دریائے ہنزہ میں آنسو بہتے ہیں مگر وہ خاموش ہیں

صفدرعلی صفدر

ہنزہ کے تاریخی قلعہ التت کی بنیاد ایک پہاڑی پر منحصر ہے۔  گیارویں صدی عیسوی کے قدیم طرز تعمیر اس قلعے کو2007میں آغاخان کلچرسروس کی کاوشوں حالتِ بحالی کے ذریعے سیاحوں کا مسکن بنا دیا گیا۔  فورٹ کے عقبی حصے کی جانب پہاڑ بالکل عمودی ہے۔  سینکڑوں فٹ نیچے بالائی علاقوں کے گلیشئرز سے رستا ہوا پانی میلِ دریا بن کربہتا ہے۔  یہی وہ مقام ہے جو کبھی شہنشاہ ریاست کوللکارنے والوں کی جائے اجل تھا۔  بادشاہ سلامت کے حکم عدولی کے مرتکب افراد کو رات کی تاریکی میں قلعے کے اندر سے آنکھوں پر کپڑا باندھ کراسی جگہ لایا جاتا،  پھر جلاد انہیں دھکا دیکر نیچے دریا برد کردیتا۔  سینکڑوں فٹ نیچے گرکران کی ہڈیوں کا چورن بن جاتا، جسے دریا بہا کر لے جاتا۔

دورجدید کے مقبول ترین اشاعتی ادارہ  ’ہم سب‘  سے وابسطہ معروف لکھاری ظفراللہ خان عرف یدبیضا نے فورٹ کے مقامی گائیڈ سے جب یہ کہانی سنی تو  ’دریائے ہنزہ میں خون بہتا ہے مگر ہم خاموش ہیں‘ کے عنوان سے ایک دلآویز مضمون کے ذریعے شہنشاہ ریاست کی کارستانیوں کا پردہ چاک کردیا۔

آج ہنزہ میں سانحہ عطاآباد کے متاثرین کی دادرسی کی خاطر احتجاج کی پاداش میں قیدِ سلاسل اسیران کی رہائی کا مطالبہ لئے عوام سڑکوں پر نکلے توصدیوں قبل معصوم لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کل کی طرح تازہ ہوگئے۔

واقعہ جنوری 2010کو ہنزہ کے نواحی علاقے عطاآباد میں پہاڑ سرکنے کے سبب ایک آفت کے رونما ہونے کا ہے۔  بیس کے قریب انسانی جانیں اس آفت کی زد میں آکرلقمہ اجل بن گئیں۔  سینکڑوں گھر، زمین جائیداد کا نقصان ناقابل تخمینہ تھا۔  عطاآباد جھیل کا وجود پہاڑ سرک کر دریا ئے ہنزہ کو بند کرنے کا سبب تھا۔  جس باعث پاکستان اور چین کے مابین واحد زمینی راستہ شاہراہ قراقرم کی بندش اور نشیبی علاقوں کے زیرآب آنے سے وادی گوجال کی ہزاروں آبادی ایک عرصے تک انگنت بحرانوں کا شکار رہی۔

اس بحران سے نمٹنے کی غرض سے حکومت چین کی جانب سے کچھ وقت تک متاثرین کو متفرق اشیاء بطور امداد بہم پہنچائی گئیں۔  مگر مقامی حکومتوں کی جانب سے صورتحال پرقابو پانے کے سلسلے میں سنجیدہ اقدامات نہ ہوتے دیکھ ہمسایہ ملک نے بھی بالآخر ہاتھ کھینچ لئے۔  صورتحال گھمبیر، مشکلات درمشکلات نے متاثرین کو اڑھے ہاتھوں لیا تو بقا کے لئے احتجاج کا راستہ امید کی کرن بن گیا۔  رابطہ کمیٹی برائے متاثرین عطاآباد ایک عرصے تک قلمی جدوجہد کے ذریعے ان مسائل کی طرف حکام کا توجہ دلانے میں سرگرداں رہی۔  مگراس سے حکمرانوں کے سرپر جوں تک نہیں رینگی۔  وہی روایتی وعدے اور ہوائی اعلانات کے سوا حکومت کی جانب سے کوئی عملی اقدام اٹھاتا ہوا نظر نہ آیا توعوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔  مودبانہ التجا قہرانہ احتجاج میں بدل گئی اور جگہ جگہ جلسہ جلوس شروع ہوئے۔

اگست2011میں اس وقت کے وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ وکابینہ کے دورہ ہنزہ کے موقع پر ضلعی ہیڈکوارٹر علی آباد میں بہت بڑا مجموعہ اکھٹا ہوا۔  احتجاج پرامن اورمطالبہ وہی روٹی،  کپڑا اور مکان تھا۔  عوامی طاقت کے ذریعے شاہی وفد کا راستہ روکنا مقامی انتظامیہ نے اپنی نااہلی سے گردانا۔  یوں مظاہرین کو منتشر کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔  مذاکرات کی آفر ہوئی،  ڈرا،  دھمکایا گیا مگر حالات کی سنگینی کے تناظر میں سب کچھ بے سود تھا۔  حکومتی وفد کا قافلہ قریب آتے ہی ریاستی اداروں میں پھرتی آگئی اورمظاہرین کو ہرصورت منتشرکرنے کی ٹھان لی گئی۔  اس مقصد کے حصول کی خاطرپولیس کی جانب سے آنسوگیس کا استعمال،  ہوائی فائرنگ،  ڈنڈوں اور مکوں کی برسات کی گئی۔  مگر مظاہرین کو پسپا کرنے میں کامیابی نہ مل سکی۔

حتمی حربے کے طورپر سیدھی گولیا ں برساکر باپ بیٹے کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔  پکڑ دھکڑ میں شناکی ہنزہ سے تعلق رکھنے والے معروف ترقی پسند رہنما کامریڈ بابا جان سمیت متعدد افراد کو حوالات میں بند کردیا گیا۔  کارسرکار میں مداخلت کے الزام میں انسداددہشتگری ایکٹ کے تحت مقدمات قائم کئے گئے اور حوالہ زندان کردیا گیا۔  حاکم وقت سید مہدی شاہ نے واقعہ کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی غرض سے اس وقت کے وزیرقانون کی سربراہی میں جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا۔  کمیٹی بنی،  جائے وقوعہ کے دورے کرائے گئے،  چھان بین ہوئی مگر جوڈیشل انکوائری رپورٹ آٹھ سال بعد بھی نامعلوم وجوہات کی بناپرمنظر عام پر نہ آسکی۔

موجودہ  وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن ان دنوں اقتدار سے باہرحکومت وقت کی خامیاں گننے میں مگن تھے۔  لہذا دیرکئے بغیر متاثرین کے مطالبات اورگرفتار شدہ گان کی رہائی کے حق میں میدان میں اتر گئے۔ اقتدار سنبھالتے ہی سب کچھ درست کرنے کے وعدے کئے،  مگر وہ دن اور آج کا دن پلٹ کر پیچھے دیکھنے کا زحمت گوارہ نہیں کیا۔  الغرض باباجان، افتخارکربلائی اور ان کے دیگر ساتھیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، خوب تشدد کیا گیا۔  عدالتوں سے ضمانتیں منسوخ کروائی گئیں،  طرح طرح کی ازیتیں پہنچائی گئیں،  حتیٰ کہ ذاتی زندگیوں میں بھی مداخلت کی گئی۔  ان تمام سختیوں کے باوجود  ایامِ اسیری نے باباجان و ساتھیوں کو قومی وبین الاقوامی سطح پرمقبولیت کے عروج تک پہنچادیا۔

پاکستانی پارلیمنٹ اور اندورون ملک اسیران کی رہائی کے لئے آوازیں بلند ہونے کے علاوہ لندن سے لیکر نیویارک،  حتیٰ کہ اقوام متحدہ تک سب کی ہمدردیاں باباجان و ساتھیوں کے ساتھ رہیں۔  کئی قومی و بین الاقوامی میڈیا اوٹ لیٹس میں ان کی داستان اچھالی گئی۔  سربراہ مملکت تک انصافی کی درخواست گزاری گئی۔  ظلم کی داستان انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قراردی گئی۔  عدالتوں میں مقدمات بھی لڑے گئے۔  زندانِ عقوبت میں حالاتِ علالت سے بھی گزرے۔  باوجود اس کے کسی بندہ خدا کو ترس نہ آیا اور داماس جیل کی اسیری سے رہائی ممکن نہ ہوپائی۔جوکہ ایک جمہوری ملک کے نظام پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

سوال یہ ہے کہ ان لوگوں نے آخر کیا کیا تھا جواس پابندسلاسل کا نتیجہ ثابت ہوا؟  کیا اس ملک میں کسی ظلم یا ناانصافی کے خلاف احتجاج نہیں ہوتے؟  کیاعوامی حقوق کے لئے کبھی جلسہ جلوس،  جلاؤ گھیراؤ،  توڑ پھوڑ نہیں ہوا؟  لیکن ہے کوئی ایسی مثال جہاں ریاستی مظالم کے خلاف پرامن احتجاج کی پاداش میں کسی کو اس قدر ازیت پہنچائی گئی ہو؟  نہیں تویہ واحد گلگت  بلتستان ہے جہاں عوامی حقوق کا مطالبہ شجرممنوعہ ہے۔

آفرین ہنزہ کے غیور عوام،  بالخصوص ان بہادر ماؤں،  بہنوں کو جو اپنے لخت جگر کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف برسرپیکارہوئے۔  آج ہنزہ کے عوام کا اسیران دھرتی کی رہائی کے لئے احتجاج یہ ثابت کررہا ہے کہ صدیوں قبل التت فورٹ ہنزہ کے عقب سے سینکڑوں فٹ نیچے دریا تخت شاہی کو للکارنے والوں کے خون سے رنگا رہتا تھا تو آج  دھرتی کے فرزندوں پر یہ مظالم دیکھ کرلہو کھول بھی اٹھتاہے۔  جگرگوشوں کی طویل جدائی دل سوختہ آنکھوں سے آنسو کا دریابہا دیتی ہے مگرحکمران پھربھی خاموش ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments