ڈی آئی جی، ایس ایس پی کی پریس کانفرنس مضحکہ خیز، حقائق مسخ کئے جارہے ہیں، نذیر ایڈوکیٹ اور دیگر کا پریس کانفرنس سے خطاب

غذر(فیروزخان) غذر کے تمام سیاسی جماعتوں کے ضلعی عہدیداروں نے گاہکوچ میں مشترکہ پریس کانفرنس کیا. پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف قانون دان و سابق امیدوار قانون ساز اسمبلی ایڈوکیٹ نذیر احمد نے کہا کہ ہندرپ نالے سے اغوا کئے جانے والے افراد کی بازیابی کےحوالے سے ڈی آئی جی اور ایس ایس پی غذر کی پریس کانفرنس مضحکہ خیز ہے اپنی ناکامی چھپانے کے لئے گلگت بلتستان پولیس نے حقائق مسخ کر لئے ہیں گلگت بلتستان پولیس کے مطابق مغوی نوجوانوں کو باحفاظت بازیاب کروایا گیا ہے جبکہ کوہستان پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے چار افراد کو اسلحہ سمت کوہستان کے حدود سے گرفتار کر لیا ہے ہم تمام تر صورت حال سے بخوبی واقف ہیں لیکن اب پولیس کو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ عوام کو بیوقوف بنانے کے لئےجی بی پولیس جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے یا کوہستان پولیس جھوٹ بول رہی.انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان پولیس کی نا اہلی اپنی جگہ لیکن مغوی افراد کو ملزمان نامزد کرنے پر کوہستان پولیس کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں انہوں نےکہا کہ گلگت بلتستان کے کوہستان میں ملزمان کے خلاف آپریشن کے دعوے بے بنیاد ہیں جی بی پولیس کے ذمہ داران ہمیں بتا دیں کہ انہوں آپریشن کہاں کیا جبکہ مغوی افراد کو تو کوہستان پولیس نے گرفتار کر لیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم واضح کرنا چاہتےہیں کہ مغوی ہونے والے چاروں نوجوان گھومنے کے لئے ہندرپ نالہ گئے تھے جہاں دوناخل کے علاقے سے 30کے قریب مسلح افراد نے انہیں گن پوائنٹ پر انہیں اغوا کر لیا مغوی افراد کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اغوا کار حمزہ ملک کے آدمی تھے اور اغواکار کوہستان کی حدود سے پانچ گھنٹے پیدل چل کر دوناخل آۓ تھے اب معصوم افراد کو ملزمان ٹھرا کر کوہستان پولیس اصل ملزمان کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے اور مغوی افراد پر مقدمہ بنا کر غذر کے عوام کو بلیک میل کرنے کی کوشش کررہی ہے دوسری طرف اغوا کاروں کے خلاف آپریشن کرنے کی دعویدار غذر پولیس ٹیم کے سربراہی کرنے والے ڈی ایس پی نے دوناخل سے آگے جانے سے ہی انکار کر دیا تھا اور یہ کوہستان کے حدود میں داخل تک نہیں ہوئے ہیں اور جی بی پولیس اپنی بے غیرتی چھپانے کے لئے جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے جو کہ قابل مذمت ہے اگر عوامی احتجاج نہ ہوتا تو مغوی نوجوان درج ایف آئی آر کے تحت جیل میں ہوتے.انہوں نے کہا ہمارے نالہ جات میں دراندازی کرکے اب تک تین درجن کے قریب افراد کو قتل کئا جا چکاہے ہمارا سوال یہ ہے کہ ریاستی اداروں کا شرپسندوں کے ساتھ کیا تعلق ہے اگر کوہستان والے حکومتی رٹ نہیں مانتے تو ہم بھی نہیں مانتے.انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت اور جی بی پولیس نے اپنی بے غیرتی دکھا دی اب وہ عوامی معاملات میں دخل اندازی کرنے سے باز رہیں پیر کے روز سے ہم گاہکوچ سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں اور یہ مظاہرے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک مغوی جوانوں پر درج ایف آئی آر ختم نہیں کیا جاتا,ایس ایس پی غذر کا فوری تبادلہ نہیں کیا جاتا ,حساس نالہ جات میں جی بی سکاؤٹس کے دستے تعینات نہیں کئے جاتے اور اغواکاروں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا جاتا.

پریس کانفرنس سے پاکستان پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر ظفر محمد شادم خیل نے کہا کہ غذر کے عوام کے ساتھ جاری ناانصافیاں ناقابل برداشت ہیں یہی وجہ ہے کہ آج غذر کی تمام سیاسی جماعتیں غذر بچاؤ تحریک کا حصہ ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں ایف آئی آر ,شیڈول فور اور اےٹی اے کی دھمکیوں سے ڈرانے کی کوشش کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ جس طرح جی بی پولیس نے کوہستان پولیس کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے یہ شرم کا مقام ہے انہوں نے کہا کہ سینکڑوں شہدا اور ہزاروں غازیاں غذر کے ہیں لیکن اس کا صلہ ہمیں اغواہ کرنے کے بعد دہشت گرد کر پیش کرنے کی صورت میں ملتا ہے اب ہم غذر کی اجتماعی مفادات کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں پریس کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ کے رہنما حافظ عبدالرحیم نے کہا کہ مغوی نوجوانوں کی بازیابی کا کریڈٹ متفقہ طور پر کوشش کرنے پر تمام سیاسی جماعتوں کو جاتا ہے انہوں نے کہا کہ مدینے کی ریاست کے دعویداروں نے اغوا ہونے والے نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے نئی تاریخ رقم کر دی ہے انہوں نے کہا کہ جی بی سکاؤٹس کو گھوڑوں کے اصطبلوں سے نکال کر حساس نالہ جات میں تعینات کئے جائیں تاکہ وہ ہماری جان ومال کی تحفظ کریں پولیس پر سے عوام کا اعتماد ختم ہوچکا ہے وہ اپنا تحفظ نہیں کر سکتی عوام کئ تحفظ کیا خاک کرے گی.پریس کانفرنس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما راجہ میر نواز میر,بی این ایف کے یاور علی بالاور اور سابق وزیر تعلیم ڈاکٹر علی مدد,سابق ممبر گلگت بلتستان اسمبلی محمد ایوب شاہ کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں اور کارکنان کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی..

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments