور کوٸی معمول کا کام ڈسٹرب نہیں ہوگا۔ اور ایسا کرتے ہوٸے کسی کو کوٸی اعتراض بھی نہیں۔ کوٸی سوشل میڈیا کمپین نہیں۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن پر کسی کا بیان بھی نہیں۔ انسانی حقوق والا بھی کوٸی ایشو نہیں۔

اسکی وجہ انتہاٸی معقول ہے۔ یہ ایسا یہاں معمولا ہوتا رہتا ہے۔ اس ہفتے یکم مٸی کو ”یوم مزدور“ لیبر ڈے کی مناسبت سے چھٹی ہے اور حکومتی کیلنڈر کے حساب سے اس مناسبت سے ”چار دنوں“ تک عام تعطیل ہوگی۔ یعنی بدھ سے ہفتے کے دن تک چھٹیاں ہونگیں۔ اور ان چار دنوں میں سے دو دن گزشتہ اور آنیوالے اتوار کے دن کیساتھ ایڈجسٹ کر رہی ہے۔ لوگ مسلسل چار دن تک چھٹیاں کریں گے اور اتوار کے دن دفاتر میں جاکر کام کریں گے۔ طلبہ کلاسیں لیں گے۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں چھٹیوں والے دو دنوں کی کلاسز اتوار والے دن ہوں گی۔

سال بھر میں مختلف مناسبتوں پر چھٹیوں کا بہتات ہمارے ہاں بھی ہوتی ہے۔ جمعے کو کوٸی مناسبت ہو تو لوگ ہفتے کے دن خودساختہ چھٹی کرکے اور منگل کی چھٹی ہو تو پیر کے دن خود سے چھٹی کرکے پیسٹری بنانا اور اپنے ساتھ مربوط لوگوں کو بھی ڈسٹرب کرنا عام سی بات ہے۔ طلبہ، اساتذہ ہو یا دیگر اداروں کے اسٹاف یہ عادت سب جگہ دیکھنے کو ملتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں سال گزرنے کے بعد پھر طلبہ اور والدین سلیبس کور نہ ہونے کا رونا روتے ہیں۔ طلبہ کا ٹیویشن کیلٸے دوڑنا، ونٹر کیمپ کیلٸےجانا، آخری مہینوں میں سلیبس کور کرنے کیلٸے ایکسٹرا کلاسیں رکھنا وغیرہ سب اسی لٸے تو ہوتا ہے کیونکہ سال کے دوران ٹھیک سے پڑھاٸی نہیں ہوتی۔ ہر ماہ عید کی چھٹیاں ، ملکی اور علاقاٸی تہواریں، اور فلاں فلاں یوم کی مناسبت سے چھٹیاں ہوتی رہتی ہے۔ مگر خبردار کبھی اتوار کی چھٹی کے دن کوٸی ایک گھنٹہ ادارے کا کام کرے، کلاس اٹینڈ کرے، دفتر جاٸے ، ہو ہی نہیں سکتا۔ کبھی سوچنا بھی گویا کہ گناہ ہو۔

وجہ صرف یہی سمجھ آتی ہے کہ ہمارے ہاں انتظامی طور پر دور اندیشی اور فیصلہ سازی کی کمی ہے۔ عام ملازمت پیشہ لوگوں کو انکے کاموں کی اہمیت کا اندازہ ہے اور نہ اپنی چھٹیوں سے پڑنیوالے اثرات کا۔ طلبہ کو کلاسیں ضاٸع ہونے سے سلیبس رہ جانے کی فکر نہیں۔ حکومت کو مناسبتوں پر چھٹیوں کی ریگولیشن اور پراپر منیجمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے اداروں میں کام نہ ہونے سے پڑنیوالے اثرات کا بھی درک نہیں۔ اور نتیجتا انفرادی غیر ذمہداری سے لیکر معاشرتی اور ملکی لیول پر نقصانات کا سامنا ہر سال ہوتا رہتا ہے مگر اسکا ادراک نہیں ہوتا۔ ہمیں ذمہداری کا احساس کرنا ہوگا۔ صرف الفاظ کی حد تک اپنے سے زیادہ ترقی یافتہ معاشروں کی مثالیں دینے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ ان سے سیکھنا ہوگا۔ دیکھنا پڑیگا کہ دنیا آگے کیسے بڑھ رہی ہے۔ انکو فالو کرنا ہوگا، تب ہی ان جیسا بننے کا سوچ سکیں گے، خواب دیکھ سکیں گے۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments