ایک وہ گلگت بلتستان ایک یہ گلگت بلتستان

بحیثیت قوم ہماری یاداشت بہت کمزور ہے۔ہم نہ ماضی سے سیکھتے ہیں نہ حال کو ماضی کے آئینے میں دیکھتے ہیں نہ مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہیں،بس ہمارا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ اپنے سیاسی مخالف کو زچ کرنے کے لئے ماضی بھلا دیں،حال کو بے حال کر دیں اور مستقبل سے لاتعلق ہو جائیں،سیاسی جماعتیں معاشروں کی ترقی کے لئے ہی بنائی جاتیں ہیں نہ کہ معاشروں کے بگاڑ کے لئے۔

ہمیشہ حال کی حکومت کی کار کردگی کا موازنہ ماضی کی حکومتوں سے کر کے اچھائی اور برائی کا میزان کیا جاتا ہے لیکن ہماری بدقسمتی کہ گلگت بلتستان میں اس میزان کوخاطر میں نہیں لایا جاتا ہے اور شخصیات ہوں یا حکومت مخصوص چشمے لگا کر دیکھا جاتا ہے اگر آسمان سے تارے بھی توڑ کر لائے جائیں تو سیاسی،علاقائی اور مسلکی وابستگی کے بغیر قبول نہیں کرتے ہیں،تعصبات کے چشمے آنکھوں میں سجائے ہم دن کو رات اور رات کو دن کہنے میں عار محسوس نہیں کرتے کچھ بھی ہو حقائق کو تسلیم نہیں کرتے۔

میرا مقصد ماضی کی حکومت پر دشنام طرازی نہیں صرف حقائق بیان کرنا ہے،کس کو یاد ہے کہ نہیں آج سے محض پانچ برس پہلے گلگت بلتستان میں نفرتوں کے پہاڑ کھڑے تھے،نیا کوئی منصوبہ تو نہ بن سکا البتہ آئے روز کوئی نہ کوئی نو گو ایریا ضرور بنتا تھا،معیشت سے لے کر سیاحت تک ہر شعبہ تباہی کی جانب گامزن تھا،ہوٹل بند تھے،سیاح سینکڑوں میں بھی  نہیں آتے تھے۔

آج حالت یہ ہے گلگت بلتستان میں کسی قسم کی مسلکی نفرت نہیں،ہماری آبادی سے زیادہ سیاح آتے ہیں،ہر سال سینکڑوں نئے ہوٹل بن رہے ہیں،معیشت ترقی کر رہی ہے،وزیر اعلی نے گلگت بلتستان کو پوری دنیا میں ایک ایسی پہچان عطا کی ہے کہ اب دنیا گلگت بلتستان کو ایک پر امن اور سیاحت دوست خطہ تصور کرتی ہے،پر امن گلگت بلتستان ہی ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر کے نہ صرف سیاح آ رہے ہیں بلکہ کھیلوں کے لئے ٹیمیں بھی آ رہی ہیں،جیسے حال ہی میں ٹور ڈی خنجراب کے لئے کئی ممالک کی ٹیمیں گلگت آئیں۔ذرا تصور کریں آج سے پانچ برس پہلے کوئی تصور بھی کر سکتا تھا کہ ایک ایسا گلگت بلتستان بھی ہوگا جس میں کوئی نو گو ایریا نہیں ہوگا اور لاکھوں سیاح گلگت بلتستان کی خوبصورتی دیکھنے کے لئے آئیں گے۔آزاد کشمیر کی خوبصورتی بے مثل ہے لیکن گزشتہ دنوں آزاد کشمیر میں یہ بحث چل پڑی تھی کہ ہمیں حافظ حفیظ الرحمن کی طرح کوئی رہنما ہمیں نہیں ملا کہ آزاد کشمیر کو سیاحتی حوالے سے پوری دنیا میں پہچان دلاتا،اس بحث کے بعد آزاد کشمیر میں سیاحت کو ترویج دینے کے لئے گلگت بلتستان حکومت کی پالیسیوں سے استفادہ کرنے کا آغاز ہو چکا ہے۔

ماضی کے پانچ برس میں جیسے امن نام کی کسی شے کا وجود نہیں تھا ایسے ہی ترقی نام کی چڑیا بھی نایاب ہو چکی تھی،مہدی شاہ سرکار کے پورے پانچ برس گزر گئے لیکن پورے گلگت بلتستان میں ایک کلوٹ تک تعمیر نہ کرنے کی قسم پر پابندی سے عمل ہوا،مہدی شاہ صاحب کا تعلق سکردو  سے تھا ہر ہفتے سکردو شاہراہ سے گزر کر جاتے تھے لیکن انہیں احساس تک نہ ہوا کہ اس شاہراہ کی تعمیر کے لئے بھی کوئی اقدام کرنا ہے،اور نہ ہی اپنے اعلان کردہ اضلاع بنا سکے نہ بلتستان یونیورسٹی بنا سکے،نہ چھومک پل بنا،نہ غواڑی اور شغر تھنگ کے پاور منصوبوں پر کام ہوا،نہ گلگت بلتستان کے شہروں کی صٖفائی کے لئے ویسٹ منیجمنٹ کمپنی تو درکنار بلدیہ کے ملازمین سے کام لے نہ سکے،نہ استور روڑ بنا نہ گلگت چترال شاہراہ کی بات ہوئی،نہ عطا آباد پاور منصوبے کی پرواہ کی نہ کھنبری شاہراہ کا خیال آیا،نہ داریل تانگیر،روندو اور گوپس یاسین کے اضلاع کی بات کی تو نہ بٹو گاہ شاہراہ کی یاد آئی،ہاں البتہ ایک کام ایسا ہے جس کو بہت ہی ایمانداری اور ذمہ داری کے ساتھ کیا،وہ کام ہے نوکریوں کی فروخت  اس کام میں اتنی ایمانداری کا مظاہرہ کیا گیا کہ گلگت اور سکردو کے چوک چوراہوں میں بھی نوکریوں کی فروخت کی ریڑھیاں لگائی گئیں تا کہ پی پی کے ہر کارکن کے معاشی حالات درست ہو سکیں،اس کے علاوہ ایک اور کام ہے جس میں بھی بہت ہی محنت کی گئی کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو،مسلکی اور علاقائی تعصبات کی فیکٹریاں دن بہ دن کھل رہیں تھیں لیکن حکومت وقت نے کوئی سر زنش نہیں کی بلکہ خاموشی اپنائی کیونکہ اسی راستے سے اس کی ناہلی چھپ سکتی تھی۔

حافظ حفیظ الرحمن اور مسلم لیگ ن کی حکومت نے آتے ہی سب سے پہلے امن پر کام کیا کیونکہ ترقی کے تمام راستے امن کے دامن سے کھلتے ہیں امن قائم ہوا تو پوری دنیا میں گلگت بلتستان کی سیاحتی پہچان پر کام کیا گیا،اس کے بعد حکومت نے توجہ  چار برس تعلیم،صحت اور انفراسٹییکچر پر مرکوز کر دیا،جس کے نتیجے میں سکردو شاہراہ جو ایک بے تعبیر خواب تھا اس خواب کو دیکھتے دیکھتے بلتستان کے عوام کی عمریں گزر گئیں تھیں لیکن تعبیر نہیں مل رہی تھی وہ تعبیر مل گئی،،بلتستان یونیورسٹی کا قیام،چھومک پل،شغر تھنگ اور غواڑی منصوبہ،چھوربٹ کی نئی تحصیل،کئی ماڈل سکول،ہسپتالوں کو اپگریڈ،ہسپتالوں میں نئی اور جدید مشینری،گلگت بلتستان کے بڑے ہسپتالوں میں جدید مشینری،ایم آر ئی سنٹر،کینسر ہسپتال،سیف الرحمن شہید ہسپتال،داریل تانگیر،روندو،گوپس یاسین اضلاع،کھرمنگ،شگر،ہنزہ نگر کے اضلاع،گلگت چترال شاہراہ کی منظوری،ہینزل پاور پراجیکٹ،عطا آباد پاور پراجیکٹ اور کھنبری شاہراہ کی فزیبلٹی کے لئے رقم مختص،ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کا تمام اضلاع میں قیام،آٹھ ہزار ملازمین کے پے سکیل میں اضافہ،استورشاہراہ،نلتر ایکسپریس وے،ہر ضلع میں قراقرم یونیورسٹی کے کیمپس،گلگت سیوریج سسٹم۔گلگت بلتستان کے ہر ضلع  میں لنک روڑ،واٹر سپلائی اور سکولوں کے منصوبے،شاہراہ قراقرم کا توسیع منصوبہ،سیاحت کی ترقی کے لئے درجنوں منصوبے،میرٹ کا قیام،تعلیم کے شعبے میں اصلاحات،مستحق مریضوں کے لئے انڈومنٹ فنڈ،معذور افراد کی فلاح بہبود کے لئے منصوبے،گلگت میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے سیف سٹی منصوبہ،پولیس میں اصلاحات،زمینوں کے جھگڑے ختم کرنے کیلئے لینڈ ریونیوکمیشن کا قیام،الغرض سینکڑوں ایسے منصوبے اور ہیں جن کا زکر ان سطور میں ممکن نہیں۔

 کیااس تبدیلی اور کارکردگی کو سیاسی مورخ فراموش کرے گا،ہر گز نہیں،بہت ہو گیا ہم نے ستر برس تک مسلکی چورن فروخت کر کے علاقے کو ترقی سے محروم رکھا اب حقائق کو تسلیم کریں اور مسلم لیگ ن اور حافظ حفیظ الرحمن کی کار کردگی کو کھلے دل سے تسلیم کر کے سیاسی جوکروں اور یتیموں کو بتائیں کہ ہے کوئی اس ترقی اور کارکردگی کا مقابلہ کرنے والا تو سامنے آئے،

پس تحریر۔میرے بہت سے دوست صرف سیاسی مخالفت کی وجہ سے بھول جاتے ہیں کہ مسلم لیگ ن اور حافظ حفیظ الرحمن نے گلگت بلتستان کو نہ صرف پر امن سیاحت دوست اور ترقی کی بلندیوں تک پہنچایا ہے بلکہ مستقبل میں سیاست کرنے والوں کو سبق بھی دیا ہے کہ عوام کی خدمت کا جذبہ ہو تو کوئی چیز ناممکن نہیں،میرے دوستو حقائق جان کر جیو،حافظ حفیظ الرحمن جدید گلگت بلتستان کے معمار اور ایک ناقابل شکست سیاستدان کے طور پر ابھرے ہیں۔ایک وہ گلگت بلتستان تھا جس میں مسلکی نفرت کے اندھیرے اور پسماندگی کے ڈیرے تھے،ایک یہ گلگت بلتستان ہے جہاں امن ہے ترقی ہے روشن مستقبل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments