ضلع غذر ہی کیوں نشانے پر۔۔۔۔

سیاحت کسی بھی علاقے کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جہاں سیاحت کو حکومتی سرپرستی حاصل ہوتی ہے وہاں کے باشندوں کی معیار زندگی کسی حد تک بہتر ہوتی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے ملک کی تشہیر اور سیاحوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے قانون سازی کر رکھی  ہے، اور اِن ممالک کی فی کس آمدنی ترقی پزیر ممالک سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس کے برعکس ترقی پزیر اور تیسری دنیا کے غریب ممالک کا المیہ یہ ہے کہ اِن ممالک میں سیاحت کا شعبہ زبوں حالی کا شکار ہی نہیں بلکہ تباہی کے دہانے تک پہنچ گیاہے۔
اُن ممالک کی فہرست میں پاکستان قابل ذکر ہے۔ شروع کے دِن سے حکومت پاکستان نے سیاحت کے شعبے کو کبھی سنجيده نہیں لیا،اور سیاحوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کوئی سنجيده اقدامات نہیں اٹھایا ،  نہ ہی اِن خطوں کی سیاحتی مقامات کی تشہیر کی گئی۔ اس میں حکومت کی بدنیتی کو بھی یکسر نظرانداز نہیں کر سکتں۔کیونکہ حکومت نہیں چاہتی، کہ ملک کے پسماندہ اقوام بھی ترقی کی دوڑ میں شامل ہو ۔سیاحت کے حوالے سے گلگت بلتستان اپنی مثال اپ ہے، یہاں سیاحت کے شعبے کو ترقی دے کر نہ صرف گلگت بلتستان کے لوگوں کی معیار زندگی بلند کی جا سکتی تھی، بلکہ اس سے پاکستان کے ہر فرد کو بلواسطہ یا بلاواسطہ فائده حاصل ہونے والا تھا۔
اور اس سے عالمی سطح پر پاکستان کا ایک روشن چہرہ سامنے اتا۔ گزشتہ ادوار  کے حکومتوں نے گلگت بلتستان میں سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کے بلند و بانگ دعوے تو کئے ،لیکن بد قسمتی سے اِن وعدوں پر عمل درامد نہیں ہو سکا۔ پیپلز پارٹی کے دور میں گلگت شہر  میں انٹرنیشنل ائرپورٹ بنانے کا کہا گیا تھا، لیکن یہ اعلانات  بھی محض انتخابات میں سیاسی فائدے حاصل کرنے کے لئے کئے گئے تھے۔ بعد میں آنے والی مسلم لیگ نون کی حکومت نے گلگت بلتستان میں سیاحت کے شعبے کو بے تحاشہ نقصان پہنچایا،اُس دور میں سیاحوں کو یہاں پر تحفظ فراہم نہیں کیا گیا،جس کے نتیجے میں ننگا پربت کے بیس کیمپ میں غیر ملکی سیاح قتل ہوئے، اور گلگت بلتستان کا نام پوری دنیا میں بدنام ہو گیا۔ ویسا بھی ملکی میڈیا گلگت بلتستان دشمنی میں اپنی مثال اپ ہے ۔ یہ حکومت کی اولین زمہ داری ہونی چاہیں کہ وہ سیاحوں کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں، اور انکو ہر ممکن تحفظ فراہم کرے،تاکہ غیر ملکی سیاح بلا خوف و خطر  اس علاقے میں آ سکے۔ نون لیگ حکومت نے گلگت بلتستان میں سیاحت کے شعبے کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے جو این او سی جی بی کونسل غیر ملکی سیاحوں کو فراہم کرتا تھا، اس سے یہ اختیار چھین کر اپنی تحويل میں لے لی۔جس سے  اس شعبے کو بے تحاشہ نقصان پہنچا اور  اس شعبے سے منسلک لوگوں کا معاشی استحصال ہو گیا۔
اس کے برعکس  جن  لوگوں کا تعلق پنجاب، خیبر پخنخواہ ،اور سندھ، سے تھا ،ان ملکی سیاحوں کے یہاں آنے کا گلگت بلتستان کو اتنا فائدہ ضرور ہوا، کہ یہاں کچرے کے ڈھیر لگ گئے ۔دیواروں پر ،پہاڈوں پر، چوراہوں پر، ہر جگہ اپنے نام کندہ کر کے چلے گئے،گویا اس خطے کو فتح انہی سورماؤں نے کیا ہو،اور اس سرزمین پر قدم رکھنے والے پہلے خدائی مخلوق ہونے کا بھی شرف انہی کو  حاصل ہوا ہو۔
گلگت بلتستان کے کچھ اضلاع سیاحت کے حوالے بہتر خیال کئے جاتے ہیں، جن میں سکردو،شگر،استور ،اور ہنزہ قابل ذکر ہیں۔اور کچھ اضلاع ایسے ہیں ،جہاں  سیاحت کا شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ان میں ضلع  دیامر اور ضلع غذر شامل ہیں۔ان اضلاع میں پرامن اور مہذب لوگ بستے ہیں، لیکن صد افسوس کہ ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک  میڈیا نے ان اضلاع کا خود ساختہ مسخ شدہ چہرہ دنیا کو دیکھایا ہے۔
اس حوالے سے  ضلع غذر میں سیاحت کے شعبے کی زوال پزیری پر روشنی ڈالنے کی جسارت  کروں گا۔ضلع غذر کوہ ہندوکش کے سنگم پر واقع ہے، اس وجہ سے یہ علاقہ وسطی ایشیائی حملہ آوروں کا آجگاہ بنا رہا۔اس ضلع کی آبادی حالیہ مردم شماری کے مطابق دو لاکھ پچاس ہزار دیکھایا گیا ،لیکن حقیقت میں یہاں کی آبادی ساڑھے تین لاکھ سے بھی زیادہ ہے،انتظامی  لحاظ سے غذر کو چار  حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔یاسین ،گوپس،اشکومن ،اور پونیال کے علاقے شامل ہیں،یہاں کے لوگ زیادہ تر فوج میں ملازمت پیشہ ہیں، تاہم ایک اچھی خاصی تعداد زراعت کے پیشے سے بھی منسلک ہیں اور بجی اداروں میں ملازمت کرتے ہیں۔شرح خواندگی بہت بہتر ہے۔خواتین کی شرح خواندگی تسلی بخش ہے۔امن و امان کے حوالے سے غذر اپنی مثال اپ ہے۔مُسلکی رواداری اور بھائی چارگی ہر شعبہ زندگی میں دیکھنے کو ملے گی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ،کہ ضلع غذر ہر حوالے سے سیاحت کے لئے موضوع جگہ ہے ،تو پھر سیاح غذر کا رُخ کیوں نہیں کرتے،خصوصا غیر ملکی سیاح یہاں کا رُخ نہیں کرتے۔ اس کے پیچھے ایک بہت بڑی سازش کار فرما ہے۔ غذر میں 1870  سے اب تک چار غیر ملکی سیاح قتل ہو چکے ہیں۔گو کہ اس قتل کے پیچھے براہ راست یہاں کے باشندے ملوث نہیں پائے گئے۔ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ضلع غذر کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لئے اس خطے میں بے گناہوں کا خون بہایا گیا۔اب  ہمارے قلم کاروں کے کندھوں پر یہ بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے ،کہ وہ اس خطے کے مثبت چہرے کو دنیا کے سامنے لے انے میں اپنا کردار ادا کریں، اور دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ غیر ملکیوں کے قتل میں بیرونی ہاتھ ملوث تھے۔
سن 1870 میں درکوت میں قتل ہونے والے روئل جیوگرافیکل سوسائٹی کے جارج ہیورڈ مہاراجہ کشمیر رنبیر سنگھ کے ایماء پر میر ولی کے ہاتھوں قتل ہوئے۔سری نگر سے مسلسل اس کی نگرانی کرتے ہوئے ایک مکمل سازش کے تحت یاسین میں اسکو قتل کیا گیا،بدقسمتی یہ ہوئی کہ اس قتل میں یاسین والے استعمال ہوئے تھے،قتل کی مکمل منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی۔یہ پہلا موقع تھا کہ ضلع غذر اور یاسین کا نام دنیا میں بدنام ہو گیا۔
1960 کی دہائیوں میں ایک اور سیاح خاتون ضلع غذر کے علاقے ہایوم میں قتل ہوئی،قاتل بھی گرفتار ہوا اور عدالتوں سے سزا بھی ہوئی۔اس بندے کا تعلق بھی ضلع غذر سے نہیں تھا۔
ابھی ان واقعات کی بازگشت تھمی نہیں تھی کہ گوپس کے مقام پر ایک اور دردناک واقعہ رونما ہوا۔
چیکوسلواکیہ کے  سیاح جوڈے کو رات کی تاریکیوں میں بے دردی سے قتل کر کے لاوشوں کو دریائے برد کی گئیں۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا،جو پہلے والے واقعات سے کئی گنا زیادہ دردناک تھا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قاتلوں کو گرفتار کئے۔قتل میں ملوث افراد کا تعلق ضلع غذر سے نہیں تھا ، انہوں نے ان سیاحوں کی نگرانی   کر کے گوپس میں لا کر قتل کئے ۔یہ ایک گھناونی سازش تھی۔قاتلوں کا مقصد ایک ہی تھا کہ اس بدنصیب خطے کو اور بدنام کیا جائے۔واقعے کے سہولت کار تو گرفتار ہوئے لیکن اصل مجرمان آج بھی قانون کی گرفت سے آذاد  ہیں۔ان پے درپے واقعات نے غذر کو اس انتہا درجے کا نقصان پہنچایا کہ اِن بے گناہ سیاحوں کی چیخ و پکار آج بھی دنیا کے ہر گوشے میں سنائی دے رہی ہے۔
اس گناہ میں ہم بھی برابر کے شریک ہیں ۔ہم خود کو بری الزمہ قرار نہیں دے سکتے۔
قابل غور پہلو یہ ہے کہ اس خطے کی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے ہم دنیا کے کتنے فورمز پر گئے؟؟؟؟؟؟
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اگے ائے اور اس خطے کا عالمی سطح پر تشہیر کریں،دنیا کو محبت کا پیغام دے،سیاح یہاں ملے تو ان سے انکے خیال دریافت کریں۔کیونکہ سیاحت کسی خطے کی تقدیر بدل دیتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments