چلاس شہر میں‌بڑا گوشت کی کمی، قصاب ہڈیاں بیچ رہے ہیں، مکین سراپا احتجاج، 5 قصاب جیل پہنچ گئے

چلاس(قادر حسین) چلاس شہر میں قصابوں کی من مانی اور گوشت کی جگہ ہڈیاں بیچنے کے خلاف شہری سراپا احتجاج بن گئے۔روزہ داروں نے ضلعی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مین بازار کی سڑک بلاک کر دیا اور سخت نعرے بازی کیا۔مظاہرین نے کہا کہ رمضان شروع ہوتے ہی چلاس شہر کے قصاب بے لگام ہوچکے ہیں،گوشت کی جگہ عوام کو ہڈیاں بیچی جاررہی ہے اورگوشت بلیک میں فروخت ہورہا ہے،کوئی پوچھنے والا نہیں،انتظامیہ قصابوں کیساتھ ملی ہوئی ہے۔مظاہرین نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے قصابوں کیساتھ مل کر گوشت کا ریٹ بڑھادیا ہے جو کہ ظلم کی انتہا ہے،شہر میں روزہ داروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے۔مظاہرین نے کہا کہ قصاب کلہاڑا دیکھا کر روزہ داروں کو ڈرا دھمکا رہے ہیں اور اپنی مرضی سے گوشت کی جگہ ہڈیاں ڈال کر دے رہے ہیں۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سراج منیر،اور نور محمد قریشی نے کہا کہ چلاس شہر میں اندھیر نگری چوپٹ راج ہے،نظام درہم برہم ہے،قصابوں سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔انہوں نے چیف سیکریٹری سے اپیل کی ہے کہ وہ نوٹس لیکر چلاس شہر میں قصابوں کا قبلہ درست کرنے کیلئے احکامات جاری کریں،تاکہ عوام کو صیح گوشت مل سکے۔

گوشت بلیک میں فروخت کرنے پر سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے حکم پر مجسٹریٹ درجہ اول تنویر احمد نے ۵ قصابوں کو 14دن کیلئے جوڈیشل کر دیا۔ذرائع کے مطابق چلاس شہر میں قصائی نہ کرنے اور گوشت بلیک میں فروخت کرنے کے الزام میں ۵ قصابوں کو جیل کی ہوا کھلا دی گئی۔سب ڈویژنل مجسٹریٹ بلال حسن نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مجسٹریٹ درجہ اول کو حکم دیا جس کی روشنی میں مجسٹریٹ تنویر احمد نے قصاب شیراز،اسد،گل نواز،ہارون اور گل بادشاہ نامی کو 14دن کیلئے جیل بھیج دیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مجسٹریٹ محمد امین نے کہا کہ چلاس شہر کے تمام قصابوں کیساتھ انتظامیہ کا باقاعدہ معاہدہ طے پایا ہے جس کے مطابق قصاب صبح ۸ بجے سے دن ۲ بجے تک عوام کو معیاری اور تازہ گوشت فی کلو 320روپے کے حساب سے فراہم کرنے کے پابند ہیں،معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کیساتھ سختی سے نمٹیں گے اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments