دیامر کے تین بڑے مسائل

دیامر کے تین بڑے مسائل

21 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر۔اسلم چلاسی

ایک زما نہ تھا دنیاں محدود تھی معمولی وسائل پر انسان گزارہ کر سکتا تھا ۔ زیادہ سے زیادہ خوراک کی حصولی کی حد تک محنت مشقت ہوتی تھی ۔ہمارے ہاں نمک جیسے معمولی اشیاء کی حصول تک مہینوں کا سفر کرتے تھے دیامر کے مختلف دہاتوں سے مقامی بپاری ایک قافلے کے شکل میں سوات جاتے تھے اور ایک ایک فرد بیس سے پچیس کلو نمک اٹھا کر لاتے تھے اور اسی کو فروخت کر کے گزر بسر کرتے تھے تاریخی دستا ویزات میں دیکھیں تو بہت سے معاہدات میں جر مانہ کے طور پر سونا رائج الوقت کرنسی اور نمک کا زکر ملتا ہے کئی قتل کے کیسز میں دس تولہ سونہ دس مویشی اور ایک من نمک بطور دیت ادا کیے جا نے کی تحریری نقول دستیاب ہیں اور اس دور میں نمک سب سے جدید اور پر تعیش اشیا ہوا کرتی تھی ایسا زمانہ تھا کہ لوگ معمولی سی شے پر گزارہ کرتے تھے مگر وقت کے گزر جانے کے ساتھ ساتھ دنیاں کے لہو لعب میں ازافہ ہوتا رہا اور اکتفا کا معاملہ آئے روز ختم ہوتا گیا جانورں سے ویکل تک کا دور آیا بھگی سے گاڑی تک کا سفر ہوا دنیاں تیز رفتار گھوڑوں سے ہوائی جہاز تک پہنچ گئی یو ں ہی ہمارے بھی پر لگ گئے ہم نے نہ چا ہتے ہوئے بھی جدید دنیاں کے ساتھ چلنے کی جسارت کی یقین جانے اگر دنیاں اتنی ترقی نہیں کرتی تو ہم کبھی بجلی پانی صحت کے سہو لیات تعلیم اور دیگر جدت کی کبھی بھی ڈمانڈ نہیں کرتے ۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے قریب وجوار میں تمام سہولیات میسر ہیں اور ہم بنیادی ضروریات سے محروم ہیں دیامر کی اسی فیصد عوام کو پینے کا صاف پانی پائپ لائن کی صورت میں دستیاب نہیں ہے ڈسٹرکٹ کے بیشتر دہاتوں میں بجلی یعنی روشنی سریح سے ہے ہی نہیں ۔ ہنگامی حالات میں ابتدائی طبی امداد کی سہولت موجود نہیں ہے ایک ڈی ایچ کیو ہسپتال لاکھوں انسانوں کا بوجھ اٹھائے کھڑا ہے آس پڑوس کے گاؤں دہات سے آنے والے مریضوں کا آخری آس ڈی ایچ کیو ہسپتال اب تو بینسوں کا باڑہ بن چکا ہے متعلقہ ادارہ ہسپتال کی بہتری کے حوالے سے کوئی قدم اٹھانے کیلے تیار ہی نہیں ہے قریب و جوار کے دہاتوں سے لانے والے مریض راستے میں ہی خالق حقیقی سے جا ملتے ہیں ۔ آج تک اس ہسپتال سے کوئی بھی مریض ٹھیک ہو کر واپس اپنے گھر نہیں گیا البتہ سدھا سدھا اللہ میاں کے پاس جانے کا بہترین زریعہ ڈی ایچ کیو ہسپتال چلاس ہے۔سڑکوں کی حالت زمانہ قدیم کی یاد تازہ کرنے کیلے کافی ہے ۔سن دو ہزار دس میں آنے والی سیلابوں سے تباہ ہونے والی رابطہ پل اور سڑکیں ابھی تک نہیں بنائے گئے بیشتر دہاتوں کا زمینی راستہ اب بھی منقطع ہیں اور نا ہی سیلاب متاثرین کو اعلان کردہ امدادی رقم ادا کی گئی۔ باب چلاس سے چلاس شہر تک کا ایک مر کزی سڑک گزشتہ تیس سالوں سے حکمرانوں پر لعن تعن کا زریعہ بنا ہوا ہے۔ فی میل ایجوکیشن کے نام پر سرکاری وسائل تو ضائع کیا جارہا ہے مگر عملی طور پر زرا بھی بہتری نہیں ہے ضلعی دارالحکومت گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے امن و امان کی صورتحال قابل رحم ہے ۔یہ تو ایسے مسائل ہیں جو قابل برداشت ہیں اور یہ سلسلہ مذید بھی برداشت کیا جائے گا مگر اب کچھ ایسے مسائل سر کار کی عدم توجہ سے جڑ پکڑ چکے ہیں کہ جس سے دیامر کے لاکھوں انسانوں کا مستقبل داو پر لگ چکا ہے مسلم لیگ (ن) کے حکومت کی پانچ سال پورے ہونے والے ہیں مگر ٹمبر پالیسی اسی جگہ کھڑی ہے لاکھوں مکعب فٹ قیمتی عمارتی لکڑی بوسیدہ ہوکر خراب ہورہی ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ عوام اور حکومت کا نقصان دوبر ہوتا جا رہا ہے کچھ لکڑی تو گزشتہ تیس سالوں سے پڑی پڑی گل سڑ کے ناکارہ ہو چکی ہے مگر یہ ٹمبر پالیسی ہے کہ درد سر بنی ہوئی ہے دیامر بھر کے نالہ جات میں اس وقت کروڑوں مکعب فٹ قیمتی لکڑی ہے جو بالکل تیار پڑی ہے اس لکڑی کی ایک ترسیلی پالیسی سے اربوں روپے کا فائدہ ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف ہزاروں ڈیم متا ثرین کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے اب تک محکمہ واپڈا مکرو فریب سے کام لیتے ہوئے آبادکاری کے حوالے سے بالکل خاموش ہے جس سے پاکستان کے نام پر قربانی دینے والے محب وطن طبقہ تشویش میں مبتلا ہیں اس حوالے سے محکمہ واپڈا کا کہنا ہے کہ جب عوام زمین دینگے تو محکمہ کالونی بنا کر دے گا حالانکہ محکمہ واپڈا کے ساتھ باقاعدہ ایک معاہدہ موجود ہے جس کی روح سے واضع طور پر محکمہ واپڈا تمام متا ثرین کے آبادکاری کا پا بند ہے فی خاندان کو ایک کنال اراضی میں رہائشی مکان کے ساتھ چار کنال زمین زرعت کیلے بھی دینے کا پابند ہے مگر حسب روایت محکمہ واپڈا سفید ہاتھی کا عملی مظاہرہ پیش کرتے ہوئے تمام معاہدات پر سرد مہری اختیار کیے بیٹھا ہے ساتھ میں صوبائی حکومت کی طرف سے بھی متاثرین ڈیم کے حوالے سے کوئی دلچسپی دیکھنے کو نہیں ملی جس سے محکمہ واپڈا بے لگام گھوڑا بن چکا ہے۔اب تیسرا اور آخری مسلہ دیامر کا انتظامی تقسیم ہے داریل تانگیر تا حال ضلع کی رتبہ پر فائز نہیں ہیں جس سے علاقے میں سخت قسم کی احساس محرومی پیدا ہوئی ہے نو جوان نسل تو اس قدر دلبرداشتہ ہے کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی وقتافوقتا مختلف اجتماعات میں اس بے چینی کا اظہار ہوتا رہتا ہے اور یہ بے چینی حق بجانب بھی ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں داریل تانگیر سے بھی کم آبادی اور محدود وسائل والے علاقے ایسی رتبے پر فائز ہوچکے ہیں مگر داریل تانگیر کو محروم رکھا گیا ہے اور اس جانبداری کو عوامی سطح پر محسوس بھی کیا گیا ہے ۔مسلم لیگ کو دیامر سے جو تاریخی کامیابی ملی ہے اس کی بنیادی وجہ بھی ان تین مسائل کا حل حل تھا اور گلگت میں مقیم دیامر کے شہریوں نے وزیر اعلی حفیظ الر حمن کو جو ووٹ دیا ہے وہ بھی ایسی امید پر دیا تھا کیونکہ وفاق میں (ن) لیگ کی حکومت تھی مسائل حل ہونے کی واضع امید تھی مگر وفاق میں (ن ) لیگ کی حکومت کو چند مہینے رہتے ہیں اور حفیظ سرکار کو ڈھائی سال ہونے والے ہیں مگر دیامر کے سلگتے مسائل وہی کے وہی ہے کوئی ایک بھی مسلہ حل نہیں ہوا جس سے ضلع بھر میں مسلم لیگ کے حوالے سے عوام کی بہتر رائے نہیں ہے اور یہی سوچ مسلم لیگ (ن) کیلے زہر قاتل ثابت ہوسکتی ہے چونکہ جس طرح دنیاں تبدیل ہوچکی ہے ایسی طرح لوگوں کی سوچ بھی تبدیل ہوئی ہے زات پات مذہب علاقایت کے نام پر دوکھہ کھانے کا زمانہ ختم ہوچکا ہے لوگ عملاً میدان میں کام دیکھتے ہیں اور میرے خیال میں مسلم لیگ (ن) کے پاس ایسا کوئی ایک کارنامہ بھی نہیں ہے جو دیامر کے عوام کو دیکھا سکے اب کوئی بھی جماعت دیامر کے ان تین سلگتے مسائل کو حل کرے تو یقیناًدیامر کے عوام اس جماعت کو کبھی مسترد نہیں کرے گی اب دیکھنا یہ ہے حکومت وقت دیامر میں اپنے وجود کو برقرار رکھنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author