ایک اور ہسپتال

ماضی میں گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں صحت کے شعبے میں سہولیات اور اداروں کی عدم موجودگی سے سائلین اور مریضوں کو سخت مسائل کا سامنا تھا۔ شعبہ صحت کے لیے ضروری جدید آلات’ معیاری ادویات کی عدم دستیابی سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا تھا ایسے میں گزشتہ 4 برسوں سے گلگت بلتستان میں صحت کے معیاری اور بڑے ادارے بن گئے ہیں۔ ایسے ادارے جو عوام کے خواب تھے اب شرمندہ تعبیر ہونے جا رہے ہیں۔ گلگت میں کینسر ہسپتال کا قیام اور ہسپتال امراض قلب کی تعمیر موجودہ صوبائی حکومت کے عہد ساز کارنامے ہیں۔ سیاسی حکومتیں تو عوامی مینڈیٹ سے بنتی ہیں اور عوام کی تعلیم و صحت کے حوالے سہولیات ان کی دہلیز پر پہنچانا ان کیلئے لازم ہیں مگر دوسری جانب ڈی جی گلگت بلتستان سکاوٹس بریگیڈر ابرار اور ان کی پوری ٹیم بھی مبارکباد کی مستحق ہے جو قلیل وقت اور کم وسائل میں گلگت شہر میں ایک اور ہسپتال کے قیام کا خواب پورا کیا ہے۔ کچھ مہینے پہلے گلگت کا علاقہ مناور میں قائم اس ہسپتال کو وزٹ کرنے کا موقع ملا۔ یہ ہسپتال جدید سہولیات سے لیس اور جدید تقاضوں کے عین مطابق ہے تمام ضروری آلات و مشینیں ‘ ایمرجنسی روم’ ڈلیوری روم اور کارڈیک روم جس انداز میں بنائے گئے ہیں اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ ایک عسکری منصب رکھنے والے شخص کی جانب سے صحت کے حوالے سے اتنے اچھے ادارے کا قیام ان کی نیک نیتی’ انسان دوستی اور اعلی وژن کی علامت ہے۔ ڈی جی گلگت بلتستان سکاوٹس بریگیڈر ابرار کی یہ کاوش تاریخ میں لکھی جائے گی…… اس ہسپتال سے قریب عوامی آبادی بھی مستفید ہوگی۔ عوامی نوعیت کا یہ ادارہ جہاں صحت کے سہولیات فراہم کرے گا وہاں آنے والوں کیلئے قابل تقلید مثال بھی قائم کرے گا۔ دنیا میں لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ عہدے بھی ملتے ہیں اور چلے بھی جاتے ہیں لیکن وہ لوگ کامیاب و کامران ہیں جو انسانیت کا درد لیکر جیتے ہیں اور انسانی وقار لیکر مرتے ہیں۔ ان مناصب کی تختیاں کبھی خالی نہیں رہتی جو دنیا میں اپنی ذات کے بجائے دوسروں کی بہتری کیلئے کچھ کر کے جاتے ہیں ان لوگوں کے نام تاریخ کے اوراق میں لکھے جاتے ہیں جو اپنی زندگی کا سایہ دوسروں کو فراہم کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے ہم صرف اپنی ذات کیلئے جیتنے کا ہنر جانتے ہیں اور صرف عہدوں پر رہنے کے بعد چلے جاتے ہیں۔ ڈی جی گلگت بلتستان سکاوٹس نے اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ ایک بہترین ہسپتال اور سکول کے قیام سے انسانوں کیلئے سکون فراہم کیا جو کہ نیک شگون ہے۔ بریگیڈئر ابرار صاحب فرما رہے تھے کہ اس طرز کی ہسپتال کا منصوبہ ت?ک داس چلاس میں بھی زیر غور ہے۔موصوف نے کہا کہ ادھر بھی اس جدید سہولیات سے لیس ہسپتال قائم کریں گے جس کا فائدہ مقامی آبادی کو ہوگا اور نالہ جات کی تمام آبادی ہسپتال کی سہولیات سے مستفید ہوگی۔ گلگت میں تو سی ایم ایچ بھی ہے آغا ہیلتھ سروس کی سہولت بھی ہے اور حکومت کے بھی تین ہسپتال ہیں لیکن پورا ضلع دیامر 2000 کی دہائی میں قائم ڈی ایچ کیو ہسپتال چلاس پر بوجھ ہے دیامر میں صحت کے حوالے سے اس ہسپتال کا کوئی اور متبادل نہیں ہے جس وجہ سے عوام کو صحت کے شعبے میں جدید مسائل اور پریشانی کا سامنا ہے۔ڈی جی گلگت بلتستان سکاوٹس بریگیڈر ابرار صاحب سے گزارش ہوگی کہ وہ چلاس میں بھی گلگت مناور کے مقام پر بنائے جانے والی ہسپتال طرز کے ادارے کے قیام میں تیزی لائیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments