موت سے زندگی کی طرف

دورۂ اپر ہنزہ کا یہ ہمارا دوسرا دن تھا، غلکن میں تقریر کے لیے اٹھا تھا اتنا مجھے یاد تھا لیکن جب آنکھ کھلی تو خود کو کسی ہسپتال کے بستر پر پایا، ذہن میں جھماکہ ہوا۔ ڈرپ لگی تھی، ڈاکٹروں کی ٹیم آپس میں سرگوشیاں کر رہی تھی۔ میں سمجھنے سے قاصر تھا کہ ہوا کیا تھا مجھے تو بس اتنا یاد تھا کہ میں تقریر کے لیے اسٹیج کی طرف گیا تھا کوئی بیس بائیس منٹ بولا تھا کہ چکر آیا، اس کے بعد نہیں معلوم کیا ہوا۔ میرے ساتھ آئے ہوئے دوستوں کا کہنا تھا کہ میں تقریر کرتے کرتے گر گیا تھا، پھر مجھے کس طرح ہسپتال پہنچایا گیا تھا مجھے نہیں پتہ۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ میرا بلڈ پریشر بہت لو ہوا تھا، ایک نارمل انسان کا ایک سو بیس سے ساٹھ کے درمیان ہونا چاہئیے تھا جبکہ میرا بلڈ پریشر اتنا لو ہوا تھا کہ ساٹھ اور نوے کے درمیان تھا۔ میں ان تمام احباب کا ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھے ہسپتال پہنچایا، میری تیمارداری کی اور مجھے موت سے زندگی کی طرف لائے۔ غالباً اس لیے کہا جاتا ہے کہ اچھے لوگ نہ ہوتے تو محبت نہ ہوتی۔ انسانیت کب کا ختم ہوچکی ہوتی۔۔۔۔۔۔۔ انسان بے بس ہے اس کا احساس ایسے موقعوں پر ہوتا ہے۔ ہم کیا کیا پلان کرتے ہیں لیکن اوپر والے کو کچھ اور ہی منظور ہوتا ہے۔

کل صبح سے طبیعت بوجھل تھی۔ سر میں درد تھا۔ میں نماز فجر کے بعد چہل قدمی کرتے دریائے گلمت کے کنارے پہنچا تھا۔ دریا کے یخ پانیوں میں پاؤں ڈبوئے پھسو کونز پر سورج کی کرنوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ پھر شاید پہاڑ ہلنے لگے تھے، دریا کی اُچھل کود میں بھی کچھ زیادہ ہی اضافہ ہوا، شاید مجھے چکر آیا تھا، میں جلدی جلدی دریائے کے کنارے سے ننگے پاؤں ہی دُور بہت دُور نکل آیا تھا۔ اس کی وجہ گلگت سے ہنزہ تک سفر پھر رات گئے تک مختلف پروگرامز میں شرکت تھی۔ میں گلگت سے کریم آباد ہنزہ اور وہاں سے گلمت گوجال پہنچا تو حکم ملا مجھے ششکٹ جانا ہے وہاں وعظ و نصیحت کا پروگرام تھا۔ بعد ازاں نوجوانوں کے ساتھ ایک نشست تھی۔ سوال جواب کا سیشن ہوا۔ جو بہت دلچسپ رہا۔ اس اثنا ہمیں امام داد ملے، امام داد صاحب جوان تو نہیں ’’بال سفید ہوئے تو کیا دل تو ابھی بھی جوان ہے‘‘ کے مصداق بہت سارے سوالات لے کر نوجوانوں کے اس پروگرام میں حاضر ہوا تھا۔ سوالات کا تعلق دینداری سے کم دنیاداری سے زیادہ تھا، ان کا کوئی کیس کورٹ میں پڑا تھا، وہ اس حوالے سے مجھ سے فتویٰ چاہتے تھے۔ میں نے کہا واعظین کے پاس فتویٰ نہیں التجا ہوتی ہے۔ وہ حیران ہوئے۔ میں نے کہا میری التجا ہے کہ آپ اپنے کیس کورٹ سے واپس لے کر مقامی بزرگوں اور عمائدین کی مدد سے یا آغا خان مثالحتی و ثالثی پینل کی وساطت سے ایک پیسہ ضائع کیے بغیر معاملہ حل کیجئے مگر امام داد صاحب بضد تھے کہ وہ کٹ مریں گے لیکن کیس واپس نہیں لیں گے۔ خیر، آدھی رات ششکٹ میں گزری تھی۔ پھر فجر کی نماز کے لیے اٹھا تو رات کی بحث و تکرار اور بغیر آرام کیے جلدی اٹھنا اور پھر ایک مہینے سے میں ڈائٹنگ میں بھی تھا وزن کم کرنے کے لیے ایک وقت کا کھانا چھوڑ دیا تھا۔ ان سب چیزوں نے غالباً اپنا اثر دکھایا تھا کہ دن بھر ہلکا ہلکا چکر آتا رہا اور میں بھی اتنا ڈھیٹ ہوں کہ ایسی چیزوں کو معمول کا حصہ سمجھتے ہوئے خاطر میں نہیں لاتا۔ لیکن کبھی کبھی ہلکی سی بے احتیاطی بھی اپنا اثر دکھا دیتی ہے۔ غلکن اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے اس بے احتیاطی نے اپنا اثر دکھاکر ہمیں اسٹیج سے ہسپتال کی یاترا کروائی تھی۔

زندگی ایک بہت بڑی نعمت ہے اس کا احساس بھی تب ہوتا ہے جب ایک دفعہ انسان موت سے روبرو ہو جائے۔ قبل اس کے کہ ہم سب بقول قرآن ’’ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے‘‘ سے ہمکنار ہونے سے پہلے اگر ایک دن کے لیے بھی انسانیت کے جذبے کے ساتھ زندگی گزارے تو شاید ہم پر انسان ہونے کی تہمت نہیں ہوگی بلکہ زندہ ہونے کی علامت ضرور ہوگی۔

اپنی دُعاؤں میں یاد کیجئے گا۔ یار زندہ، صحبت باقی!

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments