کے ایس ایف اہلکاروں‌کا خنجراب میں چترال سے تعلق رکھنے والے سیاح پر وحشیانہ تشدد، وزیر اعلی نے نوٹس لے لیا، رپورٹ‌طلب

سوست (سٹاف رپورٹر) بغیر تحقیقات خنجراب ٹاپ پر ڈیوٹی دینے والے KSFکے جوانوں نے چترال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر بشارت نامی سیاح پر وحشیانہ تشدد کیا۔ وزیر اعلی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوے آئی جی گلگت بلتستان سے تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی۔

پیر کے روز خنجراب ٹاپ پر کے ایس ایف کے اہلکاروں نے بغیر تحقیقات پنجاب سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کے ایک گروپ کی شکایت پر چترال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر بشارت اور ان کے ساتھی سیاحوں کو چوکی کے اندر لے جا کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ ڈاکٹر کے جسم پر بدترین تشدد کے نشانات پڑ گئے۔

بتایا جارہا ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کا ایک گروہ سوست نامی سرحدی قصبے میں رات گزارنے کے بعد ہوٹل مالک کو پیسے دئیے بغیر خنجراب ٹاپ چلے گئے۔ بعد میں ہوٹل کا مالک، حسین نامی شخص، چترال سے آئے ہوئے مہمانوں کے ساتھ خنجراب ٹاپ گیا۔ وہاں پر موجود پنجاب سے تعلق رکھنے والے گروہ کے افراد نے کے ایس ایف اہلکاروں کو شکایت کردی کہ ڈاکٹر ان کی تصویریں بنا رہا ہے۔

اس شکایت پر کے ایس ایف کے اہلکار ہوٹل مالک اور ڈاکٹر بشارت کو حراست میں لے کر چوکی لے گئے اور وہاں انہیں غیر قانونی طورپر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں ڈاکٹر بشارت اور دیگر سیاحوں کو پولیس سٹیشن لا کر ان کے موبائل فونز چیک گے گئے تو کوئی تصویر برآمد نہیں ہوئی۔

ڈاکٹر بشارت اور ان کے ساتھی کے ایس ایف اہلکاروں کے تشدد کے خلاف سوست  کے نزدیک واقع “دی” نامی جگہے پر واقع تھانہ گئے جہاں ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کے ایس ایف اہلکاروں کی غیر قانونی حرکت کا نوٹس لیتے ہوے آئی جی سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments