احتیاط ….. راہ نجات

  تحریر: شریف گل
گلگت  بلتستان کا نام آتے ہی یکدم ہر شخص کے زہن میں خوبصورتی،دلکشی اور مہمان نوازی گردش کرنے لگتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس خطے کوبے تحاشہ ذخائر سے مالامال کیا ہے جس میں حسین و جمیل وادیاں،شیریں پانی سے بہتے ہزاروں ندی نالے، گلہائے رنگارنگ سے مزیّن گاس کے کشادہ میدا ن،بلند وبالا پہاڑ اور ان  میں موجود جمیز سٹون،منرلز کے کثیرذخائر گلگت  بلتستان کےلیےسرمایا کی حیثیت رکھتےہیں۔
 اس بات سے کبھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہےکہ اس خطے کا معاشی حسن کو برقرار رکھنے اورسیاحت کی فروغ کیلئے جی بی حکومت کے تعاون سے محکمہ سیاحت نے کافی حد تک اہم اقدامات کئے ہیں جس میں مختلف سیاحتی مقامات پر تعمیر کئے گئے بہترین سہولیات سے آراستہ PTDC  ہوٹلزکا قیام، سکیورٹی کی فراہمی،فرسٹ ایڈکی سہولیات، پرائیویٹ سیکٹرپرہوٹلز اور گیسٹ ہاؤس سروسسزکویقینی طور پربہتر رکھنے کی ہدایات اوراہم گزرگاہوں میں TGC(ٹورسٹ گائید سنٹرز) قابل زکر ہیں دوسری طرف تمام پرایؤیٹ ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤ سسزکی رجسٹرٹریشن کو لازمی قراردیا ساتھ دیگر ضروری احکامات پر سختی سے عمل درآمد کرایاگیا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں سال بسال سیاحوں کی تعداد میں اضافہ شمار کیا گیا۔صوبائی حکومت کے ان اہم اقدام سے نہ صرف ملکی سیاحت کو فروغ مل رہا ہے بلکہ خطہ گلگت  بلتستان کو درپیش معاشی بحران میں بھی کچھ حد تک کمی آئی ہے۔
گلگت  بلتستان میں فصل بہار کی آمد کے ساتھ ہی پوری دنیا سے لاکھوں کی تعداد میں سیاح ان حسین مقامات کو دیکھنے کیلئے یہاں کا رخ کرتے ہیں ان ایام میں سیاحوں کی آمد سے اس خطے کی رونقیں مزید بڑھ جاتی ہیں جگہ جگہ خوبصورت آرائشی ہوٹلز،رہاشی آپارٹمنیٹس اورگیسٹ ہاؤسسزکاعملہ24  گنٹھے سیاحو ں آمد اور خدمت کیلئے منتظر رہتاہے۔  عموماً گلگت  بلتستان میں کاروباری اوقات صبح 7 سے لیکر مغرب تک رواں رہتے ہیں لیکن ان دنوں رات گئے تک دوکاندار حضرات کاروبارمیں مصروف نظر آتے  ہیں سڑکیں اور گلیوں میں رنگ برنگ قمقموں کی چمک سے رات کا سماء دن کا منظر پیش کرنے لگتاہے۔اس وقت پورے گلگت  بلتستان میں کثرت سے جگہ جگہ گیسٹ ہاؤسسز بنانے سے ا یک طرف یہاں آنے ولے سیاحوں کی سہولیات میں مدملی  ہے جبکہ اس کے عوظ ان  سیاحوں سے غیر مناسب کرایوں کی وصولی سیاحت کے فروغ پرمنفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
باوثوق ذرائع کے مطابق ان گیسٹ ہاؤ سسز میں 8,000  ہزارسے لیکر  15,000 تک یومیہ کرایہ وصول کیا گیا جاتا ہے جو کہ نہایت غیر مناسب ہے۔اسطرح گیسٹ ہاؤ س مالکان کی وقتی جیبیں گرم ہو سکتی ہیں لیکن مستقبل کیلئے اس رویہ کا  کانقصان نہ صرف خودانھیں اٹھانا ہوگا بلکہ اس سے سیاحت پر برا اثر پڑھ سکتا ہے۔محکمہ سیاحت کوچاہیے کہ تمام ہوٹلز بہ شمول گیسٹ ہاؤسسزاور آپاٹمنٹس کے کرایوں کی جانج پڑتال کرے اور سرکاری ریٹ لیسٹ مہیا کیا جائے تاکہ کسی بھی سیاح سے ناانصافی نہ ہواور سیاحت بھی مزیدفروغ پاسکے۔
عالمی  ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ہونے والی شدید برفباری اور بارشوں سے پہاڑی علاقوں میں حیرت انگیز تبدیلیاں واقع ہونگی ماہرین کی پیشن گوئی کے مطابق ان علاقوں میں پہلے سے کہیں زیادہ زرعی پیداوار سمیت ہریالی میں اضافہ ہوگابلکہ اس سال مختلف اقسام کے نایاب پھول بھی آنکھوں کی ٹھنڈک ہونگے جس سے ان مقامات کی خوبصورتی میں مزید نکھار آیئے گالیکن ان مقامات تک رسائی کیلئے سیا حوں کو شاید اس سال بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے ماضی میں ہمارے شہروں میں بسنے والے لوگ سردیوں کا انتظار کرتے اور پہاڑی علاقوں بسنے والے لوگ گرمیوں کے موسم کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے تھے تاہم اب صوتحال اس کے بلکل برعکس ہے کیونکہ  اس سال ہونے والی برفباری اور بارشوں کے باعث گلگت  بلتستان کے بلائی علاقو ں میں مختلف تفریحی علاقوں کی سڑکیں مکمل طور پر نا پید ہوچکی ہیں  متعدمقامات پر سٹر کیں ٹوٹ پھوٹ کا شکارہیں جبکہ سب سے قلیدی مسئلہ اس دفعہ دیامر باشا ڈیم اورگلگت سکردو روڈ پر کام کی وجہ سے مسافروں کو گنٹھوں انتظار کی وجہ سے پڑھ سکتا ہے اس لیے چاہیے کہ  راولپنڈی سے گلگت آنے والے مسافروں کیلے بابوسر ٹاپ کا راستہ جبکہ سکردو آنے والے مسافروں کو دیوسائی کا راستہ جلد از جلد کھول دیا جائے۔اور اگر اس سال شمالی علاقہ جات میں ہو نے والی شدید برف باری پر بات کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دفعہ یہاں گرمی اپنے کچھ مہریں چھوڑنے جارہاہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کہنا ہے۔ جوں جوں گرمی کی شدیت میں زیادتی آتی جائے گی پہاڑوں سے برف پگلنے کا سلسلہ بھی اسی حساب سے تیزی سے شروع گا جس بناپر پہاڑوں کی وستی آبادیوں میں غیر متوقعہ سیلاب کی پیشن گوئیاں اہمت کے حامل ہیں اس کے ساتھ دوسری بڑی پیشن گوئی میں بتایا گیا ہے کہ اس سال دریاسندھ کے بہاؤ میں شدید اضافے کاخدشہ ہے۔ جس سے بچنے کیلئے فردن فردن زمہ واریاں نبھانے کی ضرورت ہے دریاسندھ کے قریب جانے پر بڑوں اور خصوصاًبچوں کومنع کیاجائے دریاکی نزد یکی آبادیوں میں مقیم لوگوں کو محفوظ جگہوں میں منتقل کرنا نہایت ضروری ہوگا تاہم جی بی حکومت کو فوری طور پر چاہیے کہ وہ ان تمام مقامات کا سنجیدگی سے جائیزہ لیں او ر دریا سندھ کے نزیکی رہایشی  باسیوں کو پہلے ان حالات سے اگاہ کیا جائے تاکہ کسی بھی جانی ومالی نقصان سے بچ سکیں تاہم  متعلقہ مقامات کے راستوں کوجلد بحال کرے جس سے  یہاں آنے والے سیاحوں کوکسی بھی قسم کے مشکلات وتکالیف کا سامنا نہ کرنا نہ پڑے۔
علاوہ ازیں اس سال   NDMA(نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی) بشمول حساس ادارو ں کو ہائی الرٹ رہنے کی ضرورت ہے تاکہ خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقع کی صورت فوری مقابلہ کر سکیں۔ پس پہلے تو ہم سب اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں کہ ان قدرتی آفات سے ہماری جان اور مال کی حفاظت فرمائے(آمین)  اور اگر خدانہ کرے ایسے حالات آبھی جائیں تو ان سے بچ سکیں چونکہ احتیاط راہ نجات ہے۔ ماضی میں گلگت ہنزہ گوجال،نگر بلخصوص  بلتستان کی کئی علاقے قمراہ،حطو،،کچھورا، ڑگیول۔صدپارہ کھرمنگ،خپلو اور شگر میں  بارش سے ہونے والی تباہی سے کے آثار ابھی بھی ملتے ہیں۔۔۔۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments