کوہستان پولیس کی طرف سے بازیاب شدہ افراد پر جھوٹا مقدمہ درج کرنے کےخلاف علاقے میں‌اشتعال، گاہکوچ میں‌ احتجاج ہوگا

گوپس (ڈسٹرکٹ رپورٹر) کوہستان انتظامیہ کے جانب سے غذر کے چار مغوی افراد کے خلاف اسلحہ لیکر غذر سرحد بار پار کرنے کا جھوٹا مقدمہ درجہ کرنے اور چاروں مغویوں کو جیل منتقل کرنے کے فیصلے کو غذر کے عوام کے ساتھ ظلم عظیم اور گلگت بلتستان حکومت کی ناکامی قرار دیکر چار نکاتی عوامی مطالبات کو تسلیم کرنے تک پیر کے روز سے غذر کے ضلعی ہیڈ کوارٹر گاہکوچ میں غذر سطح پر عوامی احتجاج کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پیر سے غذر کے ضلعی ہیڈکوارٹر گاہکوچ میں ہونے والی عوامی احتجاج میں گوپس ،یاسین ،پنیال اور اشکومن کے تمام عوام کو شریک کرنے کے لئے آج عوامی رابطہ کمیٹی نے ایک روز عوامی رابط مہم چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گوپس میں جاری احتجاجی دھرنے کے شروکا سے اپنے عوامی رابط کمیٹی کے ممبران نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ حکومت پرامن عوام کو چھوڑ کر چند دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال ہوا ہے۔ہمیں ریاستی اداروں پر بھروسہ نہیں رہا ہے۔ ہمیں اب اپنی حفاظت خود کرنا ہوگا۔مقررین نے کہا کہ ہماراقافلہ غذر کے ضلعی ہیڈکوارٹر گاہکوچ تک پہنچنے سے قبل چاروں مطالبات حل نہ ہونے کی صورت میں ہم گلگت کی جانب لانگ مارچ کرینگے ۔اور کسی ریاستی ادارے سے بات نہیں کرینگے بلکہ اپنے اپرہونے والی ظلم کے خلاف اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر دھرنا دینگے ۔

مقررین نے کہا کہ کے پی کے حکومت اور پولیس بے لوگوں کو اغواء کرنے کے بعد مغویوں پر جھوٹے مقدمات درج کرکے غذر کے عوام کو بیلک میں کرنا چاہتے ہے۔اپ ہم سب کو جیل میں ڈال دیں ہم کسی بیلکمیلنگ میں نہیں ائینگے۔ابھی تک سمجھ رہیں تھے کہ یہ واقع چند دہشتگردوں کی کارستانی ہے آپ ثابت ہوگیا کہ حکومت ان دہشت گردوں کے ساتھ ملہی ہوئی ہے۔اپ یہ تماشہ نہیں چلے گا ۔اغوا کرنا چھوٹی بات ہے جھوٹے ایف آئی آر کے ذریعے مقدمہ درج کرکے بیلک میل کرنا بڑی بات ہے۔وہ چھوٹا ظلم تھا یہ بڑا ظلم ہے۔مقرین نے کہا کہ شرافت اور بے غیرتی میں فرق ہوتا ہے آپ سرپر کفن باندنے کا وقت آپہنچا ہے۔غذروالوں گھروں سے نکلو اور اپنے حفاظت کرو ۔انہوں غذر کے تمام منتخب ممبرقانون ساز اسمبلی سے پیرکے روز گاہکوچ جلسے میں شرکت نہ کرنے کی صورت میں ممبران کے خلاف عوامی عدم اعتماد پیش کیا جاے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments