کالمز

سنجیدہ قومیں اپنی پہچان زندہ رکھتی ہیں 

سعیدالرحمن

 بہت سارے ادبی محققین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر مقامی و مادری زبانیں استعمال ہونایوں ہی بند ہوتی رہیں تو پچاس سال بعد دنیا کی آدھی زبانیں ختم ہوجائیں گی۔ اسی لئے پوری دنیا میں جامعات کے اندر مادری زبانوں پر تیزی سے کام کیا جارہاہے جس میں وہاں کی حکومتیں انکا بھرپور ساتھ دے رہی ہیں۔ ہر فرد مقامی زبان بولنے پر فخر محسوس کرتاہے کیونکہ یہ اسکی پہچان ہوتی ہے۔جہاں ثقافت کا ذکر ہو وہاں مادری زبانوں کو کیسے نظر انداز کیا سکتاہے۔

 پاکستان میں جہاں ہر شعبے میں زوال نظر آتاہے وہاں مادری زبانوں کے تحفظ پر کام کیسے ترقی کرسکتاہے۔دیگر شعبہ جات کو ٹھیک کرنے اور ان میں بہتری کے حوالے سے تو ہم روز ٹی وی پر ماہرین کو بات کرتے دیکھتے ہیں جس سے ایک امید تو پیدا ہوتی ہے کہ کچھ نہ کچھ ہورہاہے۔ مگر افسوس ہے کہ مقامی زبانوں پر نہ تو کوئی بولتاہے اور نہ ہی بولنے کیلئے کوئی تیار ہے۔ سالانہ ایک دن مقرر کرکے اس کو مقامی زبانوں کے نام سے منایاجاتاہے۔مقامی زبانوں کے عالم دن مختلف پروگرامز میں لوگ دھائیان دیتے نظر آتے ہیں اور جب نئی صبح ہوتی ہے تو سب کچھ بھول کے اپنے اپنے دھندے میں لگ جاتے ہیں۔

 پاکستان میں مقامی زبانوں کی زبوں حالی کی بہت ساری وجوہات ہیں۔جب جب ہم نے سمجھا کہ مقامی زبانوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے جانے چاہیے تو ساتھ میں مختلف دلیلیں سامنے آتی رہیں جن میں پہلی دلیل یہ کہ اس وقت پاکستان میں علاقائیت کی بنیاد پرلوگ تقسیم در تقسیم ہورہے ہیں۔ ایک علاقے والوں کو دوسرے علاقے سے تعلق رکھنے والوں سے بلاوجہ انتہائی نفرت ہونے لگتی ہے۔ جیسے خیبر پوختونخواہ کے لوگ پنجابیوں سے حد درجہ نفرت کرتے ہیں بنیاد پر روز جھگڑے اور لڑائیاں ہوتی ہیں جن میں کئی لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔اسی طرح گلگت بلتستان کے کچھ لوگوں کو کے پی کے اور پنجابیوں دونوں سے نفرت ہے اور کچھ کو صرف پنجابیوں سے۔ یہ بات ایک طرفہ نہیں۔ نفرت کا یہ عمل پنجابیوں کی طرف سے بھی باقی علاقوں کے لوگوں کے ساتھ جاری ہے۔ اب بولی کی بات آئی ہے تو یہ بتادوں کہ پنجاب میں کوئی پشتون بھائی مارکیٹ چلاجائے اور وہاں کوئی بات کرے تو اس کے لہجے کااور اسکی زبان کی کھلی اڑائی جاتی ہے۔ یہی حال ہماری جامعات میں ہے کہ ہر علاقے کی تنظیم بنی ہوئی ہے اور آئے روز انکے آپس میں جھگڑے ہوتے ہیں جس کی مثالیں ملک کی سب سے بڑی جامعات قائد اعظم اور پنجاب یونیورسٹی میں کونسلز کی صورت میں موجود ہیں۔قائد اعظم یونیورسٹی تو پچھلے سال کئی دن کونسلز کی آپس میں لڑائیوں کے نتیجے میں بند بھی رہی تھی۔ جب یہ دلیلیں سامنے آتی ہیں تو واقعی لگتا ہے کہ ہم ابھی اتنے سنجیدہ ہیں ہی نہیں کہ ناپید ہوتی زبانوں کا تحفظ کرسکیں۔

کچھ دنوں سے سوشل میڈیا وغیرہ پر پنجابی بولنے والوں کے لئے آواز بلند کی جارہی اسکی وجہ گزشتہ دنوں ایک خاتون کا ٹریفک پولیس کو پنجابی بولنے پر جاہل کہنا ہے حالانکہ ٹریفک آفیسر نے پنجابی میں صرف یہ کہاتھا کہ”میڈم شیشہ نیچے کرکے بات کیجئے“۔ اس واقعے کے بعد جہاں مرد بول رہے وہاں بہت ساری خواتین بھی آگے آئی ہیں اور سبھی کا یہ کہنا ہے پنجابی بولو تو جاہل کہلائیں یہ کہاں کا رواج ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ ہمارے معاشرے کی عکاسی بھی کرتاہے جہاں ایک فرد کو اسکی مادری زبان بولنے پر جاہل اور گنوار کا طعنہ مل رہاہے۔دیکھاجائے تو ایسے واقعات خلاف توقع نہیں کیونکہ اس سب کیلئے راستے ہموار تو ہم نے ہی کئے ہیں۔بڑے شہروں میں دیکھیں والدین اپنے تین یا چار سالہ بچے کو انگریزی میں بات کرنا سکھانے لگ جاتے ہیں اور انکی کوشش ہوتی ہے ہمارا بچہ، بچی انگریزی میں بات کرے انکو اس چھوٹی عمر سے ہی انگریزی میں لکھی ہوئی کہانیوں پر مشتمل کتابیں پکڑائی جاتی ہیں۔ ان والدین کا بس چلے تو یہ اپنے بچے کا اٹھنا،بیٹھنا اور اوڑھنابچھونا انگریزی کو ہی بنائیں۔پھر سکول و کالج میں داخلے کی بات آئے تو بھاری فیسیں لینے والے اداروں کو بچے سونپے جاتے ہیں جہاں اخلاق و بھائی چارے جیسی بنیادی چیزوں کو جہالت کہتے ہوئے روشن خیالی کے نام سے انکی مکمل ذہن سازی پر کام کیاجاتاہے۔ ایسے والدین کو بچوں کی قابلیت سے کوئی واسطہ ہی نہیں انکے لئے انکا بچہ اگر انگریزی فرفر بول لے تو یہی سب کچھ ہے۔جب اخلاق و بھائی چارے کو فضول چیزیں قرار دی جائیں توایسے میں تربیت تو گئی تیل لینے پھر وہاں سے جو لوگ تیار ہونگے وہ اس خاتون کی سی مثال ہوتے ہیں جن کو پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو وغیرہ بولنے والا جاہل اور گنوار لگنے لگتاہے۔

 دنیا کی تاریخ میں بے شمار قومیں آئیں اور مٹ گئیں مگر انکے ساتھ انکی زبانیں بھی چلی گئیں اگر کوئی زبان بچ گئی ہو تو وہ زبانیں تھیں جن پر کام ہوا، وقت کے ساتھ ان کو تحفظ دیا گیا اورانکے بولنے والوں کا احترام کیاگیا اور تعلیمی اداروں میں انکو تعلیم کا حصہ بناکر نئی نسل کو اس کاپڑھنا لازمی قرار دیاگیا۔

 اگر ہم اپنی مقامی زبانوں کا تحفظ چاہتے ہیں تو پہلا کام ہمیں اپنی ذہنی سنجیدگی پر کام کرناہوگا۔ ہم سنجیدہ قوم ہی نہیں ہیں۔ جب ہم سنجیدہ ہونگے تبھی حکومتوں سے کسی اچھی چیز کیلئے مطالبہ کریں گے۔ دوسری بات ہماری جامعات میں انگریزی اور اردو کے ساتھ ماڈرن لنگویجز کا شعبہ بھی قائم کیاجاسکتاہے تو شعبہ مقامی زبانوں کا کیوں نہیں قائم کیاجاسکتا۔ آکسفورڈ جیسی دنیا کی بڑی جامعات میں جب مقامی زبانوں کی اہمیت کا اندازہ لگاتے ہوئے ان پرکام کیاجارہااور وہاں مختلف شعبے قائم کئے گئے ہیں تو ہمارے ملک میں ایساکیوں ممکن نہیں۔جب تک جامعات میں مقامی زبانوں کے تحفط پر کام نہیں ہوگا کوئی اور اس پر کام نہیں کرسکتا۔ہائرایجوکیشن کمیشن کو جامعات کانصاب بناتے ہوئے سنجیدگی سے اس معاملے کو زیر بحث لاناچاہیے۔اسکے علاوہ ہر سطح پر مقامی انتظامیہ اور حکومتوں کو مقامی زبانوں کے تحفظ کیلئے خصوصی بجٹ مختص کرتے ہوئے زبانوں کے ماہرین سے خدمات لینے چاہیے۔ان ماہرین کو ایک مقصد کیلئے اکھٹاکرکے ہر ایک کی مہارت کا فائدہ اٹھانا ہی وقت کا تقاضا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: