پہاڑوں اور چراگاہوں کے بارے میں

گلگت  بلتستان  میں مشہور پہاڑں کے نا موں کے علاوہ بھی گھم نام پہاڑ یا پہاڑیاں ہیں جن کے مقامی  زبانوں میں بڑے عجیب وغریب قسم  کے نام ہیں،جن کی تعرف ذیل میں کی جاتی ہے، یہ وہ پہاڑ ہیں جو  حدود  سلطان آباد اور طاؤس یا تھؤس میں واقع ہیں۔

کٹیلے چھر:   یہ سلطان آباد کے حدود  اور طاوس کے حدود کے درمیان واقع ہے یہاں سے سلیٹ یا سلیٹی کے پتھر ملتے ہیں جن سے ہم سلیٹ پر لکھنے کا کام بھی لیتے تھے، جو بازار سے خریدنے کے بجائے مفت کی اس کٹیل سے لکھتے تھے یہ لفظ بروشاسکی اور کھوار دونوں میں استعمال ہوتا ہے، لیکن ان سلیٹی نماپتھر سے ہمارا کام چل جاتا تھا، اس کے علاوہ اس میں کچھ سخت قسم کے ہوتے ہیں ان کو ایک چھرے دار بندوق جس کو مقامی اورچھترار میں بھی رپال کے نام سے  موسوم کیا جاتاہے۔ یہ ایک دیسی ساخت کابندوق ہے،اس کے نالی میں پہلے بارود ڈالا جاتا ہے جو مقامی طور پر تیا ر کیا جاتا تھا اسکے اوپر تھوڑہ ساکپڑے کے ٹکڑے ا یک سونبہ کے ذریعے کوٹ کوٹ کا ڈالاجا تا  تھا اور پھر اس کے اوپر سکے کے چھرے جس طرح بارہ بور بندوق کے کارتوس  کے چھرے ہوتے ہیں لیکن دیسی سانچے میں تیا رکیاجاتا تھا یا بندقو کی نالی کی قطر کے لحاز  سے ایک دیسی سانچے میں ایک ہی چھرہ جس کو ہنز کہاجاتا ہے تیا ر کیا جاتا تھا کو پھر اس سونبہ  کے ذریعے کوٹ کوٹ کر نیچے بٹیھایا جاتا تھا  اور اگر سکہ نہ ملے تو اس کٹیل کی سخت قسم کی پتھر سے یہ چھرے تیار کر کے اس بندوق میں لوڈ کیا جا کر شکار یا دشمن کے خلاف استعمال کیاجاتا تھا۔ ان چھروں کو چاہئے وہ سکہ سے تیار کئے گئے ہوں یا کٹیل کے پتھر سے ان کو بروشاسکی میں  موکہ کہا  جاتاہے گویا ان سلیٹی نما پتھروں کی وجہ سے اس پہاڑ کو کٹیلے چھر کہاجاتا ہے۔

بھلے چھر:  یہ بھی مشہور پہار  ہے جو غالباََتھاوس کی حدود میں آتا ہے اس کی وجہ تسمیہ معلو م نہ ہوسکی  

  بے پا یرا ناس شنگ:   بے پا خوش گاؤ، یراناس کسی جانور کا اون یا بال کترنے کو کہا جاتا ہے اس کامطلب کہ خوش گاؤ کے بال کترنے کا نالہ۔  یہ بھی ایک خشک نالہ ہے جو قدیم زمانے میں اس کام کے لئے  مخصوص کیا گیا تھا۔ یہ ایک کھڈا نما جگہ ہے جو کہ تقریباََ سو فٹ چوڑا  اور تقریباَ دوَ سو  فٹ لمبا ہے اور ارد گرد کافی اونچے چٹان ہیں اور ایک طرف نیچے ایک اُونچی خطر نا ک  عمودی پہاڑ ہے  جہاں سے مشکل سے کوئی بندہ نیچے اتر سکتا ہے اور چٹانوں  سے گری ہوئی اس  جگے کو بے پا یراناس کہا جاتاہے ہوتا یہ تھا کہ موسم بہار کے آخر میں اور موسم گرماکی آمد آمد میں وہ سارے لوگ جنھوں نے خوش گا ؤ  پالا ہوتا ہے ایک میٹنگ کے بعد کوئی دن مقررکر کے سارے لوگ اپنے اپنے گھروں سے مکوک کاآٹایا مکوتی جس کو درم کہاجا تا ہے ساتھ لیتے ہیں،مش ٹکی پکی ہوئی موٹی ڑوٹی کئی عدد، چائے پتی، گھی،مرچ مصالے   الغرض دو تین دنوں کا راشن ساتھ لیتے ہیں البتہ دودھ، ان جانوروں سے حاصل کی جاسکتی ہے اور وہ قینچی جس کو گَرے کہا جاتا ہے اس کو تیز کر نے کے لئے رہتی بھی ساتھ رکھتے ہیں اور پھر سارے لوگ پہاڑوں پرمختیلف جگہوں سے سارے خوش گاؤ  ھانک کر اس جگہ لاتے تھے  اور پھر کچھ لوگ کھانا پکانے کا کام کرتے تھے اور کچھ لوگ ان خوش گا ؤ کو اس ایک جگہ میں ہی روکنے پر معمور اور باقی لوگ باری باری سب کے بال یا اون کتروانے  کا  کام سنبھالتے تھے یہاں تک کہ سب لوگوں کے خوش گاؤ کے بال کتر واتے اور پھر اپنااپنااون اور سامان سنبھالتے اور خو ش گاؤ کو آزادچھوڑا جاتا اور اپنے گھروں کو چلے آتے تھے لیکن آج کل خوش گاؤ بہت کم لوگ پالتے ہیں اور یہ  خوش گا ؤ  کے بال یا اون کترنے والاکام کسی اور جگہ کیاجاتا  ہے۔ ان جانواروں سے جو اون حاصل کیاجاتاہے وہ  قدرے کھردرہ ہوتا ہے جسکی وجہ سے ٹوپی یا شوقہ  نہیں بن سکتا بلکہ اس سے ایک کمبل جس کوبور کہاجاتا ہے بنایاجاتا ہے، آج کل ا ن سے طولائیاں اور سر ہانے بنائی جاتی ہیں۔

  تر قہ بل:  یہ پہاڑوں کی کافی اونچائی پر ایک چھوٹا سا چشمہ ہے، بہت زیادہ ٹھنڈ کو ترق کہاجاتا ہے مثلاََ  اکھوئنگ ترق ایچم دوا  یعنی آج بہت ٹھنڈ ہے، اسی نسبت سے اس چشمے کو ترقہ بل کہاجاتا ہے جو سارا سال جاری رہتا ہے وللہ عالم باالصواب

ایسپا سانگ : بوجھ اتار کر آرام کرنے کا جگہ، یہ پتھروں کے چند کرسیاں بنائی گئیں ہیں جب کوئی شخص جڑی بوٹی کا بوجھ پیٹھ پر لاد کر بلند پہاڑوں سے اس جگہ پہنچتا ہے تو سستانے کے لئے ان پر اپنا بوجھ رکھ کر کچھ دیر آرام کرتا ہے اور جب تھکاوٹ کم ہوتی ہے  تو چل پڑتا ہے اس لئے اس جگے کا نام سستانے کا جگہ یعنی ایسپا سانگ ہے،

 پنجی مو یٹے:  میناروں کے اوپر یعنی پنجی چھوٹی سی مینار کو کہا جاتا ہے اس جگہ چھوٹے چھوٹے تین چار مینار ہیں اس لئے اس جگہ کو پنجی مو یٹے کہا جاتا ہے

دو قے پنجی یعنی دوق کامینار:  دوق ایک بندے کا نام تھا جس کا تعلق تھوئی سے تھا کہتے ہیں کہ المق کی فوج نے جب اس علاقے پر حملہ کیا تو تھوئی کے کچھ لوگ تغزی کوچک کی زیر نگرانی تھوئی سے پہاڑی راستے کو اختیار کر کے جب سلطاآباد کی طرف اترنے لگے تو تغزی کوچک کی ووربین نگاہوں نے کچھ خطرہ محسوس کیا کیونکہ اس نے دیکھا تھا کہ ہویلتی جو کہ اب سلطان آباد کہلاتا ہے کے ایک جنگل کے قریب بہت سے لوگ ہیں،اس نے اپنے تمام ساتھیوں کووہا ں روکا اور پھر اندھیرے کاانتظار کر نے کے ساتھ ساتھ منصوبہ بندی بھی کرتا رہا جس کا ذکر میں وادی  یاسین میں کیا ہے بہر حال ان کے اس دستے میں ایک سیدھا سادھا آدمی بھی تھا  جس کو اس نے اسی پہاڑ پر  رک کر سامان کی نگرانی پر مامور کیا  اور کچھ کو کو لے کر خود دشمن کے تعاقب میں گیا تو وہ سیدھا سادھا آدمی  دوق تھا اس نے وقت پاس کر نے کے ایک پنجی بنایا جو آج تک دوق یا دقے پنجی کہلاتا ہے۔میرے خیال میں یہ ا یک تاریخی پنجی ہے جو المق کی فوجی سردار کو تغزی کوچک کے ہاتھوں موت  پر دوق نے بنایا تھا،

کھشچ چھر : یہ اصل لفظ تو کھشچ چھر ہے لیکن اس کو کھہ چھر کہا جا تا ہے جو کہ کھشچ کا بگاڑ ہے، کھشچ ایک سبزی ہے جس سے پیاز کی طرح لیکن انتہائی تیز بو آتی ہے، اس کو دوائی کے طور پر استعما ل کیا جاتا ہے سال میں کہیں ایک آدھ مرتبہ کوئی بندہ ادھر سے گذرتا ہے یامال مویشیوں کے بہانے اس  پہاڑ  پر جاتا ہے تو لاتاہے اس میں بھی پالک کی طرح پانی کا مقدار زیادہ ہو نے کی وجہ سے بہت کم پانی ڈال  کر پکایا جاتاہے۔اس سبزی کی نسبت سے یہ پہاڑ کھشچ چھر یا کھہ چھرکہلاتا ہے، اس پہاڑ پر ایک اور سبزی بھی پائی جاتی ہے جس کا ذائقہ مولی  کی مانند ہے لیکن مولی سے زیادہ تیز ذائقہ ہے جس کی وجہ سے اس کو دودھ یا ملائی میں ملا کر کھائی جاتی ہے اس کو لا قا نز کہا جاتا ہے میں بہت شوق سے کھاتا تھا   

سریو خٹم:  خر گوشوں کی بیٹھنے کی جگہ  سر بروشاسکی میں خر گوش کو بھی کہتے ہیں اور دھاگے کو بھی سر کہتے ہیں،خٹم پہاڑوں میں جہاں کہیں بھی  زمین میں کافی سارا جگہ گہرے کھڈے کی مانند ہو یعنی اس کے ارد گرد چھوٹی چھوٹی چٹانیں ہوں یا  چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں ہوں یا اس کھڈے کے ارد گرد زمین تھوڑی ٹیلے کی شکل میں ہوں تو اس کھڈے نما جگہ کو خٹم کہا جاتا ہے۔ تو اس جگہ کو سریو خٹم یاخرگوشوں  کے بیٹھنے کی اسی نسبت سے کہا جاتا ہے۔ اس جگہ میں پتھروں کے نیچے چھوٹے چھوٹے غار بھی ہیں اورخر گوشوں کے کھودے ہو ے سوراخ بھی جن میں وہ خطرے کی صورت میں فوراََ چھپ جاتے ہیں ایک لطیفہ ہے کہ ایک دفعہ  ایک کھواربولنے  والے کے ساتھ ایک چھوٹا لڑکاجوکہ بعد میں سکول ماسٹر  پنشن پایا، اس وقت  چھوٹا تھا بکریاں چرانے گیا اور جب ایک خرگوش بھا گ گیاتو اس نے دوسرے بندے کو مخاطب کر کے کھوار میں آواز دیا کہ او مامو دیکھودیکھو شتر  شتر یعنی دھاگہ آپ کی طرف آیا ہے جیساکہ بروشاسکی  میں دونوں کوسر کہاجاتا ہے تو اُس لڑکے خیال کیا کہ کھوار میں بھی خرگوش شتر کہتے ہوں گے جیسے دھاگے کو شتر کہا جاتا ہے، آج بھی کسی کوکھوارصحیح نہ  آئے تو اسکے ساتھ از راہ مذاق  کہاجاتا تم بھی  شتر شتر پکارو۔

 بھرومے چھر  یا بھرومے ژینگد: بھروم  سفید چھر پہاڑ اور ژینگد پہاڑوں پر ایک ایسا ڈھلوان جو با لکل عمودی نہ ہو  اور اس پر چھو ٹے چھوٹے پتھر اور سنگریزے ہی سنگریزے ہوں ژینگد کہلاتا ہے یہ پہاڑ دراصل سفید سنگ مرمر کا ہے  لیکن مقامی زبانوں میں مرمر کا کوئی ترجمعہ نہیں کیا گیا ہے اور پتھر کو دَن کہا جاتا ہے اس نسبت سے پہاڑ کو بھرومے چھر کہا جاتا ہے یعنی سفید پہاڑ کہا جاتا ہے،اس پہاڑ کی چوٹی پر جڑاؤ ملک کا زندان ہے کہتے ہیں کہ اس کا تہہ اس پہاڑ کے نیچے ژینگد تک پھیلا ہوا ہے،

ٹوق  یا  ٹق چھر:  ٹق بروشاسکی میں صندلی کو کہا جاتا ہے یا لکڑی کا وہ ٹکرا جس پر گوشت کا ٹاجاتا ہے تو یہ چھوٹا سا پہاڑ ہے اس کو اس نسبت سے ٹق چھر کہا جاتاہے کہ اس کی شکل ٹق سے ملتا جلتا ہے

جمی جی دنجو، جوڑواں پتھر : یہ دو بہت بڑے بڑے پتھر ہیں دونوں جڑے ہوے ہیں  دونوں ایک جیسے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے دو جوڑواں بچے شکل و صورت میں ایکدوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اسی طرح  یہ پہاڑ سائز کے پتھر بھی شکل میں ایک جیسے ہو نے کی وجہ سے جمی جی دنجو یعنی جوڑواں پتھر کہا جاتا ہے

پئی جو ستینی: بکریوں کا جوڑہ بنانے کی جگہ آسان الفاظ میں بکریوں کی گنتی کرنے والی جگہ، یاسین میں بکریوں کو گننے کا طریقہ کار بھی عجیب ہے یہ ایک ایک بکری کو نہیں گنتے بلکہ دو کا جوڑہ بناکر گنا جاتا ہے اور اس گنتی کو ماژے کہتے ہیں اور کھوار میں جستیک یعنی جوڑہ بنا نا کہا جاتا ہے آساں لفظوں میں سو بکریوں کو کہاجائے گا پچاس جوڑے ہیں ڈائیریکٹ سو بکریا ں نہیں کہاجاتا، جب گڑریئے د ن بھر بکریوں کو پہاڑ پر چرانے کے بعد واپسی سے پہلے اس جگہ لا کر بکریوں کی تعداد کو اس گنتی کے ذریعے پورا کیا جاکر گھروں کو روانہ ہوتے تھے اگر کمی بیشی نظر آئی تو کچھ بندوں کو ڈھونڈنے کے لئے روانہ کیاجا تا تھا، اس لئے اس جگہ کو کھوار نام سے پئی جوستینی کہاجاتا ہے۔ چونکہ یاسین  بلکہ موجودہ غذر میں جس میں اشکومن یا اشقمن،پویال، موجودہ پونیال، گوپس سے شندور تک کے سب علاقے اور یاسین میں یہ عام رواج تھا کہ پورا، ایک گرم کے لوگ مل کر بکریاں چرایا کرتے تھے اور جس گھر میں گڑریا نہیں ہوتا ان کی بکریا ں بھی چرائی جاتیں  تھیں اور اس گھر سے روزانہ ایک ین یعنی ایک موٹی روٹی جس کا ذکر میں نے ین یا اونار کے عنوان سے کیا ہے اور سال بعد باقی رسومات کے علاوہ پا پوش کے لئے اس  گڈ ریا کو جو کہ ان کی بکریا ں چراتا تھا ایک عدد بکری کا چمڑا بھی دیا جاتا تھا اور اس طرح بکریوں کی تعداد بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے ایک ایک بکری کی نشان دہی کر کے دیکھ کر تسلی کرنا مشکل ہو جاتا اس لئے ماژے کیا جا کر یہ تسلی کی جاتی کہ سب کی بکریاں پوری ہیں

 اشقم شنگ :  سر سبز نالہ یہ ایک ایسا برساتی نالہ ہے جو ہر وقت سر سبز و شاداپ رہتا ہے اس میں گھاس کے علاوہ مختلیف جڑی بوٹی پائی جاتی ہے عام طو ر پر گلگت  بلتستاب خصوصاََ یاسین کے پہاڑ خشک ہیں اس کے بر عکس یہ نالہ سر سبز لئے ہوے ہے اس لئے اس کو اشقم شنگ یعنی سرسبز نالہ کہا جاتا ہے،  اشقم کا مطلب سر سبز اور شنگ کا مطلب نالہ،  اس طرح یہ جگہ اس نام سے مشہور ہے.

  قاریئین کرام یہ سارے نام ،زمانہ قدیم سے ہیں اس کا مطلب ہے کہ اس علاقے کے سب سے قدیم باشندے بروشو قبائل تھا  جیسا کہ سید یحیٰ شاہ صاحب کے مطابق یاسین 707   ء  میں بروشال کا ہیڈکوارٹر تھا، وللہ عالم باالصواب

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments