مفکرِ پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال 

کالم نگار : عذرا ابراہیم
(اسوہ گرلزکالج اسکردو)

اقبال بھی اقبال سے آگا ہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے

مفکرِپاکستان ،مصورپاکستان ،شاعرمشرق حضرتِ علامہ اقبال دراصل مشرق کا تابندہ ستارہ ہیں اور ہاں ستارہ بھی ایسا ستارہ جو جمال میں مہردرخشاں ہے اور کمال میں پیام سحر ہے۔ اقبال آسمان شعر و سخن کا درخشندہ آفتاب ، بزم اُرد و کا صدر نشین اور سرتاج ہے ۔ دنیائے ادب کا شہنشاہ جن کے اشعارموتیوں کی طرح ہر زمانے ہیں درخشاں و تانباک ہیں۔ پوری ملت ان کی آواز پر ہمہ تن گوش تھی ۔آپکے ولد محترم کا اسمِ شریف شیخ نورمحمد تھا جو دینداری سے آراستہ وپیراستہ تھے اور والد ہ ماجدہ نیک سیرت اور عبادت گزار خاتو ن تھیں ۔جن کے ہاں (۹ نومبر ۱۸۷۷ء)کو سیالکوٹ میں علامہ محمداقبال پیدا ہوئے پیدا ہوئے۔پیدا تو اقبال ہوئے تھے لیکن لیکن بعد میں محنت و مشقت اور علم و فہم نے انہیں علامہ اقبال بنادیا۔انہوں نے سب سے پہلے ایک دینی مدرسے میں عربی کی تعلیم حاصل کی ۔ پانچ سال کی عمر میں مشن ہائی سکول میں داخلہ لیا اور یہیں سے میڑک پاس کیا اور مری کالج سے ایف۔اے کا امتحان پاس کیا۔ اقبال حصول علم میں بڑے خوش بخت ثابت ہوئے اور چھوٹی عمر میں ہی انہیں میر حسن جیسے شفیق و مہربان استاد مل گئے جن کی فیض صحبت سے اقبال میں عربی ، فارسی اور اسلامیات کا ذوق پیدا ہوا اور پھر فلسفے میں ایم ۔اے کرتے ہوئے انہیں پر و فیسر آرنلڈ جیسے قابل اور شفیق استاد سے استفادہ حاصل کرنے کا موقع ملا ۔پروفیسر آرنلڈ کا قول ہے کہ”اقبال جیسا شاگر د استاد کو محقق اور محقق کو محقق تر بنادیتا ہے”اقبال کو بچپن ہی سے شاعر ی کا ذوق تھا۔ انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسوں میں آپ کی نظمیں بڑے ذوق و شوق سے سنی جاتی تھیں۔ آپ کی شاعری میں اسلامی تعلمات کا بڑا گہرا اثر تھا یہی وجہ ہے کہ آپ کی شاعر ی سن کر نوجوان نسل اسلام کی آن پر کٹ مرنے کے لیے ہمہ تن تیار ہوتے تھے۔آپ کا کلام اردو ، فارسی دونوں زبانوں میں ہے۔ آپ کے اردو مجموعون میں بانگ درا ، بال جبریل اور ضرب کلیم ہیں۔پیام مشرق زبو ر عجم، جاوید نامہ ، اسرار خودی ، رموزِ خودی وغیرہ فارسی کے مجموعے ہیں ۔ ارمغان حجاز کا کچھ حصہ اردو میں ہے اور کچھ فارسی میں ہے ۔غرض اقبال نے دونوں زبانوں میں طبع آزمائی کی ہے اور بے مثال نقوش چھوڑیں ہیں ۔اقبال کی بانگ درانے کا روان تن آسان کو مضطرب کردیا ۔ پھر تن ِ مردہ میں زندگی کی لہرڈور گئی اور شمع حیات خونِ جگرکی آمیزش سے ٹمٹا اٹھی ۔ آپ کی ضرب کلیم سے جوانوں کا خون کھول اٹھا ضعیفوں کے نحیف و ناتواں دست و پا میں سکت آگئی ۔ ملت اسلامیہ کی تقدپر نکھر گئی اور منزل راہِ گم کردۂ کارواں کو صدائیں دینے لگی ۔بال جبرئیل میں انہوں نے جب رباب قوم کے تشنہ مضراب تاروں کو چھیڑا تو وہ سرمدی نغمے ہوگئے جس کی مستی سے روح عمل جھوم اٹھی اور تخیل کو وہ پرواز بخشی کہ عقاب رشک کرنے پر لاچار و مجبور ہوکر بیتابی کے ساتھ تڑپنے لگا۔

مفکرِ پاکستان علامہ اقبال کی شاعری کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہیاور مشہور مغربی دانشور پروفیسر نکلسن نے اسرارِ خوری کا انگریزی میں ترجمہ کیا علاوہ ازیں دوسری کتابوں کے بھی بیرونی زبان میں تراجم ہو چکے ہیں اس کے علاوہ ان کے نظموں جن میں مشہور ’’شکوہ و جواب شکوہ کا بلتی میں ترجمہ ہوا غرض پہ ٹھان لی گئی ہے کہ

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے سردرگاہ خناک پہ خم کرتے رہیں گے
پابندی آداب حرم کرتے رہیں گے اے ہم نفسو آؤ کہ میدان عمل بھی

قرطاس و قلم طبر و علم کرتے رہیں گے
ہم پر ورش لوح و قلم کرتے رہیں گے (راجہ صبا)

علامہ محمد اقبال کے اعلیٰ کارناموں کی وجہ سے قوم انہیں حکیم الامت شاعر مشرق اور ترجمان حقیقت جیسے القابات سے یاد کرتی ہے۔

ہر ایک بات پہ یاد آئیں خوبیاں اُسکی
وہ ایک نام ہر اچھی مثال میں آیا

اقبال جب یورپ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے گئے تو انہوں نے معربی تہذیب کا بغورمشاہد ہ کیا جس کے نتیجے میں ان کا اعتقاد مزید پختہ ہوگیااورآب اس نتیجے پرپہنچے کہ مغربی تہذیب کی بنیاد غلط اصولوں پر رکھی گئی ہے اور یہ انسانیت کے لیے تباہ کن ہے اور یہ کہ انسانیت کی نجات اسلامیں مضمرہے ۔اقبال نے مسلمانوں کو اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے کا درس دیا جسے انہوں نے خودی کا نام دیا علامہ اقبال نے خودی پر بہت زور دیا ’’خودی‘‘ سے ان کی مراد غرور ، تکبر یا خود نمائی نہیں ہے بلکہ وہ خود شناسی سکھانا چاہتے تھے اور انسان کو احساس دلانا چاہتے تھے کہ قدرت نے تمہارے اندر جو جوہر پہنا ں رکھے ہیں ان کو کام میں لا کراپنے آپ کو اس قابل بناؤ کہ خدا تعالیٰ کے منتخب بندوں میں شامل ہو جاؤ کہ اس کی نعمتیں اپنے بندے پر برسنے کے لیے مجبور ہو جائیں:

سب کہاں ، کچھ لالہ و گل میں نمایا ں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہو نگی کہ پہناں ہو گئیں

گوکہ اقبال ایک فلسفی تھے او ر ہمشہ سنجیدہ مسائل کو نمٹانے کے تاک میں رہتے تھے ۔اقبال کی تمام شاعری میں قوم کے لیے درد موجو دہے ہر ملت کے لیے اصلاح کا پیغام دیتا ہے کبھی وہ اسلاف کے کارنامے یاد دلا کر مسلمانوں کے لہوکو گرماتے ہیں اور کبھی افلاک برکمندڈالنے کا کہہ کر نو جوانوں کو دعوت عمل دیتے ہوئے بلند خیالی اور بلند پرواز ی کا درس دیتے ہیں۔

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کی گنبد پر

تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

علامہ محمد اقبال 21اپریل 1938 ؁ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے گو کہ عظمت و جلال کا باکراں سورج غروب ہوگیا لیکن انہی کرنوں نے آنے والی نسلوں کو تحفہ دے گیا جو کہ ان کی سوج طرز عمل اور شاعری ہے۔

میسر پھر ہمیں آئے کوئی اقبال ناممکن

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

آج کا جوان ہر محفل میں ہر سال اقبال کے ساتھ عہد کرتا ہے کہ:

عظمتوں کا ایک نیا آئین بنا ہے ہمیں

داستانِِ جرات رنگین بننا ہے ہمیں

ہر نظر میں قابل تحسین بننا ہے ہمیں

شاعر مشرق تیرا شاہین بنا ہے ہمیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments