کالمز

دھڑکنوں کی زبان  ……. بلاوے کا خوف

محمد جاوید حیات

کیا عضب ہے ساحر لدھیانوی کوعالی گڑ ھ والوں نے دعوت دی کہ عالی گڑھ تیرا مادر علمی ہے گولڈن جوبلی پہ ا ٓجاؤ۔اس نے نظم لکھی۔۔ساحر واقعی میں ساحر تھا۔۔اس کو بلانا جائز اس کوبھولنا کفر۔۔لیکن میں۔۔میں سوچ کر خود اس ”میں“ میں ڈوب جاتا ہوں۔رب کسی کواس کی حقیقت سے آشنانہ کرے اگر کوئی سمجھے کہ میں ”کون“ ہوں تو جینا مہلک مرض بن جاتا ہے۔۔گورنمنٹ ڈگری کالج چترال عظیم چترالیوں کا مادر علمی ہے۔اس نے چترال کو ہرشعبہ زندگی میں ہیروز دیئے جو چترال کی پہچان ہیں۔ مجھ کہنگال کو یہ کہتے ہوئے انگڑائی آتی ہے کہ یہ میرا بھی مادر علمی ہے۔جب پروفیسر ضیاالحق صاحب نے مجھے بتایا کہ آپ بھی ہمارے پروگرام میں مدعو ہیں تو سچ مچ میں میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔کہ میں نری آن پڑھ وہاں کس حیثیت میں آؤں گا۔آج تو وہاں علم کے سمندر موجزن ہیں۔ہم پروفیسر ممتاز صاحب کی محفل میں بیٹھ کے کچھ سننے سے خوفزادہ ہوتے ہیں کہیں سننے میں بے ادبی نہ کریں۔اور پھر چترال کے ایسے ایسے فرزندان علم وہاں پہ براجمان ہیں کہ ان پہ زمانہ فخر کرے۔۔سچ کہدوں کہ آخر کو ہم نے پڑھا کیا۔۔کچھ نہیں۔۔۳۸۹۱ء اگست کی کوئی تاریخ تھی کہ ایک سہما ہوا بچہ اپنے ابو کے ساتھ کالج کے گیٹ سے اندر داخل ہوا۔۔سارے نوجوان سفید پوش عضب کی ترت پھرت سے ادھر ادھر آجا رہے تھے۔ہم ایک کمرے میں داخل ہوئے تو ابو کو ایک مہربان لکچرر مل ہی گیا۔۔ابو کو اس نے ”میرا استاد کہا“ شوق دیدار ذوق تعارف میں بدل گیا بعد میں پتہ چلا کہ میرے محترم کریم بیگ صاحب تھے۔۔لے دے کے داخلہ ہوا۔ہمارے ڈی پی ای صاحب کو ابو نہیں گویا ایک سوغات ہاتھ لگا تھا بہت احترام کیا آ گے دفتر میں چائے آئی۔۔اتنے میں ایک وجیہ صورت شخصیت دھماکے سے دفتر میں داخل ہوا اس کے ساتھ اور بھی سارے لوگ تھے۔اس نے ابو کے سینے لگے ہاتھ چوما۔کہا۔۔۔”سر! آپ کا خادم سیدتوفیق جان“ ابو نے ڈھیر ساری دعائیں دی۔سہمے ہوئے بچے کی طرف دیکھا ہاتھ ملایا۔۔بچہ چمک کے رہ گیا۔۔پھر ہمیں مہذب ساتھیوں کے حوالے کیاگیاجنھوں نے ہمیں حوصلہ مند اور بہادر بنانے کے لئے بہت تگ و دو کئے اور ہم بہادر بنتے گئے۔۔کالج کے درو دیوار سے آشنائی ہوئی تو کلاس رومز کی طواف ہونے لگیں واجبی سے لکچر ہوتے۔ہم اساتذہ کرام کے اسمائے گرامیوں سے واقف ہوتے رہے۔۔اب استاد کی جگہ”صاحب“ اور”سر“ کہنے لگے۔ یہ”سر لوگ“ بہت اچھے تھے۔مست مست اپنی دنیاؤں میں۔۔ ہم کو سکولوں ہی کی ہوا لگتی کوئی تبدیلی محسوس نہ کرتے۔۔بس وہی ”پڑھو بچو والی“ کشن۔۔۔

کسی من چلے نے کہا۔۔۔ کہ چلو لائبریری چلتے ہیں۔ جاتے جاتے لائبریری کے بڑے دروازے کے ساتھ ایک چھوٹے قدکے تیز تھرار ”شخصیت“ کاسامنا ہوا۔ہم کہتے مگر ہم نے اس سے پہلے سنا ”اسلام علیکم“ ہم خجل سے ہوگئے۔۔سہم سے گئے۔۔ دوستوں کے ”بہادر بنانے“ کے گر بھی یہاں پہ کام نہ آئے۔لیکن دل میں ایک خلش سی اٹھی کہ یہ ”کون“ ہو سکتا ہے۔۔ایک گھنٹے بعد کسی نے کہا۔۔اردو کی کلاس لگی ہے۔۔ہم کلاس میں داخل ہوئے تو وہی مسکراتا چہرہ کمرے میں داخل ہوا۔۔کمرے میں سٹیل کی چھوٹے سائز کی کرسیاں ہوا کرتی تھیں ۔۔علم وعمل کے سفر میں پہلی بار ہمیں کرسیاں میسر آئی تھیں۔۔کلاس میں ستر طلباء تھے۔۔مسکراتا چہرہ۔۔سامنے آن کھڑا ہوا۔۔کوئی رسٹروم نہیں ہوا کرتے۔۔اس نے بسم اللہ پڑھا۔۔آواز عضب کی دلنشین اور اُونچی تھی۔۔”میرا نام عنایت اللہ فیضی ہے میں آپ کو اردو پڑھاؤں گا اس سمے وہ چھت کی طرف دیکھ رہے تھے شاید یہ اشارہ ایک استعارہ تھا کہ اونچی اڑان بھرو میرے بچو بعدمیں پتہ چلا کہ خود اس کی اڑان اونچی تھی بہت اونچی ۔۔ہم نے کیا پڑھا کیا سنا یہ تو یاد نہیں البتہ وہ پہلا سبق یاد ہے۔۔کہ میں آپ کو اردو پڑھاؤں گا۔۔ہم نے بس اردو پڑھی ساری زندگی اردو پڑھی اردو کی کلاس آتی تو چہرے دمک اُٹھتے۔۔سردیاں آگئیں تھیں۔۔ہم کلاس سے باہر لان میں بیٹھے تھے۔۔یہ مسکراتا چہرہ ہمارے درمیان کرسی ڈال کے بیٹھے تھے۔۔کہا۔۔کہ یہ لو بیت بازی کرتے ہیں۔۔ہمیں پتہ نہیں تھا کہ بیت بازی کیا ہوتی ہے۔۔طریقہ بتایا۔۔حرف ”ن“ پر میں نے ہاتھ اُٹھا یا۔۔کہا جی۔۔ میں نے کہا۔۔

نیند اس کی ہے،دماغ اس کا ہے، راتیں اس کی ہیں۔ تیری ذلفیں جس کے بازو پر پریشان ہو گئیں

مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میں نے کیا کہا۔۔البتہ مسکراتے چہرے نے بہت شاباشی دی اور تعارف تک پوچھا۔۔پھر ایک سلسلہ چل نکلا۔۔ بزم ادب کی بنیاد پڑی مشاعرے ہوتے رہے۔ساتھی شاعر بنتے گئے۔۔ایک دنیاسی بدل گئی۔ہمیں احساس ہوا کہ حبس زدہ کلاس روم سے باہر بھی ایک دنیا ہوتی ہے جہان جذبات اور صلاحیتوں کی عطر بیز ہوائیں چلتی ہیں۔ہم کچھ رموز حیات سے واقف ہوئے۔۔کم از کم انسانیت کا احترام کرنا سیکھ گئے۔۔ہمارے مربیوں میں رسول شاہ صاحب اور اقبال حیات سر ہماری رہنمائی میں پیش پیش ہوتے۔۔یہ ایک سحر تھا جس کی زد میں آج تک ہیں۔ مادر علمی میں ایک زندگی گزاری۔۔ساتھیوں کی صحبت کی خوشبو۔۔مربیوں کے احترام کی خوشبو۔۔ بہت سارے ساتھیوں کی محبت کی خوشبو۔۔کالج اور ہوسٹل میں ان سر گرمیوں کی خوشبو۔۔۔کالج کے درو دیوار کی یادوں کی خوشبو جان سے چھوٹتی نہیں ہیں۔۔۔۔۔

ایک یاد ہے جو دامن د ل چھوڑتی نہیں ایک پیڑ ہے جو لپٹی ہوئی ہے شجر کے ساتھ

آج یہی مادر علمی ایک عظیم درس گاہ ہے۔۔یہ کمتر و کہتر یہاں آنے سے کتراتا ہے۔اس کی کم علمی آڑے آتی ہے ۔وہ شمع علم کے پروانوں ’طلباء و طالبات‘ کے نزدیک کہنگال ٹھرایا جائے گا۔۔پروفیسر ضیا الحق اور پروفیسر سیف الانعام کے سامنے اردو نہ بول سکے گا۔پروفیسر سراج، پروفیسر خالد ظفر اور پروفیسر عتیق کے سامنے کہیں کوئی انگریزی لفظ بھولے سے بولے گا تو کسمسا جائے گا۔۔کیوں جائے۔۔نہ جائے۔۔اپنے جذبات کوٹوٹے پھوٹے الفاظ میں یوں بیان کرے۔۔۔ ۔۔

میری یادوں میں کہیں بھی تیرا شاہکار نہیں وہ چمکتے ہوئے تارے میں کہاں سے ڈھونڈوں

میں نے کیا کھویا اور کیا پایا مجھے یاد نہیں تیرے حصے کے دلاویز نظارے میں کہاں سے ڈھونڈوں

میری کم مائیگی زیست کے کانٹے ہیں ادھر اپنے اُڑتے ہوئے خوابوں کے غبارے میں کہاں سے ڈھونڈوں

میری دہلیز پہ غربت کی لکیریں تھیں جمی اُٹھتے طوفانوں کے وہ بچھڑے کنارے میں کہاں سے ڈھونڈوں

فقط

محمد جاوید حیات

سابق طالب علم جی ڈی سی چترال

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: