کارسیکا، جنرل پاؤلی، اور جموں کشمیر

١٨ ویں صدی کے اواخر سے ہی جزیرہ کارسیکا پر فرانسیسی تسلط قائم تھا۔کارسیکن باشندے فرانسیسی تسلط کے خلاف تھے ،اور فرانس سے آزادی کے خواہاں تھے۔
جزیرہ کارسیکا کے باغی گروپ  نے کئی دفعہ فرانسیسی تسلط کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی، لیکن باہمی نااتفاقی اور کمزور حکمت عملی کے سبب اِن کو  کامیابی نصیب نہیں ہو سکی ۔اور فرانس نے ساحرانہ طریقے سے اِن آزادی پسندوں کو طاقت کے بل بوتے پر  کچلنے میں کامیاب ہوا۔
بدترین شکست کے بعد کارسیکن باشندے جنگلوں اور پہاڑوں میں روپوش ہوئے۔ منتشر ہونے والے اِن قبائل میں ایک عظیم ماں ”لتیزا“ بھی اپنے ایک سالہ روتے ہوئے بچے کو لے کر شامل تھی۔دشمن سے جان بچا کر  لتیزا بھی ساحل سمندر تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔
اس ماں کی گود میں موجود یہ روتا ہوا بچہ بعد کے ادوار میں ایک عظیم فاتح بن کر اُبھرا ۔نپولین کی زندگی کے ابتدائی ایام بڑے کسمپرسی میں گزرے ۔غربت و افلاس کے منحوس  سائے تا ریر اِس خاندان پر چھائے رہے۔غریب الوطنی میں بھی اپنے وطن کی مٹی کی خوشبو برابر  محسوس کرتے رہے ۔
کارسیکن آزادی پسندوں کی رہنمائی اُس دور میں جنرل پاؤلی کر رہے تھے۔
نوجوان جنرل سے بےحد محبت کرتے تھے، کیونکہ پاؤلی بیس سال جلاوطن رہ کر کارسیکا لوٹا  تھا اور فرانسیسی تسلط کے خلاف جہدوجہد کر رہے تھے۔
ہوش سنبھالنے کے بعد نپولین اور جنرل پاؤلی کے درمیان اختلافات کھول کر سامنے ائے۔
جنرل پاؤلی جزیرہ کارسیکا کو فرانسیسی تسلط سے آزاد کر کے  برطانیہ کے گود میں ڈالنا چاہتے تھے، جبکہ نپولین کارسیکا کو ایک آزاد ملک دیکھنا چاہتے تھے۔نظریات کے اس ٹکراؤ نے فرانسیسی تسلط کو دوام بخشنے میں مدد دی ۔
نپولین معاشی تنگدستی کے ہاتھوں مجبور ہو کر فرانسیسی فوج میں ملازمت کرنے لگے اور جنرل پاؤلی بھی کچھ عرصہ بعد گوشہ نشین ہو گئے ۔یوں جزیرہ کارسیکا کے آزادی پسندوں کے خواب چکنا چور ہو گئے۔ کارسیکا کے آزادی پسندوں اور جنرل پاؤلی کے کردار کا موازنہ ہم جموں کشمیر سے کرنے کی کوشش کرینگے۔
جموں  کشمیر اقصائے تبتہا کی طویل تاریخ پر سرسری نظر ڈالی جائے تو ہر دور میں ہمیں جنرل پاؤلی جیسے کردار جا بجا  دیکھنے کو ملیں گے۔ ریاستی باشندوں نے ہر دور میں بیرونی حملہ آروں کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے کو ترجیح دی ہیں۔
چک جب حکمران تھے تو یہاں کے باشندے  فرقہ وارانہ راک میں بھسم ہو کر مغلوں کو کشمیر پر حملے کی دعوت دی۔جب مغلوں سے بھی امید کی آس ٹوٹ گئی تو افغانوں کو کشمیر پر حملے کے لئے اکسایا ، ان سے عشق کرنے کے بعد جب دل بھر گیا تو پھر سکھوں کو بلایا۔
سکھوں کے نرغے میں رہنے کے بعد بلاخر 1846 میں ڈوگرہ برسراقتدار اگئے۔تاریخ شاہد ہے کہ ریاستی عوام نے ڈوگروں کو بھی ہمیشہ  شک کی نگاہ سے دیکھتے رہے ہیں ۔1947 میں تقسیم ہند کے بعد مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست جموں و کشمیر کو ایک آزاد ریاست کے طور پر قائم رکھنا  چاہیتے تھے لیکن 22 اکتوبر کو ریاست پر  قبائلی حملے اور اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات کی ایک طویل تاریخ ہے جس کی تفصیل میں جانا ضروری نہیں سمجھتا۔
لیکن ریاست کی طویل تاریخ میں یہاں کے باشندے کینہ ،بغض اور حسد کی آگ میں نہ صرف خود جلتے رہیں ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس آگ کی لپیٹ میں لا کر جلنے پر مجبور کیا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر خلصا ایک سیاسی مسئلہ تھا ،لیکن اس کو مذہبی جنونیت کی حمام میں پکا کر ایک پیچیدہ مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے۔ماضی سے انہوں نے کچھ بھی سبق حاصل نہیں  کی اور اُسی منحوس چکر میں گھومتے ہوئے ٹھیک اُسی مقام پر اگئے ہیں ۔حریت کانفرنس والے بھارت کے خلاف پاکستان سے مدد مانگ رہے ہیں جس طرح  ماضی میں انکے اباؤاجداد نے مغلوں ،افغانوں ،اور سکھوں سے مدد مانگی تھی۔ یہ کیسی قوم ہے ؟؟؟ابھی تک آزادی کا واضح مفہوم سمجھانے میں ناکام رہے ہیں ۔ بہت سارے آزادی پسندوں کے چہرے ابھی مخفی ہے ،ستر میں ہے، لیکن وقت ہی ہے جس کی رفتار  انکے چہروں پر جمی دھول  ہٹا کر ان کے اصل چہرے  بے نقاب کرنے میں زیادہ دیر نہیں  لگائے گا۔
ہمارے تجزیہ نگاروں نے تفصیل سے ارٹیکل 370 اور 35 اے پر روشنی ڈالی ہے ،مستقبل قریب میں ریاست جموں کشمیر پر اسکے اثرات سے بھی عوام کو اگاہ کر چکے ہیں۔
لیکن ایک سوال جو بار بار ذہين میں گھوم رہا ہے ۔ پانچ دہائیوں قبل متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کی سب سے اہم اکائی گلگت بلتستان سے سٹیٹ سبجیکٹ رول ختم کر کے اس خطے کو غیر مقامی لوگوں کا اماجگاہ بنایا گیا۔جس کی وجہ سے یہاں امن و امان کی صورت حال مخدوش ہوتی گئی ،ریاست کے آزادی پسند جو گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ کہہ کر راگ الپتے رہتے ہیں وہ اتنے عرصے کہاں تھے؟ آزاد کشمیر اور جموں میں سیاسی قیادت کا فقدان ہے، پورا خطہ محلاتی سازشوں کے زد میں ہے، قبائلی اختلافات عروج پر ہے۔ذات پات کا نظام معاشرے میں سرایت کر چکا ہے ۔ایک قبیلہ دوسرے کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ،مذہب کو سیاست سے جوڈ کر اس کو  قوم پرستی کا لبادہ اڑنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔پورا نظام بدبودار بن چکا ہے۔ایسے مخدوش حالات میں مذہب کے نام پر کیا ریاست جموں و کشمیر کو آزادی  دی جا سکتی ہے؟؟اس سارے عمل میں جماعت اسلامی کا کردار اہم رہا ہے ۔کشمیر بنے کا پاکستان کا نعرہ بھی اسی جماعت کا ہے ۔اور ریاست کی سیاسی جدوجہد کو مذہبی رنگ دینے میں بھی اسی جماعت کا کلیدی کردار رہا ہے۔اب یہ پاکستان جماعت اسلامی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وادی میں کشت و خون کی اس کھیل کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔اگر نہیں کر سکتے تو پھر آزادی پسندوں سے خود کو الگ کرے ۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تمام محلاتی سازشوں کا قلع قمع کر کے ریاست کے تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر ایک سیکولر ڈیموکریٹک ریاست کے قیام کے لئے جدوجہد کو تیز کیا جائے۔ یاد رہے اس سارے عمل میں گلگت بلتستان کا کردار سب سے اہم ہے۔واضح رہے الحاق  پاکستان کے لئے ہمیں نہ میر واعظ کی واعظ کی ضرورت ہے اور  نہ سید علی گیلانی کی دستخط کی ضرورت ہے۔ رہی بات ساتھ چلنے کی تو
یہاں کے سیاسی قائدین کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی بھی یک طرفہ فیصلہ ہمیں ہر گز قابل قبول نہیں ہوگی۔گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو پیپلز نیشنل الانس کے قیام پر بھی تحفظات ہیں۔وادی کے چند قوم پرست جماعتيں  مل کر پوری ریاست کی نمائندگی ایک ہی دن ایک ہی میٹنگ میں نہیں کر سکتے،پھر بھی روشن مستقبل کے لئے اس پلٹ فام کی تشکیل قابل تحسین ہے ۔ ریاست کے طول و عرض میں ایک مضبوظ نیٹ ورک  قائم کیا جاہیں۔تب ہی کہیں جا کر آزادی کا سورج طلوع ہو گا، ورنہ دور تلک شب دیجور کے سائے ہی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments