گلگت بلتستان کی تاریخ کے ساتھ کھلوارڑ کب تک؟

رشید ارشد

تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہی یہی ہے کہ تاریخ کو مسخ کرنے والوں کو تاریخ مسخ کرتی ہے،میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ گلگت بلتستان کی آزادی،سیاسی،قومی اور سماجی تاریخ کے ساتھ جو کھلوارڑ کیا گیا اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی ہے،ہمارے مورخین نے یا تو مسلکی چشمے لگا کر تاریخ تحریر کی یا علاقائی اور لسانی عینکیں لگائیں،یا مفاداتی شیشے آنکھوں پر ٹکا کر تاریخ کے ساتھ تاریخی بلد کار کیا،یہی وجہ ہے کہ ہمارے آج کے نوجوان بھی ان تاریخی اغلاط کو درست کرنے کے قائل نہیں،اور کوئی اس بات پر تیار نہیں کہ اصل اور غیر جانبدار تاریخ کو جان کر حقیقت تک رسائی حاصل کرے،سب نے اپنے اپنے ہیرو تراشے ہیں جن سے یا تو ان کی مسلکی نسبت ہے یا علاقائی اور لسانی جوڑ ہے ان کے علاوہ کسی کو ہیرو ماننے کے لئے تیار ہی نہیں،دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جہاں اپنے اپنے شہید،اپنے اپنے ہیرو اور اپنے اپنے رہنما صرف مسلکی اور علاقائی نسبتوں کی وجہ سے ہوں وہاں نہ تو شعوری ترقی جنم لے سکتی ہے اور نہ سیاسی و معاشی ترقی کا گزر ہو سکتا ہے۔

گزشتہ دنوں میں نے ایک کالم تحریر کیا جس کا عنوان تھا،گلگت بلتستان کے ٹیپو سلطان،راجہ گوہر امان،اللہ کی پناہ پڑھے لکھے افراد اور نوجوانوں نے وہ طوفان بد تمیزی پیدا کیا کہ میں تو دنگ رہ گیا کہ یہ ہو کیا رہا  ہے،میں نے راجہ گوہر امان کو نہ تو وقت کا ولی لکھا تھا نہ  اسے مذہبی رہنمالکھا تھا،فقظ یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ تمام تر اختلافات کے باوجود گلگت بلتستان کے اولین قوم پرست رہنما  راجہ گوہر امان تھے جنہوں نے شیر میسور ٹیپو سلطان کی طرح اپنی زندگی میں بیرونی حملہ آوروں اور انگریزوں کو اپنی زمین پر پاوں رکھنے نہیں دیا،اب اگر اس بات کا کوئی انکار کرتا ہے تو اپنے شعور کی پستی اور عقل پر ماتم کرے۔ گوہر امان نے انگریزوں کو لوہے کے چنے چبوائے تھے جیسے  انگریز شیر میسور ٹیپو سلطان کی طرح اس کی زندگی میں اس کی سر زمین پر قدم رکھنے کی جر ات نہ کر سکے، ایسے راجہ گوہر امان نے بیرونی حملہ آوروں کو آنے نہ دیا اس کالم  میں فقط گوہر امان کی جنگی تاریخ پر کچھ لفظ تحریر کئے تو جاہلوں کے ایک ٹولے نے ماں بہن کی گالیوں سے میرا سواگت کیا،کیا ہی اچھا ہوتا کہ گالیوں کی برسات کرنے کے بجائے تاریخ سے ہی دلیل نکال کر مجھے رد کرتے۔مجھے ان دلیل کی طاقت سے مبرا جاہلوں کی مخالفت سے غرض ہے نہ ان کی گالیوں سے واسطہ لکھاری نہ مخالفت  سے خائف ہوتا ہے نہ حمایت کا اسیر۔میں آج بھی اپنے موقف پر قائم ہوں کہ راجہ گوہر امان گلگت بلتستان کے اولین قوم پرست تھے اور قائد گلگت جوہر علی خان آخری قوم پرست تھے،جوہر علی آخری اس لئے کہ ان کے بعد قوم پرستی کے نام پر مسلک پرست،مفاد پرست،پیسہ پرست،وزارت پرست،ممبری پرست تو قوم پرستی کا لبادہ اوڑھ کر سامنے آئے لیکن حقیقی قوم پرست کوئی پیدا نہ ہو سکا،آج اگر کوئی قوم پرستی کا دعوی کرتا بھی ہے تو اس کی قوم پرستی یا تو گاہکوچ میں جاکر اپنا رنگ دکھاتی ہے،یا بلتستان میں جا کر عیاں ہوتی ہے اور یاچلاس میں جا کر برہنہ ہوتی ہے۔قوم پرستی قوم کا نام ہے نہ کہ قوم پرستی میں صرف مسلک پرستی،علاقہ پرستی اور مفاد پرستی کا۔معاف کیجئے گا کہ حقیقی قوم پرستوں نے ہمیشہ سے اپنی نسلوں میں قومی شعور تقسیم کیا ہے،نہ خود تقسیم ہوتے ہیں نہ قوم کو تقسیم کرتے ہیں،مسلکی اور علاقائی تھپیڑے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور جو جذبات میں آکر چھوٹے چھوٹے مسلوں پر اپنی ہی قوم میں تقسیم پیدا کریں کیا انہیں قوم پرست کہا جا سکتا ہے،ہر گز نہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ آج کے نوجوان کا تاریخ کے حوالے سے زیادہ قصور اس لئے بھی نہیں کہ تاریخ کے ساتھ بلد کار کرنے کی کہانی آج کی نہیں کافی پرانی ہے۔

گلگت بلتستان کے ایک ذمہ دار حیثیت کے مورخ جو 1947میں سولہ دن تک صدر جمہوریہ بھی رہے نے تقریبا ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل تاریخ کی کتاب لکھی ہے،اس کتاب کو پڑھ کر جہاں آپ کھل کر ہنس سکتے ہیں وہاں جی بھر کا ماتم بھی کر سکتے ہیں،ہنسنا اس لئے کہ شاید انہوں نے اپنے بعد آنے والی نسلوں کو بے قوف سمجھا اس لئے اپنی طرف سے جی بھر کر تاریخ کو مسخ کیا،ماتم اس لئے کہ انہوں نے تاریخ کو مسخ کر کے اپنے منصب اور اپنے قلم کو بھی داغدار کیا،اس کتاب کا ماخذ گلگت بلتستان کی تاریخ کے نام پر بس یہی ہے کہ راجہ گوہر امان کائنات کا سب سے ظالم شخص ہے،نہ اس سے پہلے دنیا میں کوئی ظالم آیا تو نہ بعد میں آئے گا،مناسب ہوتا کہ موصوف اس مخصوص سوچ کو سامنے رکھ کر لکھی جانے والی داستان کو تاریخ گلگت کے بجائے،مظالم گوہر امان کا نام دیتے۔

میرا آج کا موضوع یہ کتاب بھی نہیں،اور یہ بھی نہیں کہ آج کوئی قوم پرست ہے کہ نہیں میں فقط یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ تاریخ کے ساتھ اس کئے گئے بلد کار کو سامنے رکھ کر تاریخ کی تصحیح بھی کریں اور گلگت بلتستان کو خدارا اب تو اس اپنے اپنے شہید،اپنے رہنما اور اپنے ہیرو کی والی مہلک بیماری سے نکال کر ایک قوم بنائیں،مسلکی،علاقائی اور مفاداتی تقسیم نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ہے،ہاں البتہ اس ذہنیت نے قائد گلگت جوہر علی جن کی قوم سے محبت اور جدو جہد کی مثال نہیں ملتی انہیں متنازعہ بنانے کی ناکام کوشش کی،میں تو  آخری قوم پرست قائد گلگت جوہر علی کی قوم پرستی کو بھی سلام محبت پیش کرتے ہوئے اس عظیم ہیرو کی عظمتوں کا بھی قائل ہوں اور گلگت بلتستان کے پہلے قوم پرست رہنما راجہ گوہر امان کی بیرونی حملہ آوروں کے خلاف جر ات کو بھی سلام عقیدت پیش کرتا ہوں،میں نہ تاریخ کو مسلک کا چشمہ لگا کر دیکھتا ہوں نہ مفادات کی عینکیں لگا کر،تاریخ وہ سچ لکھتی ہے جو ہر شعوری اور عقلی کمزور معدے والے کو ہضم نہیں ہوتی ہے۔

تاریخ کا سبق یہ ہے کہ تاریخ کو مسخ کرنے والوں کو تاریخ مسخ کر کے رکھ دیتی ہے۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments