خان صاحب کی پہلی تقریر عام آدمی اور پٹواری کی نظر میں

تحریر: ایڈوکیٹ حیدر سلطان

خان صاحب کی پہلی تقریر سننے کے بعد جہاں مخالفین کے غباروں میں سے ہوا نکل گئی ہے وہی پہ عام آدمی کی امیدیں بھی مزید بڑھ گئی ہیں ۔ ہر کوئی اسے اپنے دل کی آواز قرار دے رہا ہے اور سخت ترین سیاسی مخالف بھی خان صاحب کی تقریر کے خلاف رائے دیتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس کرتا نظر آتاہے ویسے تو خان صاحب کی پوری تقریر قابل تعریف تھی مگر چند باتیں جو خان صاحب نے کیں وہ انتہائی اہم اور سراہے جانے کے قابل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت غریبوں کو ہیلتھ کارڈ کی سہولت دیگی جس سے غریب آدمی ساڑھے پانچ لاکھ تک مفت علاج کرواسکے گا ۔ غریب کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہوتی اور اگر کوئی ایسی بیماری بھی لاحق ہوجائے کہ جان بچانے کیلئے ایمرجنسی میں لاکھوں روپیوں کہ ضرورت ہو تو ایسے میں غریب آدمی بے بس ہوتا ہے۔اور اگر وہ بیماری خدانخواستہ گھر کے اس واحد کفیل پہ لاحق ہوجائے جو پورے گھرانے کو دو وقت کی روٹی مہیا کرنے کا زمہ دار ہوتا ہے تو ایسے میں جو حال باقی ماندہ افراد کا ہوتا ہے وہ الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ۔ خان صاحب نے دوسری اچھی بات یہ کہی کہ یہ جو سٹریٹ چائلڈ ہیں یہ ہمارے ہی بچے ہیں اور آج سے ان کا زمہ میرے اوپر ہے ۔ خدا جانتا ہے ان الفاظ کو سننے کے بعد عام آدمی جسکا خدا کے علاوہ کوئی سہارہ نہیں اس نے خدا کے بعد خان صاحب کی طرف نظریں ضرور جمائی ہونگی۔ ان باتوں کا اثر کسی پہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو مگر اس غریب پہ ضرور ہوا ہوگا جو گورنمنٹ ہسپتال سے ملنے والی ایک سو روپے کی دوائی کی چیٹ لیکر کبھی اپنی بیمار ماں کے سر پہ اور کبھی اپنے خالی جیب پہ ہاتھ رکھتا ہے ، مگر مجال ہے کہ کہیں سے ایک سو روپے کی دوائی مفت میں میسر آئے ۔ ان کی باتوں کا اثر اس مڈل کلاس طبقے پہ بھی ضرور ہوا ہوگا جو روز اپنے ارد گرد سٹریٹ چائلڈ کو دیکھ کر دل ہی دل میں سوچتا ہے کہ کاش اللہ اس کو اتنی حیثیت دے کہ ان پھول جیسے بچوں کے کام آسکے مگر اسکے حالات پانچ دس روپوں سے زیادہ کی مدد کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

درحقیقت خان صاحب کی تقریر سے ہر وہ شخص متاثر ہوا ہے جسکا کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستگی زاتی مفادات کیلئے نہیں ہے ۔ ہر وہ شخص خواہ وہ پیپلز پارٹی کا کارکن ہو نون لیگ کا، یا کسی اور پارٹی کا جسنے پارٹی سے وابستگی کے عوض ٹھیکے لینے ، غیر قانونی طریقے سے جائیدادیں بنانے اور میرٹ کو پامال کرکے نوکری حاصل کرنے کا نہ سوچا ہو ، خان صاحب کی باتوں سے متاثر نظر آتا ہے سوائے چند نسلی پٹواریوں کے جن کا پیشہ ہی یہی بنا ہے کہ لوگوں کو اتنا غریب رکھا جائے کہ الیکشن کے دنوں غریب آدمی ایک پلیٹ بریانی کھاکر ان کے گن گائے ، تعلیم سے محروم رکھا جائے کہ ان میں سوچنے کی سکت ہی پیدا نہ ہو ، تھانہ کلچر میں غریبوں کو پھنسائیں تاکہ دادا گیری مستحکم رہے ۔ خان صاحب نے کہا کہ میرا ضمیر مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ میں اس 1100 کنال پہ محیط شاہی محل میں رہوں جبکہ میرے ملک کے45 فیصد سے زائد عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزاریں۔ پٹواری جواب میں کہتا ہے کہ یہ بندہ خواب بیچ رہا ہے ایسا کیسے ممکن ہے کہ کوئی ایسے محل کو خوشی خوشی چھوڑ دے ۔مگرجب خان صاحب نے اپنی کہی ہوئی بات پہ عمل کیا اور 2 بیڈ پہ مشتمل ایک چھوٹے سے گھر میں منتقل ہوکر اعلان کیا کہ آج سے میرے پاس 2 ملازم اور 2 گاڑیاں ہونگی اور باقی 86 لگژری گاڑیوں کو نیلام کیا جائے گا اور520 ملازمین کو کہیں اور ایڈجسٹ کیا جائے گا تو یہ بات بھی پٹواری ہضم نہ کرپایا اور فورا کہنے لگا کہ اگر کوئی غیر ملکی ڈیلیگشن پاکستان کے دورے پہ آئے تو اس کے پرٹوکول کیلئے گا ڑیاں خان صاحب اپنے باپ کے گھر سے منگوائے گا ؟؟ کیا ان گاڑیوں کو بیچنے سے پاکستان کا قرضہ اتر جائے گا ؟؟ اور خان صاحب تو پاگل ہوگئے ہیں پی ایم ہاوس ریڈ زون میں واقع ہے بھلا ریڈ زون میں ریسرچ انسٹیٹوٹ کیسے چلایا جاسکتا ہے ؟؟ پٹواریوں کے مندرجہ بالا اعتراضات سن کر مجھے بھی لگتا ہے کہ خان واقعی پاگل ہیں کہ اس نے اپنی پوری زندگی میں کوئی ایک فیصلہ بھی ایسا نہیں کیا جس سے یہ بیمار زہن پٹواری متاثر ہوتا ۔ اسے جمائما کو طلاق دیتے وقت برطانیہ کے قانون کے مطابق جو خطیر رقم ملنی تھی وہ لینی چاہیے تھی چاہے اسکا ضمیر اسے لاکھ ملامت کرتا مگر وہ پاکستان کا امیر ترین شخص بنتا اور پیسے والوں کے آگے سر جھکا کر کھڑی ہونے والی عوام اسے اپنے سر پہ بٹھاتی ۔ خان صاحب کو چاہیے تھا کہ ریحام خان کو طلاق دینے کے بجائے اپنے اصولوں میں زرا سی لچک پیدا کرکے اسے پارٹی میں ایک خاطر خواہ پوزیشن دے دیتے تاکہ محترمہ اسکے خلاف کتاب لکھنے کے بجائے اسکے حق میں گن گاتی رہتی اور خان صاحب کو چاہیے تھا کہ اپنی تقریر میں بجائے اپنی زات سے سادگی اختیار کرنے کی پالیسی کا اعلان اور اس پہ عملدرآمد کرنےکے، سابقہ حکمرانوں کی طرح میثاق جمہوریت کو مظبوط کرنے اور پارٹی نظریہ کو لیکر پارٹی کو فعال کرنے کی بات کرتےتاکہ عوام نظریہ کا سالن بناکر پیٹ بھرتی ، میثاق کا تعویز بناکر گلے میں ڈالتی (تاکہ ہسپتالوں کے چکر لگانے کی ضرورت نہ پڑھتی) اور جمہوریت کو پہیے لگا کر سیرو تفریح کرتی۔ خان صاحب آپ خواب بیچتے ہو ، اس قوم کو ماضی میں وہ خواب دکھائے گئے کہ جنکی تعبیر الیکشن کے فورا بعد پہلی تقریر میں ہی ٹوٹ جاتیں تھیں اور آپ نے اپنی زات سے سادگی اپنانے کا وعدہ پورا کر کے اس قوم کو اتنا پریشان کردیا ہےکہ اس قوم کو آپ کا یہ اقدام بھی ایک خواب ہی دکھ رہا ہے ،لوگ اپنی آنکھوں کو مل مل دیکھ رہے ہیں مگر پھر بھی بے یقینی ہے کہ جانے کا نام ہی نہیں لے رہی ۔ خان صاحب آپ امید بیچنے لگے ہو جبکہ یہ قوم ایک مایوس قوم ہے , ناامیدی کفر تو ہے مگر امید کی آخری کرن کو دیکھتے ہوِئے بھی اس قوم کو یقین نہیں آرہا ۔ خان صاحب یقین جانو۔ آپ صرف پٹواری کی ہی نظر میں نہیں بلکہ عام آدمی کہ نظر میں بھی پاگل ہو اور شاید ان سٹریٹ چائلڈ کی نظر میں بھی آپ پاگل ہو جنکی زمہ داری آپ نے منصب سنبھالنے کے فورا بعد قبول کی ۔ کہاں پرائم منسٹر کی کرسی اور کہاں یہ گندھے،ننگے اور ننھنے مننے بچے جو دن بھر کوڈا کرکٹ کے ڈھیر میں رزق تلاش کر کر کے سر سے پاوں تک ناپاک ہوجاتے ہیں رات میں سڑک کنارے سوجاتے ہیں اور تو اور نہاتے بھی نہیں ۔ تھو تھو ۔ خان صاحب یہ جو گندے بچے ہیں نا۔۔۔ ان کے سروں پہ تھوڑی اور مٹی ڈال کر ۔ ان کے پھٹے ہوئے کپڑوں کو تھوڑا اور پھاڑ کر ۔ الیکشن کے دنوں میں تصاویر بنانے کیلِے پاس لانا ہوتا ہے تاکہ ووٹ بنک بڑھ سکے اور آپ نے تو حد کردی کہ بجائے الیکشن کے دنوں ان کا استعمال کرنے کے الیکشن جیتنے کے بعد ان گندے بچوں کو یاد کیا ۔ خان صاحب آپ واقعی پاگل ہیں آپ کو سیاست کا ککھ نہیں پتا سچ کہتے ہیں آپ ناتجربہ کار ہیں۔ بھلے کیا پڑھی ہے آپکو جو ایسی نیچ حرکتیں کرنے پہ بضد ہو کیوں اپنی زندگی اجیرن کرنے پہ تلے ہو ؟؟ آخر کیوں نہیں سوچتے جمہوریت ، نظریے اور نظریاتی کارکنوں کا ؟؟ میری مانو تو ایک میثاق جمہوریت سائن کرو اور جمہوریت کو مضبوط اور اشرافیہ کو مستفید کرو تاکہ کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی چلتی رہے، آپ کے پانچ سال پورے ہوجائیں ۔ جمہوریت کا بلے بلے ہوجائے اور جمہور ایک بار پھر ایک پلیٹ بریانی کے بجائے آدھی پلیٹ بریانی پہ ووٹ کا سودا کرنے پہ آمادہ ہوجائے اور مجھے یقین ہے کہ اگر آپ ایک بار یہ سب کرنے پہ آمادہ ہوجائنگے تو آپکاضمیر جتنا مرضی گر جائے مگر آپ کی قوت خرید اس حد تک بڑھ جائیگی کہ جمہور کا ووٹ بریانی کی آدھی پلیٹ کے بجائے پوری پلیٹ کیساتھ بونس میں ایک عدد کولڈ ڈرنک بھی دیکر خرید سکوگے۔ مگر تم ہو کہ ضد پہ اڑے ہوئے ہو کہ نہ خود کھاونگا نہ کسی کو کھانے دونگا بھلے ایسا بھی کوئی حکمران ہوتا ہے۔ وہ بھی پاکستان میں ؟؟؟؟ خان صاحب سچ پوچھیں تو۔۔ آپ واقعی پاگل ہو ۔ نہ صرف پٹواری کی نظر میں بلکہ عام آدمی اور سٹریٹ چائلڈ کی نظر میں بھی

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments