نمبردار بُلبُل صاحب، ایک عہد ساز شخصیت

بزرگ اور دوراندیش سیاستدان،  اپنے حلقہ احباب میں ہردل عزیز  نمبردار بلبل ایک عہد ساز شخصیت ہی نہیں، بلکہ علاقے میں اثرروسوخ رکھنے والے ایک جرگہ دار بھی ہیں۔علاقے میں وقوع پزیر  ہونے والے ناموافق حالات کو درست سمت دینے، اور دیہی سطح پر پیدا ہونے والے تنازعات کو بڑے احسن طریقے سے نمٹانے میں اِن کا کردار ہمیشہ سے قابل تحسین رہا ہیں۔ یہی نہیں بلکہ تنازعات کے فریقین میں مستقیل صلح کرانے میں بھی اپ پیش پیش ہوتے رہے ہیں۔
گھریلو  جھگڑوں  سے لے کر زمین کے تنازعات اور پانی کے مسائل سے لے کر مسلکی رواداری اور علاقے میں  قیام امن تک کی بحالی میں اِن کا  کردار ہمیشہ اہم رہا ہیں۔
نمبردار بُلبُل بیسویں صدی کے وسط میں طاؤس کے ایک معتبر گھرانے میں پیدا ہوئے۔ان کے والد گرامی  صوفی منش اور ایک بے ضرر انسان تھے۔
راجہ شاہ عبدالرحمان خان کے عہد یعنی 1928 میں برنداس سے دو کوہل کھود کر جب دشت طاؤس تک پانی کی ترسیل کو ممکن بنایا گیا تو دوسرے مرحلے میں زمین کی آباد کاری تھی۔ زمین کی آبادکاری کے لئے یاسین کے علاقے تھوئی سے مختلف قبائل کے لوگوں کو طاؤس میں بسائے گئے۔
اِن خاندانوں میں ایک خاندان نمبردار بُلبُل صاحب کا بھی تھا۔طاؤس میں مستقیل سکونت کے بعد اِن قبائل کو ابتدائی ایام میں مشکل حالات کا سامنا ہوا۔کیونکہ ایک طرف زمین بنجر ہونے کے علاوہ غیر ہموار بھی تھی اور دوسری طرف اس وسعی و عریض زمین کے لئے پانی ناکافی ہوتا تھا۔
زمین بنجر ہونے کی وجہ سے سالانہ  پیداوار میں بہتری نہیں ا سکی، اور اُس دور میں طاؤس کے باسی غذائی قلت کی وجہ سے مشکل حالات میں زندگی گزار رہے تھے۔
یاسین کے دوسرے علاقوں کے برعکس طاؤس والے دو  جگہوں پر مالیہ دیتے تھے۔
گورنر یاسین کو سالانہ دو من غلہ کے ساتھ دو کلو گھی اور ایک روپیہ ادا کرنا ہوتا تھا۔اسی طرح مہاراجہ کشمیر کے لئے ایک من غلہ گوپس میں جمع کرنے ہوتے تھے۔
لیکن قلیل مدت میں زمین کی نا ہمواری ختم ہونے کے ساتھ ساتھ پیداور میں بھی بہتری انا شروع ہوئی اور اِن قبائل  کی زندگیوں پر چھائے ہوئے شب دیجور کے سائے بلاخر ٹل گئے۔
نمبردار بُلبُل صاحب بھی اپنے بھائیوں میں بڑے تھے۔اُس دور میں تعلیم کا رواج عام نہیں تھا ،اور کچھ معاشی ناہمواریوں کی وجہ سے نمبردار صاحب تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہے، تاہم بعد کے ادوار میں اپنی ذاتی محنت اور لگن  کی وجہ سے پڑھ لکھنا سیکھ چکے تھے۔ تاریخ کی کتابوں کا اپ نے باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے ۔گلگت بلتستان اور بلخصوص یاسین کی تاریخ پر اپکے پاس بیش بہا معلومات ہیں ،گھر میں فراغت  کے لمحات مطالعے میں گزارتے ہیں۔اخبار پڑھنا انکا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے ،سیاست پر بحث و مباحثہ ہمیشہ سے ان کا موضوع گفتگو رہا ہے ،  کیونکہ سیاست کے لئے درکار لوازمات بہ درجہ اتم ان میں موجود ہیں۔
یاسین کی سیاست میں انکا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے ۔ کئی دفعہ یونین کونسل کی امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترتے رہے ہیں۔ اور ایک دفعہ میدان مار کر یونین کونسلر منتخب بھی ہوئے ہیں، اور خدمت کو اپنا شعار بنا کر اپنے حلقے میں ترقیاتی کام کرانے میں پیش پیش رہے ہیں۔
اپ ایک دوراندیش سیاست دان ہونے کے علاوہ ایام  جوانی میں  بہترین شکاری ہو گزرے ہیں، شکار کا پیشہ اپکو ورثے میں ملا تھا ۔
ظر شکاری جس کا تعلق بھی اِسی خاندان(درمتنگ) سے تھا، اپنے دور کا ایک نامی گرامی شکاری تھا ، اُس دور کے مقامی گورنر نے ظر شکاری کو  مراعات کے ساتھ اپنے دربار سے وابستہ رکھا تھا، جو بوقت ضرورت  سرکاری مہمانوں کے لئے شکار کرتا تھا۔
روایت مشہور ہے کہ ظر شکاری حلیے سے ڈراونا لگتا تھا،ایک دفعہ دوران شکار جب ظر شکار کرنے ششت میں بیٹھے  تھے ،ساتھ کھڑے  ادمی کی نظر جب اِن پر پڑی تو ظر کی شکل و صورت مکمل تبدیل ہو چکی تھی ۔خوف کے مارے اس ادمی پر کپکپی طاری ہوئی اور کہا جاتا ہے کہ شکار سے واپس ا کر وہ ادمی شدید علیل ہونے کے بعد انتقال کر گئے۔
غرض نمبردار بلبل صاحب کو بھی شکار کا پیشہ خاندان سے ورثے میں ملا تھا۔
دلچسپ پہلو یہ  ہے کہ بُلبُل صاحب اپنے خاندان میں واحد فرد ہیں جس کو یاسین میں نمبرداری کرنے کا شرف حاصل ہوا ۔ اِن سے قبل دور راجگی میں اِس خاندان کے کسی واحد فرد کو بھی عنان حکومت میں کوئی عہدہ تفویض نہیں کیا گیا تھا۔ اُس کی ایک وجہ تو یہی تھی کہ درمتنگ ہمیشہ سے شرکش قوم رہی ہے، حکمرانوں کو خاطر میں نہ لانا اور باغیانہ ذہنیت انکے خون میں شامل رہا ہے۔
ہنزہ میں میوری تھم کے ہاتھوں  چودہویں صدی میں اِسی خاندان کی نسل کشی صرف اِس وجہ سے کی گئی تھی کہ قبیلہ درمتنگ میر کو خاطر میں نہیں لاتے ، بروم موس حالیہ علی آباد میں انکا قتل عام کیا گیا جن میں سے صرف ایک فرد جو اس سانحے میں اپنی ماں کے ننھیال میں موجود تھا زندہ بچ گیا۔اس ایک فرد کے سات نرینہ اولاد بعد میں پیدا ہوئے۔
اِس واقعے کے بعد اِس خاندان کے افراد  یاسین ،پونیال ،پھنڈر اور چترال کی طرف ہجرت کر گئے ،اسی خاندان کے ایک شاخ سے نمبردار صاحب کا بھی تعلق ہیں۔
بہرکیف ایک کالم میں نمبردار صاحب کی شخصیت کا احاطہ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ یاسین کی طول و عرض میں اپ نے  ہمیشہ غریب اور نادار لوگوں پر دست شفقت رکھتے ائے ہیں ۔اور مصیبت ذده لوگوں کی دل کھول کر مدد کی ہیں۔دو ہزار دس کے سیلاب متاثرین میں اپ نے اپنے جیب سے خطیر رقم تقیسم کی۔
یاسین میں امن کا سفیر تصور کرنے والی شخصیت نمبردار بلبل صاحب ان دنوں علیل ہیں ۔اور علاج کے سلسلے میں اسلام اباد میں مقیم ہیں۔رشتے میں نمبردار صاحب راقم کا دادا لگتے ہیں۔حلقہ احباب سے نمبردار صاحب کی صحت یابی کے لئے دعا کی استدعا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments