موڈوری قلعہ کے دامن میں سیاحوں کو تکتا ہوا بچپن

صفدرعلی صفدر

پونیال سے تعلق رکھنے والے دوستوں کی موڈوری قلعہ یاسین میں لی جانے والی اس تصاویر نے بچپن کی یاد میں افسردہ کردیا۔ عکس بندی کمال کی ہے، قلعہ کے اردگرد برف پوش پہاڑ سونے کی مانند چمکتے ہیں۔ دائیں بائیں سے اسمبر اور قرقلتی نالہ کی گنگناتی ندیاں، روح پرور تیز ہوائیں اور پیچھے کی جانب سندی، طاوس، سلطان آباد اور یاسین کی ہریالی دل کو چھو لیتی ہے۔ سامنے آبائی غریب خانہ و اہلخانہ دیکھ کر دل دھڑکتا ہے۔ ذہن میں بچپن کی وہ یادیں افسانہ بن کر زیرگردش ہیں کہ جب ہم بھی دنیاوی الجھنوں سے بے خبر موڈوری میں ڈیڑھ صدی قبل موت کی نیند سلادینے والے شہیدوں کے لہو اور ہڈیوں کے اثار تلے مٹی پکڑے سونا ہوجاتے تھے۔  موڈوری جنگ کی تاریخ بہت بیانگ ہے۔ جہاں پر1863 میں ڈوگرہ راج کے ہاتھوں بے شمار مقامی لوگوں کا خون ناحق بہایا گیا جس میں علاقہ یاسین سے مرد، خواتین اور بچے سب کے سر گاجر مولی کی طرح کاٹے گئے۔ زخمیوں کو بے سروسامانی کے عالم میں چھوڑا گیا۔ معجزانہ طور پربچ جانے والوں کو یرغمال بنا کرساتھ لے جایا گیا، ماوں بہنوں کی عصمت دری کی گئی، مردوں کو زندان میں ڈالا گیا۔ مال و دولت بھی مال غنیمت کی طرح لوٹی گئی۔ مگر اس تمام ترصورتحال کا دنیا کو ایک عرصے تک کوئی خبر نہ ہوئی۔ خبرہوتی بھی تو اب پھچتائے کیا ہوت جب چڑیا چک گئے کھیت تھا۔ الغرض سانحے ہوئے سات برس بعد 1870 میں برطانوی رائیل جیوگرائیکل سوسائٹی کا نمائندہ جارج ہیورڈ آیا اور موڈوری جنگ کی داستان کو ایک مضمون کی صورت میں دنیا کو اشکار کردیا۔

موڈوری قلعہ کے اثار اب بھی خستہ حال مگر نمایاں جبکہ تاریخ زندہ ہے۔ ان اثار کا طواف بچپن میں روز کا معمول تھامگر یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ خونی رنگ کی مٹی اور یہ نرم نما ہڈیوں کے پیچھے ماجرہ کیا ہے۔ بڑھوں سے بس اتنا کچھ سنا تھا کہ ایک زمانے میں یہاں پر خونی جنگ چھیڑ گئی تھی۔ تبی تو مائیں ہمیں شام کے وقت موڈوری قلعہ کے تلے کھیل کود سے منع کردیتی کہ کہیں کوئی آفت نہ لگ جائے۔ چناچہ مجال تھا کہ غروف آفتاب کے بعد کوئی بچہ گھر سے باہر نکل جائے۔

اس زمانے میں موڈوری فورٹ کی جانب سیاحوں کا رجحان نہ ہونے کے برابر تھا۔ گاہے سےمحبوب عالم یا نیکھالو جہانگیر کی طرح درویش صفت لوگ کہیں سے ٹپک جاتے توشکل وشبہات سےکوئی غیرملکی سیاح سمجھ کرسکول میں رٹائے گئے “گڈ مارننگ” کے کلمات کے ساتھ مٹیلی ہاتھ ان کی جانب بڑھا دیتے، چاہے وہ دوپہر کا وقت ہی کیوں نہ ہوتا۔

پھر کوئی انسان دوست سیاح ہماری اس معصومیت پر قربان ہوکر دوچار پیسے تھما دیا کرتے تو ہمارے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرجاتی۔ چہرے کے تاثرات دیکھ کر انہیں ہماری شکلوں کو کیمے کی آنکھ میں محفوظ کرنے پر مجبور کردیتے۔ عکس بندی کے بعد پوچھ لیا جاتا کہ اپنا ایڈریس بتا دیں یہ تصاویر ہم آپ کو بھجوادیں گے۔ چونکہ بیس وے صدی کے ایک پرائمری یا مڈل کا ایک دیہاتی طالب علم جسے سکول سے واپسی پر یونیفارم میں ہی گردوغبار میں کھیل کود کی عادت ہو تو اسے لفظ “ایڈریس” کا کیا علم ہوتا۔ چنانچہ جواباً خاموشی ہی چھاجاتی تو سوالی آسان الفاظ میں بات سمجھانے کی خاطر نام، ولدیت، پتہ وغیرہ دریافت کیا کرتے۔ چونکہ ان دنوں والد صاحب حاضر سروس تھے تو بس یہی کچھ یاد رہتا تھا کہ خطوط کے اوپر لکھے جانے والے الفاظ کو پتہ کہا جاتا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمانہ بدل گیا۔ حالات کے تقاضوں اور علاقائی محرومیوں نے ہم سمت بہت سوں کو اپنے آبائی گاوں یا دیہاتوں سے شہر کی جانب ہجرت پر مجبور کردیا۔ دیہات سے شہر میں آکر بسنے تک ایکیسویں صدی کے تیزرفتار دورکا بھی آغاز ہوچکا تھا۔ لہذا شہری زندگی نے ایڈریس کا معنی اور پتہ کا مفہوم سیکھانے کے ساتھ ساتھ می، ڈیڑی، بھیا، بھابی، باجی، آپا، کزن ، انکل، مکان، فلیٹ، کار، بینک بیلنس، گرل فرینڈ وغیرہ تو سیکھا دیا۔ مگر ان سب کے طفیل حاصل ہونے والے غرور وتکبر نے تصویر کائنات، وصف انسانیت اور مقصد حیات یکسر چھین لی۔

آج ہم پیٹ پجاری کی خاطر اپنی اس دنیاوی جنت سے میلوں دوربند کمروں تک محدود ہوکر پاکستانی سیاست، کرکٹ میچ ، کرپشن اور مہنگائی پر بحث ومباحثوں میں محو ہوئے تو موڈوری کی یادیں قصہ پارینہ بن کر رہ گئیں۔ تاہم اس آس پر اطمینان کہ ایک نہ ایک دن مٹی کے اس پنجر نے واپس اسی مٹی میں عزیز ہونا ہے۔

ایسے میں محبوب عالم، کریم مدد، ایوب خوجہ، حسین علی شاہ، نیکھالو جہانگیر، فداعلی غذری، یوسف رانا اور میرے پیارے دوست امیرحیدر جیسے صاحب دل ودولت لوگ ڈیڑھ صدی قبل موڈوری کے مقام بے شمار انسانوں کی اندوہناک نسل کشی پر جتنا ماتم کریں تو بے سود ہے۔ کیونکہ ظلم کا طوفان ہزار برس قبل برپا ہو یا موجودہ دور میں رواں دواں ظلم ظلم ہی ہوتا ہے۔ بقول ساحرلدھیانوی

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

خون پھر خون ہےٹپکے گا تو مٹ جائے گا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments