جامعہ قراقرم کو درپیش معاشی چیلنجز اور ان کا ممکنہ حل

از قلم: پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ
شیخ الجامعہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی

جامعہ قراقرم کا قیام یقینا گلگت بلتستان اور یہاں کی نئی نسل کیلئے کامیابی و کامرانی کی نوید ثابت ہوئی۔ کم و بیش 17سالوں میں اس کی بے نظیر علمی و تحقیقی خدمات نے اس خطے میں درحقیقت ایک انقلاب برپا کر دیا۔ اب تک اس جامعہ سے تقریباً 12ہزارطلباء نے اعلیٰ تعلیم کی تکمیل پر اسناد حاصل کیں ہیں۔ اس ضمن میں ابھی تک یونیورسٹی کے نو (9) کانووکیشن منعقد ہو چکے ہیں جن کے ذریعے تقریباً 6ہزار طلباء میں اسناد تقسیم کئے گئے ہیں۔ اس جامعہ نے یقینی طور پر علم و تحقیق کی آبیاری، نئی نسل کے اندر مسابقت کا جذبہ پیدا کرانے اور ان کو ملک کے دیگر علاقوں کے طلباء کے برابر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم پچھلے دو سالوں سے جامعہ قراقرم کو معاشی طور پر کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس مضمون میں ان معاشی چیلنجز کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ قارئین کی خد مت میں پیش کیا جارہا ہے۔ عمومی طور پر کسی بھی جامعہ کے اخراجات کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتاہے۔ (ا) ترقیاتی اخراجات اور (۲)جاری اخراجات۔ ترقیاتی اخراجات کا زیادہ تر یا تمام حصہ وفاقی حکومت کی جانب سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP)سے جاری کیا جاتا ہے۔ وفاقی حکومت یہ رقم ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی مد میں جاری کرتی ہے اور منظور شدہ شیڈول کے مطابق تمام یونیورسٹیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ عمومی طور پر یہ رقم، جامعات میں تعمیراتی، ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ، جدید ٹیکنالوجی کے حصول، تحقیق اور فزیکل انفراسٹرکچر کی مدوں میں خرچ کی جاتی ہے۔پچھلے ڈیڑھ دہائیوں میں ہائیر ایجوکیشن کی مد میں فیاضانہ رقوم جاری کی گئیں، جس کی وجہ سے جامعات اور ڈگری جاری کرنے والے اداروں میں نئی تعمیرات، فیکلٹی اور سٹاف کی صلاحیتیں بڑھانے، تحقیق و ترقی کی مد میں کافی بہتری آئی ہے۔ اس سے قبل جبکہ HECکا قیام عمل میں نہیں آیا تھا۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے ذریعے عمومی طور پر جامعات میں جاری غیر ترقیاتی کاموں کیلئے رقوم جاری کی جاتی تھیں۔ تاہم HECکے قیام کے بعد جامعات کے اندر انفراسٹرکچر اور ہیومن ریسورس یعنی انسانی ذرائع کی مدوں میں کافی ترقی ہوئی ہے اور اس کے لئے وفاقی حکومتیں اور HECتحسین و تعریف کے مستحق ہیں۔ اس ضمن میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کو اپنی فزیکل انفراسٹرکچر اور عمارات کو بہتر بنانے کیلئے اور فیکلٹی کی استعداد بڑھانے اور ان کو اعلیٰ تعلیم یعنی PhDسے آراستہ کرنے کیلئے گاہے بگاہے منصوبے منظور ہوئے ہیں۔ جن میں قابل ذکر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قیام کا پہلا منصوبہ، ہاسٹلز کی تعمیر، اکیڈمک بلاکس کی تعمیر وغیرہ شامل ہیں۔ اس وقت جامعہ قراقرم میں دو بڑے منصوبے تقریباً ایک ارب روپے کی لاگت سے زیر تعمیر ہیں جن میں تقریباً 70کروڑ روپے کی لاگت سے فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور 35کروڑ کی لاگت سے بوائز ہاسٹل اور سپورٹس جمنازیم کی تعمیر شامل ہیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ ان منصوبوں کی بروقت تعمیر سے گلگت بلتستان میں ایک طرف جہاں انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی تعلیم اور تحقیق کو فروغ ملے گا۔ دوسری طرف ہاسٹلز اور کھیلوں کی سہولتیں میسر آنے سے نوجوانوں اور طلباء کو یونیورسٹی میں قیام اور ذہنی و جسمانی نشوونما کے لئے وافر مواقع فراہم ہوں گی۔
اخراجات کا دوسرا بڑا حصہ جاری امور کیلئے مختص ہوتا ہے جس میں زیادہ حصہ ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر الاؤنسز کی مد میں خرچ ہوتا ہے اس کے علاوہ یونیورسٹی کے دیگر ضروری امور جن میں ٹرانسپورٹ، یوٹیلٹیز، ملازمین کے سفری اخراجات، یونیورسٹی کے اثاثوں کی دیکھ بھال اور مرمت وغیرہ بھی شامل ہیں۔ پچھلے ایک دہائی میں ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز میں اضافے کی وجہ سے یونیورسٹی کے جاری اخراجات کا ایک بڑا حصہ تقریباً 70فیصد ملازمین سے متعلق اخراجات میں صرف ہوجا تا ہے۔ جبکہ با قی امور کیلئے محض 30فیصد رہ جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے جامعات اور خصوصاً چھوٹے جامعات میں دیگر امور کو چلانے کیلئے خاطر خواہ رقم موجود نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ جا معات کے اندر ٹرانسپورٹ، ہاؤسنگ، ہاسٹلز کی دیکھ بھال وغیرہ کی حالت بد تر ہوتی جارہی ہے۔ ان اخراجات کو پورا کرنے کیلئے اس کا بڑا حصہ تقریباً 60سے 70فیصد جامعات نے خود اپنی وسائل سے پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ایک کامیاب جامعہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے محاصل کو روایتی مدوں سے غیر روایتی مدوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ عموی طور پر ان کو 30سے 35فیصد وفاقی یا صوبائی حکومت کی گرانٹ سے ملنی چاہئے اور باقی 65سے 70فیصد دیگر ذرائع سے پیدا کرنا چاہئے جن میں 30سے 35فیصد سٹوڈنٹس فیس کے ذریعے اور باقی 30سے 35فیصد غیر روایتی ذرائع جن میں صوبائی حکومت کے ساتھ مختلف پراجیکٹس، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پراجیکٹس اور نان ڈگری پروگرامز وغیرہ شامل ہیں۔

اگر جامعہ قراقرم کے اخراجات کی تفصیل برائے مالی سال 2019-20کا ایک اجمالی جائزہ لیا جائے تو اس کا کل تخمینہ تقریباً 85کروڑ روپے ہیں۔ جس میں تقریباً 70فیصد یعنی 55کروڑ روپے ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز، پنشن اور ان کے بہبود سے متعلق ہیں جبکہ یونیورسٹی کے دیگر امور پر اخراجات کا تخمینہ تقریباً 30کروڑ روپے ہیں۔ یہ رقم یونیورسٹی کے ضروری امور کو چلانے کیلئے ناکافی ہے۔
اگر محاصل کی مد میں دیکھا جائے تو قراقرم یونیورسٹی کے تین اہم ذرائع ہیں جن میں وفاقی حکومت (HEC) گرانٹس، کے آئی بورڈ سے حاصل ہونے والی رقم اور طلباء کی فیسوں سے جمع کی جانے والی رقم۔
عمومی طور پر وفاقی حکومت کی جانب سے اخراجات کا تقریباً 40فیصد دیا جا ہے۔ ان کا انحصار طلباء کی تعداد، یونیورسٹی کے دیگر ذرائع آمدن اور وفاقی حکومت سے HECکو ملنے والے سالانہ گرانٹ پر ہوتا ہے۔ HEC نے پچھلے سال قراقرم یونیورسٹی کو مجموعی طور پر 42کروڑ روپے کا گرانٹ دیا جس میں تقریباً 4کروڑ روپے بلتستان یونیورسٹی کو ان کے جاری اخراجات یعنی تنخواہوں اور الاؤنسز کی صورت میں دینا پڑا گو کہ یہ رقم جامعہ قراقرم کے سالانہ تخمینہ برائے سال 2018-19میں شامل نہیں تھی۔ تاہم یونیورسٹی نے اپنے دیگر ذرائع آمدن میں بہتری لا کر جامعہ بلتستان کو مذکورہ رقم جاری کردی۔ تاکہ وہاں کوئی معاشی مسئلہ نہ بن سکے۔
یونیورسٹی کے آمدن کا دوسرا بڑا حصہ کے آئی یو بورڈ کے امتحانات سے حاصل ہور ہا تھا جو تقریباً 18سے 19کروڑ کے درمیان تھا۔ اس خطیر رقم کے حصول کی وجہ سے قراقرم یونیورسٹی نے ابتداء سے طلباء کی فیس انتہائی کم رکھی گئی تھیں۔ عمومی طور پر ان فیسوں کو 15ہزار فی سمسٹر کی سطح پر رکھا گیا تھا۔ تاکہ اعلیٰ تعلیم کے ثمرات گلگت بلتستان کے طول و عرض تک پہنچ سکیں۔ یہی وجہ سے کہ قراقرم یونیورسٹی نے کم وبیش 12ہزار طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔ ان میں تقریباً 6ہزار طلبہ 9کانووکیشن کے ذریعے اپنی اسناد حاصل کیں۔ کے آئی یو بورڈ کی کارکردگی سے حوالے سے کچھ شکایا ت اور تحفظات کی وجہ سے گلگت بلتستان حکومت نے جولائی 2018ء میں سرکاری سکولوں اور کالجوں کی الحاق وفاقی بورڈ کے ساتھ کرانے کا فیصلہ کیا۔ جو راقم کے جامعہ قراقرم میں وائس چانسلر کی تعیناتی کے ایک مہینہ بعد کیا گیا۔ راقم نے بورڈ کے معاملات کو بہتر بنانے اور اس کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کیلئے کم و بیش پانچ کمیٹیاں تشکیل دی گئی۔ جس میں سلیبس کا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد اس میں بہتری کیلئے کمیٹی، امتحانات کرانے، پیپرز کی تیاری اور پیپر چیکنگ کے ساتھ ممتحنین کیلئے مشاہرے وغیرہ کیلئے متعلقہ ماہرین کی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ اس اصلاحات کے اطلاق کے نتیجے میں کے آئی یو بورڈ کے امور میں واضح بہتری آناشروع ہوئے۔ جس کو عمومی طور پر حکومت اور معاشرے کے دیگر ماہرین نے بھی سراہا ہے۔ تاہم گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کے فیصلے کی وجہ سے قراقرم یونیورسٹی کو امتحانات کی مد میں محاصل میں واضح کمی ہوئی ہے۔امسال ان محاصل میں ایک کروڑ کی کمی ہوئی ہے جو اگلے سال تقریباً 6کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ اس لئے HECکی گرانٹ میں 4کروڑ کی متوقع کمی اور امتحانات سے 6کروڑ کی کمی کی وجہ سے جامعہ قراقرم کے 85کروڑ کے جاری اخراجات پوری کرنے کیلئے 10کروڑ کی کمی کا چیلنج کا سامنا ہے۔ جو ایک چھوٹی یونیورسٹی کیلئے ایک انتہائی بڑا مسئلہ ہوگا۔
جامعہ قراقرم کے محاصل کا تیسرا بڑا ذریعہ طلباء کی فیسوں کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی ہے۔ یہ رقم پچھلے سال 13کروڑ سے بڑھ کر 18کروڑ تک پہنچ گیا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ نئے پروگرامز کا اجراء جن میں فارسٹری پروگرام، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، اردو اور مائننگ انجینئرنگ وغیرہ شامل ہیں۔ اگر اجمالی طور پر دیکھا جائے تو یونیورسٹی کو تقریباً 70سے 85کروڑ روپے کی کمی کا سامنا ہے جس کی تفصیل درج بالا سطور میں دی گئی ہے۔ اس وقت مختلف پروگرامز کی فیسوں میں کافی تضاد ہے۔ کہیں تو فیس محض 14سے 15ہزار تک ہیں اور نئے پروگرامز میں یہ فیس انتہائی مناسب یعنی 30سے 40ہزار تک ہے۔
انتہائی تعجب کی بات ہے کہ فزکس، کیمسٹری اور دیگر سائنس کے پروگرامز کی سمسٹر فیس محض 12سے 15ہزار ہے جو انتہائی غیر مناسب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان شعبہ جات میں فیس کی آمدنی سٹاف کی تنخواہیں بھی پوری نہیں کی جاسکتی۔ اس ضمن میں کے آئی یو نے فیس کو مناسب سطح تک بڑھانے کیلئے تجاویز اور سفارشات یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ اور سینٹ سے منظور کرائی ہیں۔تاہم اس کے اطلاق سے طلباء کے اعلیٰ تعلیم کے حصول میں رکاؤٹیں حائل ہونے کا اندیشہ ہے۔
جامعہ قراقرم اس وقت گلگت بلتستان میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے منفرد اور نمایاں ادارہ ہے جس نے کم وبیش 15سالوں میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اس خطہئ میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے فروغ کیلئے اس جامعہ کی ترقی اور معاشی استحکام ناگزیر ہے۔ یقینی طور پر جامعہ کو بہتر بنانے کیلئے مزید محنت کی ضرورت ہے۔اور اس ضمن میں بحیثیت شیخ الجامعہ راقم نے اصلاحات کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جس کی وجہ سے جلد یہاں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کا معیار بلند ہوجائے گا۔
جامعہ قراقرم کو اعلیٰ تعلیم و تحقیق، انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی تعلیم، معیار کی بلندی کے ساتھ اس کو جدید خطوط پر لانے کیلئے ضروری ہے کہ اس کو معاشی طور پر بھی مستحکم کیا جائے۔ موجودہ تقریباً 8سے 10کروڑ روپے کی کمی کی وجہ سے اندیشہ ہے کہ کامیابیوں کایہ سفر آگے نہ جاسکے۔ اس ضمن میں درج ذیل تجاویز زیر غور ہیں۔
۱۔ سادگی اور کفایت شعاری کا مہم: یونیورسٹی میں اخراجات کی کمی کیلئے ضروری ہے کہ سادگی اور کفایت شعاری کو فروغ دیا جائے۔ اس ضمن میں ٹرانسپورٹ کے پیٹرول اور ڈیزل کے خرچے میں نمایاں کمی کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں مختلف ملازمین کیلئے مختص گاڑیوں کے پیٹرول اور ڈیزل کے اخراجات میں کم از کم 50فیصد بچت کی جائے گی۔ میٹنگ میں سادہ چائے دی جائے گی۔ ایک گھنٹے سے کم دورانیہ کی میٹنگ میں کوئی چائے وغیرہ نہیں دی جائے گی۔ ہر قسم کی ضیافت، سرکاری دعوتوں اور ڈنرز وغیرہ پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ملازمین کی TA/DAمیں کم از کم 40فیصد تک کمی کی جائے گی۔ اسلام آباد اور دیگر شہروں میں میٹنگ کی صورت میں تین دنوں کا TA/DAادا کیا جائے گا۔ اور کسی دورے کے دوران ایک سے زیادہ میٹنگز ہوں تو اس صورت میں اضافی دنوں کیلئے خصوصی منظوری لی جائے گی۔ اسلام آباد میں یونیورسٹی کی باڈیز مثلاً سلیکشن بورڈ، سینٹ کے اجلاس ایک وقت میں بغیر کسی وقفے سے منعقد کئے جائیں گے تاکہ آمدورفت کا خرچہ بچ سکے۔ بجلی کی بلوں، پانی کے اخراجات اور دیگر مرمت وغیرہ کے اخراجات میں نمایاں کمی کی جائے گی تاکہ یونیورسٹی کو ممکنہ مالی بحران سے بچایا جاسکے۔
محاصل یعنی آمدن کے ذرائع بڑھانے کیلئے ضروری ہے کہ قراقرم بورڈ میں اصلاحات اور اس کے اندر بہتری کی بنیاد پر صوبائی حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر ے اور ممکنہ صورت میں قراقرم بورڈکی اصلی حیثیت کو بحال کرے۔ اس ضمن میں یہ تجویز بھی ہے کہ قراقرم بورڈ کو بتدریج گلگت بلتستان بورڈ میں منتقل کیا جائے تاکہ اس کے تجربات سے استفادہ کیا جاسکے۔ اس ضمن میں سفارشات پہلے ہی صوبائی حکومت کو پیش کی گئیں ہیں۔
دوسرا بڑا ذریعہ فیسوں کی آمدن کو بڑھانا ہے جس میں تمام فیسوں میں 10سے 50فیصد تک اضافہ کی تجویز کیا گیا ہے۔ اس وقت تمام فیسوں کو کم از کم 20ہزار فی سمسٹر کی سطح پر لانے کی تجویز ہے۔ اس طرح باقی فیسوں میں اضافے کی بھی ضرورت ہے۔ وائس چانسلر اور اس کی ٹیم کو فیسوں کے اضافے کی وجہ سے طلباء پر بوجھ بڑھنے کا احساس ضرور ہے لیکن بد قسمتی سے یونیورسٹی کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ ہماری کوشش ہوگی کہ اس اضافے کو لوگوں کی معاشی استعداد  اور صلاحیت کے اندر رکھیں۔ اس ضمن میں تمام والدین اور طلباء کے رشتہ داروں سے ہماری گزارش ہوگی کہ مشکل کی اس گھڑی میں جامعہ قراقرم کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اس دانشگاہ کو ممکنہ بحران سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہم تمام والدین کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے زیور سے آراستہ کرنے میں ہم اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
آمدن کو بڑھانے اور اس کی اساس کو وسیع کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم نئے پروگرامز اور نان ڈگری کورسز شروع کرالیں۔ اس ضمن میں تمام شعبہ جات کو یہ ٹارگٹ دیا گیا ہے کہ وہ نئے پروگرامز شروع کراکے اپنے شعبہ میں داخلوں کو کم ازکم 50فیصد بڑھادیں۔ اس سے ممکنہ طورپر طلباء کی تعداد 1500سے 2000تک اضافہ ہو سکے گا۔ جس میں فیسوں کی آمدنی میں اضافہ ممکن ہوسکے گا۔
ORICکے ذریعے یونیورسٹی میں کنسلٹنسی سروسز کا آغاز کیا جائے جس کے ذریعے یونیورسٹی کی فیکلٹی اور وسائل سے استفادہ کراتے ہوئے ایک مربوط کے آئی یو کنسلٹنسی ڈویژن کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اس کے ذریعے گلگت بلتستان حکومت، پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر مختلف میدانوں میں سٹڈیز کرنے کی ضرورت ہے۔ ان سٹڈیز کے ذریعے جہاں فیکلٹی کیلئے فنڈنگ اور آمدن کے ذرائع پیدا ہونگے۔ وہاں ادارے کیلئے غیر روایتی آمدنی کی راہیں کھل سکیں گی۔ اس ضمن میں اورک ORICکو تمام شعبہ جات کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی ریسرچ کے حوالے سے خصوصیت کا احاطہ کر سکے اور معاشرے کے اندر تحقیق کے مواقع تلاش کر سکیں۔ اس سے ایک طرف ملکی اور عالمی اداروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے اس کی نیک نامی بھی ہوگی۔ گلگت بلتستان حکومت سے بھی اس ضمن میں گزارش کی جاتی ہے کہ وہ بھی قراقرم یونیورسٹی کے اندر مختلف سپیشلائزیشن کو مد نظر رکھتے ہوئے ان سے ریسرچ سٹڈیز وغیرہ کرائیں۔
طلباء کے ہم نصابی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور نوجوانوں کے اندر مثبت طرز فکر کو اجاگر کرانے کے لئے جامعہ قراقرم کے اندر مختلف کھیلوں، مباحثوں، ٹاک شوز، ڈراموں اور دیگر اس قسم کی تقریبات کا انعقاد اسی ذوق و شوق سے جاری رہنا چاہئے۔ اس ضمن میں پاک فوج اور ایف سی این اے سے سرپرستی کی گزارش کی جاتی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گلگت بلتستان میں پاک فوج کی لیڈر شپ نے جامعہ قراقرم کی ہم نصابی اور تحقیقی سرگرمیوں کو ہمیشہ سراہا ہے اور اس ضمن میں FCNAجناب میجر جنرل ڈاکٹر احسان محمود خان صاحب نے وقتاً فوقتاً اپنا دست شفقت ہمیشہ یہاں کے طلباء کے سر پر رکھا ہے۔ چنانچہ ہم امید کرتے ہیں کہ موصوف آئندہ بھی جامعہ قراقرم کی نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کی سرپرستی فرمائیں گے۔ اس ضمن میں راقم نے FCNAکو اپنی تحریر میں جامعہ قراقرم میں نصابی اورہم نصابی سرگرمیوں میں یو نیورسٹی کی تائید اور سرپرستی کیلئے پہلے درخواست کی ہے۔ کے آئی یو کی آمدنی کے ذرائع بڑھانے کیلئے ضروری ہے کہ یونیورسٹی تجارتی اور کمرشل سرگرمیوں میں بھی حصہ لے اور اس کیلئے مناسب حکمت عملی تیار کرے۔ کے آئی یو کمرشل سنٹر کے احاطے میں ایک پیٹرول پمپ اور سروس سٹیشن وغیرہ کی تعمیر کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے کے آئی یو زیر تعمیر نلتر ایکسپریس وے پر ایک شاندار پیٹرول پمپ، سروس سٹیشن، کیفٹیریا وغیرہ کی سروس کی فراہمی کیلئے بھی منصوبہ بن رہا ہے جو نہ صرف سیاحوں کو بہترین خدمات بھی فراہم کرنے کا موجب بنے گا بلکہ اس سے یونیورسٹی کو خاطرخواہ آمدنی بھی موصول ہوگی۔

جامعہ قراقرم اپنے فارغ التحصیل طلباء کے ساتھ شراکت داری کی بنیاد پر کاروبار کی اجراء کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ اس ضمن میں کے آئی یو بزنس انکوبیشن سنیٹر (KUBIC)کے ذریعے طلباء کو بہترین تربیت دی جائے گی اور ساتھ ساتھ ان کے درمیان مقابلے کی بنیاد پر کیمپس کے اندر مختلف کاروبار شراکت کی بنیاد پر شروع کرائے جائیں گے۔ جن میں ریسٹورنٹ، کافی شاپ، کے آئی یو سونیئرز شاپ، ڈریس شاپ، اسٹیشنری شاپ وغیرہ کے کاروبار شامل ہیں۔ دوسرے مرحلے میں کے آئی یو گلگت بازار اور دیگر شہروں میں اپنے طلباء کے ساتھ مل کر شراکت کی بنیاد پر کاروبار شروع کرے گی۔

جامعہ قراقرم یقینی طور پر گلگت بلتستان کی نئی نسل کو جدید دورکے تقاضوں سے ہم آہنگ کرانے اور علم و تحقیق کے میدان میں ان کو آگے لانے کے لئے ایک بھر پور کردار ادا کر رہی ہے۔ اس جامعہ کے ذریعے طلباء کی شخصیت سازی اور ان کے اندر تحقیق و جستجو اور حب الوطنی کے جذبوں کی آبیاری جاری ہے۔ تاہم جامعہ کو ان تمام اہداف کے حصول کیلئے ایک معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں تمام اداروں بشمول صوبائی حکومت، وفاقی حکومت، پاک فوج (FCNA)، عدلیہ، انتظامیہ، معاشرے کے متمول حضرات، این جی اوز، نجی ادارے اور الغرض معاشرے کے تمام افراد سے اپنا بھر پور کردار ادا کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔

ہمیں اللہ تعالیٰ سے بھر پور امید ہے کہ جامعہ ان درپیش مسائل اور چیلنجز سے بہترین انداز میں نبرد آزما ہوسکے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments