ہم نہیں جانتے کہ یہ واقعہ کہاں تک درست  ہو سکتا ہے

تحریر : شمس الحق قمر ؔ   بونی ، حال گلگت

میں اُس انوکھے واقعے کا پردہ چاک کرنے سے قبل  لکھنے کی عادت پر یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ جو لکھنا ہے یہ  بھی ایک طرح  سے عباد ت ہی کی ایک قسم یا ایک انداز ہے ۔ نہیں معلوم میرے علاوہ باقی تمام لوگ عبادت کو کس معنی میں سمجھتے ہوں گے ۔ اگرچہ عبادت کے بہت سارے مفہوم ہیں جیسے : کوئی اچھا کام کرنا، تزکیہ نفس اور  نماز میں باقاعدہ گی وغیرہ ۔  میں اِس وقت اُس عبادت اور لکھنے لکھانے میں قدر مشترک کی بات کر رہا ہوں جسے ہم  نماز کہتے ہیں ۔ نماز ادا کرنا شروع کروگے  تو لطف آنے لگتا ہے اوریہ  ایک اچھی عادت بن جاتی ہے ۔ انسان سوچتا ہے کہ میں اُس پرور دگار کے سامنے عاجزی سے کھڑا ہوں جس نے تمام جہانوں کو تخلیق فرمایا اور اِس سمے مجھے اُس عظیم ذات کے سامنے کھڑے ہو کر اُس سے ہم سخن ہونے کا شرف حاصل ہو رہا ہے  ۔ وہ سب سے اعلیٰ ہےاور غفور و رحیم ہے لہذا اُس ہستی کے سامنے قائم رہنے  کے بعد تمام برائیوں سے پرہیز کرنا لازم ہے ۔ لہذا اُس لطف اور مزے کو کبھی بھی ساقط نہیں کرنا چاہیے جس میں  دلی آسودگی و روحانی سرور پوشیدہ ہوں  ۔  یہ سرور ،یہ مزہ اور یہ لطف و آسودگی ایک طرف لیکن اِس عمل کا عادت بن جانا ایک طرف ۔   عادت کا مطلب ہر وہ کام   ہے جو  کوشش کے باوجود بھی چھوٹ نہ جائے لیکن نماز کی عادت میں کے اندر ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس سے آپ کو چھوڑانے یا اس کو آپ سے چھڑانے کے لیے شیطان صاحب کسی بھی موقعے کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے  اور اسی  صاحب  کی برکت سے نماز کی عادت کم ہوتی ہے ۔ یوں ہزاروں بہانے در آتے ہیں اور یہ اچھی عادت مفقود  ہوتی ہے ۔ لکھنے کا عمل بھی ایسا ہی ہے لکھتے رہو تو مضامین غیب سے آنا شروع ہوتے ہیں  ۔ جیسے چچا غالب ؔ نے کہا تھا

؎ آتے ہیں غٰیب سے یہ مضامین خیال میں   غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے ۔

 ہماری تحریر میں وہ جان کہاں کہ قلم کی رگڑ سے نوک  قلم سے فرشے کی آواز آجائے تاہم لکھنا ایک ایسا عمل ہے کہ انسان اس کا عادی ہوجاتا ہے  چاہے آواز فرشتے کی آئے یا شیطان کی ، لکھاری لکھتا  رہتا ہے /  تی  ہے ۔ حالات جو بھی ہوں  اور جیسے بھی ہوں  بقول فیض احمد فیضؔ

    ؎  متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے           کہ خون دل میں ڈبولی ہیں انگلیاں میں  نے

شیطان تو آخر شیطان ہے  اس عادت کو بھی چھڑانے کی کوشش کرتا رہتا ہے تاہم کچھ لکھاری شیطان کے محلہ دار ہونے کی وجہ سے شاید اس عادت کے چھوٹ جانے سے مستثنی ٰ ہیں  ۔  بحر حال  بہ عین ِعبادت یہ بھی ایک بار چھوٹ جائے تو دوبارہ اپنانے میں  بڑی دقت ہوتی ہے  ۔ میں اپنے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتاکہ لکھنے کا کام مجھ سے کیوں چھوٹ جاتا ہے اور دوبارہ اپنانے میں کونسی طاقت ساتھ دیتی ہے  اور یہ بھی نہیں معلوم کہ شیطان کا محلہ دار ہوں یا اللہ کا سپاہی ۔

            ایک طویل مدت تک ” دیوانوں کی باتوں ” کا سلسلہ غیر معینہ مدت کے لئے بلاوجہ منقطع رہا۔ اُس دوران ہم  صرف احباب کے کالم پڑھتے اور برابر محظوظ ہوتے رہے ۔  میرے ذہن میں بھی خیالات کے مد وجزر  اور طوفان اُٹھتے رہے اور اُنہیں پا بند قلم  کرنے کی کوشش بھی کی لیکن ایک غیر مرئی طاقت روکتی رہی۔

آج  ایک دیرینہ رفیق نے ایک برقی ر قعہ بھیجا جو کہ انگیزی میں لکھا ہوا تھا ۔  شروع میں  سوچا کہ ایسے فرورڈیڈ رقعے تو روزموصول ہوتے ہیں ان کی بار بار نظر ثانی سے اپنی نظریں بھی بگڑ جاتی ہیں ان کا پڑھنا ی تو کدم  بے سود ہے  ۔  لیکن میسج کے آخر میں لکھا ہوا تھا  :

 ( This reference has been taken from “ The Making of Frontier” by Algernon Durand Political Agent Gilgit, 1889)   ہم نے سوچا کہ اسے ضرور پڑھنا چاہئے ۔  بہت سارے علم دوست لوگ ہوں گے جنہوں نے یہ کتاب پڑھی ہوگی پر اپنے بارے میں اصل بات یہ ہے کہ زندگی میں کوئی کتاب پوری نہیں پڑھی ۔ پڑھتے تو ضرور ہیں لیکن پڑھتے پڑھتے خیال کے ڈورے جب منتشر ہوجاتے ہیں اور پھر یکجا ہو کر کسی اور سمت محو سفر ہوتے ہیں تو صرف نظر کتاب پر پڑی ہوئی نظر آتی ہے لیکن توجہ اور خیال کسی دوسری وادی میں قلہ بازیاں کھا رہے ہوتے ہیں ۔ پھر بھی شکر ہے کہ  ڈیورنڈ کی کتاب سے اقتباس جو برقی خط کے زریعے ملا تھا، مکمل پڑھنے کی سعات نصیب ہوئی ۔ میں نے سوچا کہ چلو اس کے حرف بہ حرف ترجمہ کرکے یاروں کے ساتھ بانٹ دیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کہتے ہیں ۔

ڈیورنڈ لکھتے ہیں :

” مہتر اور اُن کے بیٹے انسانوں کو غلام کے طور پر بیچنا  آمدن کا ایک فطری ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ وہ لوگوں کو بطور غلام  دوسروں کو بیج کر دولت کمانے کے کسی بھی موقعے کو نہیں گنواتے۔ اُنہوں نے انسانوں کو بطور غلام بیج کر دولت کمانے کے ضمن میں انسانی جسموں کو، اُن کی جسمانی قوت اور خدو خال کے اعتبار سے ،تقسیم کیا ہوا ہے اور نرخ نامہ یوں ترتیب دیا ہے :

  1. ایک تر و تازہ ، صحت مند اور فربہ اندام نوجوں مرد مبلغ 100  روپے رائج الوقت میں بکتا ہے ( اب یہ نہیں معلوم کہ    1889 ء میں ایک روپے کی قیمت کتنی ہوگی ؟ بہت زیادہ ہوگی تو آج کے 10 لاکھ سے ذیادہ ہر نہ ہوگی  )
  2. ایک صحت مند ، خوبصورت اور پری وش دوشیزہ  مبلغ  200 روپے سے لے کر 250 روپے تک ( یہ سوال الگ ہے کہ یہ دوشیزہ کس کی عزت ہے اور اسے بیچنا کتنا گھنونا عمل ہے )
  3. ایک کم سن لڑکا یا لڑکی ایک گھوڑے  کی دام  یعنی  مبلغ 40 سے لے کر 50 روپے  بکتی ہے
  4. ایک عمر رسیدہ مرد کی قیمت ایک  بہترین کتے یا ایک صحت مند گدھے کے برابر  ہے

لیکن  عمر رسیدہ عورتوں کی فرخت پر کبھی نظر نہیں پڑی ”  

یہ جملے واوین کی تسلط میں آنے کے بعد عجیب سی بے قراری اور بے چینی ہوتی ہے کہ ڈیورنڈ صاحب نے 1889 ء کے عشرے میں ہمارے اوپر بیتنے والے حالات پر سے اور کنتا پردہ اُٹھا یا ہوگا ۔ شاید اس کتاب کو پوری پڑھنے کی ضرورت ہوگی ۔ بہت ممکن ہے کہ ڈیورنڈ صاحب اور اُس وقت کے مہتر کی آپس  میں کوئی بڑی سیاسی چپقلش یا اور کوئی ان بن ہو ۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ واقعہ یا اِس جیسے اور واقعات کہاں تک درست ہو سکتے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments