قراقرم یونیورسٹٰی ہنذہ کیمپس میں نیب کے زیر اہتمام بدعنوانی کے خلاف آگاہی کا سیمینار کا انعقاد

ستر سال گزرنے کے باجود ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شامل نہ ہو سکے جسکی ایک اہم وجہ کر پشن ہے۔ ناصر جنجوا

ہم ایسے معاشرئے میں رہتے ہیں جہاں کرپشن کی حاکمیت ہے۔شیخ مرزا علی

ہم نے آنی والی نسل کو وراثت میں کرپشن دیا ہے۔عزیز علی داد

ہنزہ (رحیم امان)قومی احتسابی بیرو گلگت بلتستان (NAB-GB) اور قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی ہنزہ کیمپس کے اشتراک سے KIUکیمپس میں ایک سیمنار بہ عنوان آگاہی پروگرام بد عنوانی منعقد ہوا۔اس سیمنار کو منعقد کرنے کا مقصد طلبا و طالبات سیمت زندگی کے تما م شعبو ں سے تعلق رکھنے والے آفراد کو کرپشن کے بارے میں آگاہی دینا اور کرپشن کے روکے تھام میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا تھا۔ اس پروگرام کے بعد KIUہنزہ کیمپس سے جاپان چوک ہنزہ تک صay no to corrupion Sکے نام پہ ایک ریلی بھی نکالی گئی جس میں KIUہنزہ کے طلبا کے علاوہNAB-GBکے اعلیٰ عہداران نے شرکت کی۔

اس سیمنار میں گلگت بلتستان کے مشہور خطیبوں کو مدعو کیا گیا تھا جن میں شیخ مرزا علی، الوعظ سیعد شفا جان اور عزیز علی داد شامل تھے۔ اس سیمنا ر کے مہما ن خصوصی ڈائریکٹر نیب گلگت بلتستان ناصر جنجو کے علاوہ ہنزہ سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبہ حائے زندگی کے افراد، KIUہنزہ اور گلز ڈگری کالج علی آباد کے طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر ڈائریکٹر نیب ناصر جنجوا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اس پروگرام کو منعقد کرنے کا مقصد سماج میں کرپشن کی حوصلہ شکنی کرنا اور آنی والی نسلوں کو اس وباء کے بارئے میں آگاہی دینا ہے کیونکہ 70سال گزرنے کے باوجود کرپشن کی وجہ سے ہماری قوم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شامل نہ ہو سکی۔ ایک دور تھا جب پاکستان نے 1963میں 12کروڈ کا قرضہ جرمنی کو دیا تھا جو آج دنیا کا تیسر ا بڑا معشیت ہے۔اور آج ہم اسی بد عنوانی کی وجہ سے پیچھے رہے گئے۔

اس موقع پر الواعظ سیعد شفا جان نے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن معاشرے کا خلاقی بگاڈ کا نام ہے اور اخلاق سے ہی معاشروں میں کردار سازی ہوتی ہے جو ریڈھ کی یڈی کی حیشت رکھتی ہے۔حضورﷺ نے چالیس تک معاشرئے کی کردار سازی کی۔ہمارئے قوم عقائد اور عبادات میں مظبوط ہے لیکن ان عقائد و عبادات کو عملی جامہ پہنانے میں کمزور ہے جس کی وجہ سے ہم آج شاہ لے کر کدا تک معاشرتی بد اخلاقی کا شکار ہیں۔ہم نے ہمیشہ اخلاق کو دوسروں کی زمداری سمجھی ہے اور ہماری تربیت دینے کا معیار بھی یہی ہے۔مولا علی کے خط جو اپ نے مالک اشدر کو لکھا اس میں اچھے نظام حکومت کے تمام راز پوشیدہ ہیں جس سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ نظام میں بہتری آسکے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شیخ مرزا علی کا کہنا تھا کہ ہم ایسے معاشرئے میں رہتے ہیں جس میں کرپشن کی حکمرانی اور بول بالاہے۔ انسان پیداشی طور پر کرپٹ نہیں ہوتا بلکہ معاشرتی تربیت اسے کرپٹ بنا دیتی ہے۔قرآن پاک اور حدیث نے ہر جگہ بد عنوانی کی حوصلہ شکنی کی ہے اور اسے معاشرتی اور نفسیاتی برُا ئیوں میں قرار دیا ہے۔کرپشن اجارہ داری کی ایک بیج ہے جو ظلم وجبر، حسد، دوشمنی،حق تلفی جیسے کئی مہلک معاشرتی صورتوں کو جنم دیتی ہے۔ حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل کو ضائع کرنا اور ہنزہ کو حق نمائندگی سے محرم رکھنا بھی کرپشن کی ایک صورت ہے۔انہون نے مزید کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ آنے والے وقتوں میں ہم سب مل کر کرپشن کا مقابلہ کر سکیں۔

اس موقع پر عزیز علی داد کا سیمنار سے خطاب کرتے ہو کہنا تھا کہ کرپشن عمرانی اور نفساتی مسلۂ ہے کر پشن کے بہت سارئے سرچشمے ہیں جس میں زہنی بدعنوانی معاشرتی بدعنوانی کو جنم دیتی ہے کیونکہ ہمارا معاشرتی اور معاشی ساکھ زرعی ہے اورہما رئے جذبات اور خیالات صنعتی ہیں۔ ہم نے اپنے آنے والی نسل کو کریشن وراثت میں دیا ہے جسکی وجہ سے نئی نسل نہ روایت پسند بن سکتی ہے اور نہ ہی جددت پسند۔ ہمیں اصلاہی طور پر معاشرئے کی تربیت کرنی ہوگی تاکہ آنے والی نسلوں کو بہتر راہ داست مل سکے۔

پروگرام کے شروع میں ڈائریکٹر قراقرم یونیورسٹی ہنزہ کیمپس رحمت کریم نے پروگرام میں آئے تما م مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور سیمنار کے مقاصد سے آگاہ کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments