اینگلو بروشوجنگ کو 128 برس مکمل

فرمان کریم، ذوالفقار علی خان

اینگلو بروشوجنگ کو 128 برس مکمل  ہونے پرنگر میں یادگاری تقریب کا انعقادکیا گیا

  راکاپوشی ویو پوائنٹ پہ منعقدہ یادگاری تقریب کے مہمان خصوصی سیکرٹیری سیاحت فضل خالق تھے جبکہ ممبر اسمبلی جاوید حسین ، ڈسٹرکٹ کمشنر نگربھی تقریب  میں موجود تھے۔

اس موقع پرنگر کے علاقائی رقص پیش کیا گیا   جنگیر لئی میں استعمال ہو نے والے اسلحے کی نمائش بھی کئی گئی۔

  اس تاریخی محرکے کو نگر میں جنگیر لئی کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔   اس لڑائی میں نگر کے عوام نے کم وسائل کے باوجود  دلیری سے مقابلہ کیا۔  یہ لڑائی یکم سے22 دسمبر 1891تک جاری رہی۔  نلت فورٹ مختصرلڑائی کے بعد 2 دسبمبر کو برٹش راج کے زیر تسلط آیا جبکہ تھول فورٹ اور مایون فورٹ پہ قبضہ کے لئے 20 دسمبر تک نلت نالہ پہ شدید مزاحمت کا سامنا رہا۔ راجہ جعفر خان کی حکومت کے دوران لڑی جانے والی اس  جنگ میں 100مقامی افراد نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور 127 افراد نے بعد میں جیل کی صعوبتیں برداشت کی۔

 تاریخی طورپر  یہ معرکہ کرنل ڈیورنڈ  کی سربراہی  میں برٹش انڈیا کے ہنزہ نگر کمپین کا حصہ تھا۔ اس  کمپین کا مقصدعلاقے میں روسں اورچینی اثرو رسوخ  کو محدود  اور سرحدی علاقوں تک برٹش راج کے اثر بڑھانے کے لیے نگر اور ہنزہ کو زیر تسلط لانا تھا۔

  اس معرکے میں برٹش راج کی طرف سے چاربرٹش آفیسرزاور پچاس کے قریب ڈوگرہ ، کشمیری اور پونیال لیویز جان بحق ہو گئے۔

 ہنزہ نگر کے اس تاریخی کمپین کی اہمیت کا اندازہ اس بات سےلگایا جاتا ہے کہ جنگ میں  کامیابی پر انگریزفوج کو تین وکٹوریہ کراس اوردوسرےاعلی انعاما ت ملے۔

 نگر میں تھول فورٹ پہ قبضہ کے بعد مزید مزاحمت کیے بغیر سپہ سالارراجہ آزور خان آف  نگراور میر صفدر علی خان آف ہنزہ چینی ترکستان کی طرف بھا گ گئے۔  23 دسمبرکو بالاخر بلتت قلعہ برٹش راج کے زیر تسلط لایا گیا۔

 میر آف ہنزہ صفدر علی خان راجہ آف نگر جحفر خان کے بھانجے تھے۔ اس معرکہ سے پہلےدونوں حکمران  چپروٹ اور چھلت قلعوں سے کشمیری افواج کے قبضے کو ختم کرنے کی کئی مشترکہ کوشیشں کر چکے تھے۔

 ہنزہ نگر کمپین کے ذریعے ریاست نگر و ہنزہ کی صدیوں پرمشتمل مکمل آزادی ختم ہو گئی۔

برٹش سرکار نے وفاداری کے صلے میں  میر جعفر خان آف نگرکی حکمرانی کوبحال کر دیا جبکہ ہنزہ میں میر صفدر کےسوتیلا بھائی محمد نظیم خان کو میر آف ہنزہ مقرر کردیا  گیا۔

ویڈیو رپورٹ دیکھے:

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments