کیا گلگت بلتستان کےگلیشیئرز بھی ناپید ہو جائیں گے؟

رپورٹ: شیرین کریم

تین عظیم پہاڑی سلسلوں کوہ قراقرم، ہندوکش اور ہمالیہ کے دامن میں بسنے والے گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں کے باسی صدیوں سے موسم سرما میں رسم نسالو ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ اسں رسم کو ادا کرنے کے لیے برف باری شروع ہونےسےپہلے ہی خوش گؤ اور دوسرے مال مویشیوں کو گاؤں پہنچایا جاتا ہے۔

رسم نسالو میں ماہ دسمبر میں ہر گھرانہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق خوش گاؤ، بیل، بھیڑ یا بکری ذبع کرتاہے۔ اس خشک گوشت کو شدید سردی کے موسم میں استعمال کیا جاتا ہے۔

رسم نسالو کے لیے خوش گاؤ کو گاؤں پہنچانے کے لیے ضلع غذر کے وادی پھنڈر کے دہلومل گاٶں کے ایک ہی خاندان کے تین افراد نے نومبر کے آخری ہفتے میں چھشی نالہ کا رخ کر لیا ۔ مگر کئی دن گزرنے کے باوجود یہ افراد گاوں نہ لوٹے تو گاوں والوں نے تلاش میں چھشی نالہ کا رخ کر لیا۔

غذر سے تعلق رکھنے والا سینئر صحافی دردانہ شیر کے مطابق وقت سے پہلےشدید برف باری کی وجہ سے27نومبرکوبرفانی تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے یہ تین افراد مرزا نذیر، شاہ باز اور مرزا حسن جاں بحق ہوچکے تھے۔ یوں نسالوکا یہ تہوار پورے گاؤں کے لیے ماتم میں بدل گیا۔

حالیہ سالوں کے دوران گلگت بلتستان میں رونما ہونے والی یہ کوئی ایک منفرد واقع نہیں ہے۔اس طرح کے بڑھتے ہوئے واقعات بلند پہاڑوں کے دامن میں بسنے والے باسیوں کے زندگیوں پر اثرانداز ہوتے چلےآرہے ہیں۔

17 جولائی 2018 کو اسی ضلع کے وادی اشکومن میں بدصوات کے مقام پر گلیشیئرپہ بننے والی مصنوعی جھیل سے پانی کےاخراج سے دو درجن سے زائد رہائشی مکانات ، زرعی زمین، جنگلات، اسکول، بجلی کا نظام اورروڈ سیلاب کی نظر ہو گئے۔ نالہ برصوات سے آگے سینکڑوں گھرانوں کا رابطہ منقطع ہوا۔ متاثرہ خاندان آج بھی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

اجلال ضلع ہنزہ کے مشہورگاؤں کریم آباد کا رہائشی ہے۔ ان کا کہنا تھا 2019 کے موسم گرما کے دوران شیشپر گلیشئیر کے سرکنے اور التر نالہ میں سیلاب سنٹرل ہنزہ میں پینے اور آبپاشی، بجلی اور دوسرے انفراسٹرکچرکو مسلسل تباہ و برباد کرتا رہا۔   اس سے نہ صرف زرعی اور بنجر اراضی اور دیگر املاک زد میں آگئے بلکہ علاقے میں خشک سالی سےنظام زندگی متاثر ہو کررہ گیا۔

اسی طرح ضلع نگر کے رہائشی منور حسین کے مطابق برفانی تودہ گرنے سے 20کے قریب مال مویشی تودہ تلے دب کر ہلاک ہو گئے۔

ان یکے بعد دیگرے رونما ہونے والے واقعات کو ماہرین خطے میں رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ جوڑتے ہے۔

موسمیاتی تبدیلی سے نہ صرف گلگت بلتستان کے باسی متاثر ہیں بلکہ پہاڑی سلسلوں میں موجود دیگر ممالک انڈیا، افغانستان، چین، بنگلہ دیش، نیپال، میانمار، بھوٹانمیں بھی اثرات نمایاں ہیں۔

اقوام متحدہ کے ’انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس صدی کے آخر تک گلیشیئروں کا اسی فیصد حصہ پگھل جائے گا۔ اس رپورٹ کے مطابق سمندروں کا گرم ہونا اور برفانی خطوں کا پگھلنا ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں جس کے اثرات کروڑوں لوگوں پر پڑیں گے۔

کھٹمنڈو نیپال میں قائم انٹر نیشنل سنٹر فار انٹگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ (ICIMOD) کے فروری2019 میں جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کو پیرس کے عالمی ماحولیاتی معاہدے کے اہداف کے مطابق محدودکر بھی لیے گئے تب بھی ہمالیہ کے ایک تہائی گلیشیئرز ناپید ہو جائیں گے۔

پیرس کے عالمی ماحولیاتی معاہدے میں زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کو زیادہ سے زیادہ صرف 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کو ہدف بنایا گیا ہے۔

آئی سی موڈ سے وابستہ غلام علی نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی گلیشئیرز کے پگھلاؤ کا سبب بنتی ہیں۔ تیزی سے کاٹے جانے والے جنگلات کے باعث گلیشئیرز کے پگھلاؤ میں تیزی آرہی ہے جس کی وجہ سے گرمیوں میں ندی نالوں میں طغیانی اور سیلاب کاباعث بنتی ہے۔

علی کے مطابق گلیشیائی جھیلیں ٹوٹنے سے نشیبی علاقوں میں آبادی مسلسل خطرے میں ہے۔

گیشئرز پہ بننے والے ان جھیلوں کے پھٹنے کے عمل کو گلوف glacial lake outburst floods (GLOF)کہا جاتا ہے۔

گلگت بلتستان میں 7 ہزار سے زائد گلیشئر ہیں اور ان کے ساتھ 3044 گلیشیائی جھیلیں موجود ہیں جن میں سے 36 جھیلوں کو انتہائی خطرناک قرار دیا جاچکا ہے۔

ماحولیات پر کام کرنے والے گلگت بلتستان کے سینئر صحافی عبدالرحمن بخاری نے بتایا کہ گلگت بلتستان موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہمیشہ سے رہا ہے۔ گلیشئرز کے پگھلنے میں تیزی سے گلیشیائی جھیلیں بن رہی ہیں جن کے پھٹنے سے سیلاب آبادیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

گلگت بلتستا میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کے گلوف II پراجیکٹ گلیشیئرز سے بننے والی ان جھیلوں کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والے سیلاب کے خطرات پہ کام کررہاہے۔

بخاری کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے کئی وجوہات ہیں۔ جنگلات کے کٹاؤ، بڑھتی ہوئی آبادی، بڑھتی ہوئی کاروباری سرگرمیاں، ہزاروں سیاحوں کے پہاڑوں کارخ کرنا اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کچھ ڈائریکٹ وجوہات ہیں۔ اس کے علاوہ اردگرد کے شہروں اور ممالکمیں بڑھتی ہوئی آلودگی کے اثرات گلگت بلتستان کے قدرتی ماحول پر منفی اثرات ڈال رھے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں پچلی صدی کے دوران اوسطاً ایک ڈگری سنٹی گریڈ کا اضافہ ہو چکا ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اس اضافے سے گلگت بلتستان کے آب و ہوا میں بھی تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ موجودہ سالوں میں گرمی، سردی، برف باری اور بارشوں میں اضافے کو موسمیاتی تبدیلی سے جوڈا جاتاہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ تحفظ ماحولیات خادم حسین نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں رونما موسمیاتی تبدیلیوں کی اہم وجہ درختوں کا کٹاؤ ہے۔ سردیوں میں لکڑی کا استعمال انگیٹھیوں میں کیا جاتا ھے جس سے کالا دھواں نکلتا ہے۔ یہ دھواں فضاء میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ گلیشئیرزمیں بھی شامل ھو کر جم جاتا ہے۔ یہ بلیک کاربن بھی گلیشئیرز کے پگھلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گرمیوں کا موسم طویل ہوتا جا رہا ہے اور موسم سرما میں شدید سردی پڑتی ہے۔

خادم حسین نے کہا کہ پلاسٹک بیگ کے استعمال سے جہاں ماحول آلودہ ہوتا ہے وہاں اسکے جلانے سے انسانی جانوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے، پلاسٹک کے جلانے سے کینسر سمیت مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔

حسین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کیلئے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیئے اور پلاسٹک بیگ پر مکمل پابندی ضروری ہے۔ جلانے والی لکڑی کے متبادل گیس کی فراہمی سے دھواں کم کیا جا سکتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ریجنل ہیڈ حیدر رضا کے مطابق گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلی گلاف اور سیلاب کا سبب ہیں۔ ان اثرات سے نمٹنے کیلئے ڈبلیو ڈبلیو ایف گورنمنٹ اور دیگر این جی اوز کے ساتھ مل کر کام کررہا ہیں۔

جنگ سے زیادہ نقصان موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ایگریکلچر پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے اور گھریلو سطح پرسبزیاں اگا کر زمینوں کو آباد کیا جا سکتا ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات بہت ہی نچلی سطح پر ہیں حکومت ،متعلقہ اداروں اور این جی اوز کو اس حوالے سے ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہےتاکہ آنے والےخطرات سے گلگت بلتستان کوبچایا جا سکے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments