فنانسنگ کی گارنٹی نہ ہونے کی وجہ سے فی الحال ساڑھے 32 میگا واٹ‌عطا آباد بجلی منصوبے کی تکمیل کا وقت نہیں‌دے سکتے، وزیر اعلی گلگت بلتستان

ہنزہ (اکرام نجمی) وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہ ہے کہ 9ارب روپوں کی خطیر رقم سے 32.5میگاواٹ عطا آباد پن بجلی گھر منصوبہ رکھا گیا تھا۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد ہنزہ میں بجلی کے بحران پر مکمل قابو پایا جاسکے گا ریجنل گرڈ سسٹم کے زریعے عطاآباد کا اضافی بجلی سنٹر گلگت اور گلگت کی سر پلس بجلی کو ہنزہ کیلئے فراہم کرنے میں آسانی ہوگی محکمہ واٹر اینڈ پاور کی کوششوں سے اور زاتی طور پر میں نے موجودہ وزیر اعظم سے کہا ہے کہ آپ کم از کم عطا آباد کیلئے انٹر نیشنل فنڈنگ کیلئے اے ای ڈی کو ہدایات دے جس پر وزیر اعظم نے انٹر نیشنل فنڈنگ کیلئے باضابطہ خط لکھنے کیلئے اجازت دی ہے اپ اس پروجیکٹ کیلئے فنڈنگ لانے کیلئے آسانیاں پیدا ہونگی۔چائنا پاور کو بھی اس منصوبے میں فنڈنگ کیلئے خط لکھا گیا ہے جس کے بعد چائنا پاور کے نمائندے عطا آباد پاورکے نمائندے نے عطاآباد پاور ہاوس کے سائیٹ دیکھنے کیلئے باقاعدہ آج ہمارے ساتھ آئے ہیں جب اس کا پی سی ون بنا اس وقت اس منصوبے کی لاگت نو ارب تھی اب سال بعد ڈالر کی قدر بڑھنے اور منصوبے میں تاخیر کی وجہ سے یہ منصوبہ نو ارب سے بڑھ کر اٹھارہ ارب کا ہوگیا ہے۔ یہ بہت بڑا منصوبہ ہے اس میں مشکلات بھی پیش آئینگی۔ فناسنگ کی سو فیصد گارنٹی نہ ہونے تک اس منصوبے کے لئے مشکلات پیش آسکتی ہیں، جس کی وجہ سے تکمیل کا کوئی وقت مقرر نہیں کرسکتے۔

ان خیالات کا اظہاوزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے چائنا پاور کے نمائندوں،سابقہ گورنرمیر غضنفر علی خان اور ممبر قانون ساز اسمبلی رانی عتیقہ کے ہمراہ عطا آباد جھیل پر بننے والی بتیس میگاواٹ بجلی گھر کے حوالے سے محکمہ واٹر اینڈ پاور کی طرفسے دی جانے والی بریفنگ اور سائیڈ وزٹ کے موقعے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔

محکمہ واٹر اینڈ پاور گلگت بلتستان کے مطابق یہ منصوبہ 48مہینوں میں مکمل ہوگا او راس منصوبے کیلئے دو کلو میٹر کا ایک طویل سرنگ کھودی جائے گی جس کو 3سال کے مدت میں پورا کیا جائیگا مزید وزیر اعلی نے کہا کہ یہ منصوبہ پورا گلگت بلتستان کیلئے اہمیت کا حامل ہے اس منصوبے کے ساتھ صاف پینے کا پانی بھی فراہم کیا جاسکتا ہے کچھ ہنزہ کے بجلی کے منصوبے گلگت بلتستان کے خیر خواہ سیاسی نمائندوں نے عدالتوں کے زریعے ہمارے دوسال ضائع کرائے ان کا کام ہمیشہ گلگت بلتستان کے ترقی کو روکنا ہے لیکن ان کو ہمیشہ ناکامی ہوئی ہے۔

ریجنل گریڈ سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے ہم سر پلس بجلی ہنزہ کونہیں دے پاررہے ہیں نواز شریف کے دور حکومت میں 5بلین کا ایک منصوبہ ریجنل گرڈ کا ہمیں ملا ہے اب یہ حکومت اس منصوبے کو بھی کبھی پیچھے پڑی ہے ہم انشااللہ انکو منصوبے کو پیچھے پھیکنے نہیں دینگے۔

ہم نے صدر مملکت کو بھی کہا ہے کہ بجلی کے بحرن کے حوالے سے ہماری مدد کرے ہمیں KFWسے ڈیڑھ کروڈ یورو گرانٹ ملی تھی ہم نے یہ گرانٹ ہنزہ اور نگر میں لگائے ہیں جن کے زریعے پانچ میگاواٹ کے مختلف بجلی گھر کے منصوبے رکھے گئے ہیں جن میں پھسو کے مقام پر تین میگا واٹ اور ڈیڑھ میگا واٹ نگر میں رکھے گئے ہیں اس کے علاوہ پرنس کریم آغا خان سے گزارش کی تھی اور پرنس زہرہ کو بھی گزارش کی تھی اب AKDNکے زریعے دو میگا واٹ گنش کے مقام پر بجلی گھر قائم کیا جائیگا۔AKDNدوسال کے کم مدت میں پاور ہاوس مکمل کریگی۔

اس کے علاوہ نئے ڈیزل جرنیٹر زکی خریداری کیلئے آج کل ٹینڈر ہونے والے ہیں انشاللہ جلد مزید ڈیزل جرنیٹر ز ہنزہ میں آئینگے جس سے دو میگا واٹ بجلی دی جائیگی ہنزہ ڈیزاسٹر زون ہے جس کی وجہ سے اب تک 50کروڈ کا نقصان ہوچکا ہے ششپر گلیشر سے نقصان کم کرنے کیلئے ہم نے کام کیا اور اس سلسلے میں حکومت نے فنڈ ز جاری کردیے ہیں واٹر چائنلز کو مرمت کرنے کی بھر پور کوشش کررہے ہیں ہمیں لوگوں کے زمینوں کو جو نقصان ہوا ہے اس کا بھر پور احساس ہے اس موقع پر میر غضنفر علی خان سابق گورنر گلگت بلتستان نے کہا کہ اس منصوبے کو سی پیک میں رکھا جائیگا کیونکہ اس کا 200سے زائد کلومیٹر ایریا سی پیک کا روٹ ہے رانی عتیقہ نے کہا کہ آج ہم نہایت خوش ہے کیونکہ چار سالوں سے عطاآباد بجلی منصوبے پر ہمیں جھوٹا کہا جاتا رہا ہے آج ہم اسکا سائیڈ وزٹ چائنا پاور کے نمائندوں کے ساتھ کررہے ہیں یہ مسلم لیگ ن کی حکومت کی طرف سے ہنزہ کے عوام کیلئے بڑا تحفہ ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments