استاد جواد نقوی: عصرَِ حاضر کے توانا مفسرِ افکارِ اقبال

 ادب نامہ : علی فرزاد شگری

بحیثیت ایک نو خیز لکھاری کے اپنی فکری اور نظریاتی امنگوں کو صفحہ قرطاس کے حوالے کرنے سے پہلے چند حقائق قارئین کے گوش گزار کرانا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ کہ میں گذشتہ و موجودہ نامور ادبی و علمی شخصیات کی قابلیت اور خدمات کا دل کی گہرائیوں سے قائل ہوں پیروان علم وادب جن ادبی روایات اور قوائط و ضوابط پر عمل پیرا ہونا اپنے لیئے لازم سمجھتے ہیں۔ میں بھی انہی لوازمات کو اپنے اوپر عائد کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ لیکن مندرجہ بالا حلفیہ تائیدی جملوں پر اکتفاء کرتے ہوئے میں اپنے آپ کو کسی بھی گمنام اور لاوارث شخصیات کے ذہنی و اختراعی ادبی قوانین کی رعایت ضروری نہیں سمجھتا ۔ چونکہ ان دنوں نثری شعری اور تنقیدی ادب ان گنت انحرافات کے شکار ہیں ۔ ان انحرافات کا ایک حصہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لاشعوری طور پر ان ادبی ہیتوں کا حصہ بن چکے ہیں ۔ اور ایک بڑا حصہ چند منحرف اورنام نہاد ادبیوں کی انحرافی پیداوار ہے۔ جن کا زبان و ادب میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔

جدید اردو ادب میں اِن اِنحرافات کی موجودگی کا دعویٰ فقط ہمارا ہی نہیں بلکہ اردو ادب کے مشہور تنقید نگار ڈاکٹر ابواللیث اپنی تصینف’’ آج کا اردو ادب‘‘ میں اس حقیقت کا اعتراف بے باکی کے ساتھ کرتے ہیں ۔

’’اردو میں ترقی پسند تحریک ۱۹۳۶ء میں شروع ہوئی اس تحریک کا مقصد اور اس سے وابستہ شعراء اور افسانہ نگاروں کا پسندیدہ موضوع حقیقی زندگی کا بے باکی اور جرات سے اظہار ہے۔ اس میں مذہب ، سیاست، تہذیب، رسم و رواج، عقائد اور اخلاقی اقدار سب شامل ہیں ۔ ان افسانوں کے لکھنے والے سماج کے باغی نظر آتے ہیں۔ یہ تحریک رجعت پسندی کے خلاف بغاوت اور اس بغاوت کے بے باکانہ اظہار پر منحصر ہے۔ اس اظہار میں حقیقت پسندی اور واقعہ نگاری تو ہے ہی، اس کے ساتھ طنز کی تلخی اور زہر ناکی بھی ہے جو کہیں کہیں جھنجھلاہٹ ، رکاکت ، ابتذال اور فحش نگاری کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ کہا جاتا ہے ترقی پسند تحریک سے وابستہ ان افسانہ نگاروں نے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

استاد جواد نقوی بظاہر ایک مذہبی شخصیت ہیں لیکن قارئین کرام سے گذارش ہے ۔ کہ اس عظیم علمی شخصیت کو مسلکی و مذہبی حدود و قیود سے بالاتر ہو کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ وہی عاشق اقبال ہیں جنہوں نے علامہ اقبال کے افکار و نظریات کا بغور مطالعہ کیا۔اور ان کا تجزیہ و تحلیل کی اور ان افکار و نظریات کو آسان و سہل زبان میں منتقل کیا ۔ جس سے نہ صرف معاشرے میں اقبال شناسی کا ایک نیا ماحول وجود میں آرہا ہے۔ بلکہ ان کی اس کاوش کے نتیجے میں اسلام شناسی سے �آراستہ ایک معاشرہ پروان چڑھنے کی امید پیدا ہو رہی ہے۔

جواد نقوی صاحب ایک علمی وفکری و سیاسی جرید ہ ’’مشرب ناب‘‘ کے مدیر اعلٰی ہیں۔ جو ماہانہ لاہور سے شائع ہوتا ہے اقبال سے ان کی الفت و محبت ہنگامی نہیں فکری و نظریاتی ہیں آپ ان کے ماہانہ جریدے کے نام سے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کو اقبال سے جنوبی حد تک لگاؤ ہے ’’مشربِ ناب،، اقبال کے ایک فارسی شعر سے ماخوذْ ہے۔ جس کا مطلب ہے خالص چشمہ یقیناًاقبال اور نقوی صاحب کے نظریات یہاں سنگم کی صورت میں مل گئے یہاں سے ان دونوں کی نظریات کے مشترکات ایک نظم کی صورت میں اور ایک نثر کی صورت میں ایک د وسرے کی تفسیر و تشریح کرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب گامزن نظر آتے ہیں۔

۱۸۷۷ء میں علامہ اقبال پیدا ہوئے غالبا اسی صدی کے نوے کی دہائی میں انہوں نے شعر کہنا شروع کیا اس دوران وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے یورپ چلے کئے۔ وہاں بھی وہ اس فن سے مربوط رہے شیخ عبدالقادر نے اردو ادب کی ترقی کے لیے رسالہ ’’مخزن ‘‘جاری کرنا چاہا دوستانہ تعلقات کی بنا پر اقبال سے وعدہ لیا کہ اس رسالے کے حصہ نظم کے لئے وہ نئے رنگ کی نظمیں دیا کرینگے۔اقبال کی نظم ’’ہمالہ‘‘ ہے جو سب سے پہلے مخزن کی پہلی جلد کے پہلے نمبر میں ۱۹۰۱ء شائع ہوئی یہاں سے ان کے اشعار کی اشاعتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے جونہی سلسلہ اشاعت شروع ہوا اس کے ساتھ ہی ناقدین ادب نے ان کے اشعار کو اپنی تنقیدی آرا کا موضوع بنایا برصغیر کے صف اول کے اردو تنقید نگاروں نے ان کی شعری و نثری تخلیقات کو موضوع صخن بنایا ان کی آراء تاریخ میں محفوظ ہیں۔

ہر تنقید نگارنے کلام اقبال کو اپنی زاویہ نگاہ کے تحت جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کی ہے۔اکثر ناقدین نے اقبال کے جمالیاتی فن کو اپنی آراء کا حصہ بنایا ہے۔ ان کے فن کی وساطت سے جاری ہونے والے آفاقی پیغامات سے اخذ شدہ مواد عام قارئین تک ترسیل کرنے سے گریز کیا ہے چنانچہ ناقدین کے یہ گروہ اقبال کے جمالیاتی فن کو اپنا مرکز و محور سمجھتا ہے۔ ایک دوسرا گروہ بھی علامہ اقبال کے شعری و نثری تخلیقات پر اپنی تنقیدی آراء رقم کرتا چلا آرہا ہے جس نے اقبال کی فنی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ان کے افکار و نظریات کو بھی اپنی آراء میں نمایاں مقام دیا ہے ۔

ناقدین ادب کے اسی گروہ نے غالب اور اقبال کی شاعری کو ایک مختصر جملے میں بڑی مہارت سے بیان کیا ہے کہ غالب حقائق کے شاعر ہیں اور اقبال اقدار کے، استاد جواد نقوی ناقدین ادب کے اسی گروہ کے علمبردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔مذکورہ ناقدین نے صرف ایک جملے پر اکتفا کرتے ہوئے یقیناًسمندر کو کوزے میں بند کرنے کا سہرا اپنے سر لیا لیکن یہاں سے آگے انہوں نے اس موضوع کو مستقل بنیاد پر اپنی تنقیدی آراء میں شامل نہیں کیا مگر استاد جواد نقوی وہ تنہا شخصیت ہیں جنہوں نے ناقدین ادب کے ادھورے کام کو پایہ تکمیل کی طرف گامزن رکھا اور یہ سلسلہ اب بھی اپنی آب و تاب کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’’ علامہ اقبال ہی وہ تنہا شاعر و مرد دانا ہے جنہوں نے اپنی شاعری میں گذشتہ اسلامی تہذیب و تمدن اور اقدار موضوع صخن بنایا بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو اسلامی اقدار کا محافظ بنانے کی بندوبست کی ‘‘ اس طرح گویا استاد جواد نقوی اقبال کی انسانی تہذیب کی بنیادی اقدار پر مبنی شاعری کی تفسیر و تشریح پر منِ جانبِِ اللہ مامور ہیں۔

استاد جواد نقوی نہ صرف اقبال کو انسانی اقدار کا رہنما شاعر تسلیم کرتے ہیں بلکہ ان کے اشعار کو سماجی افادیت کے لئے بھی رہنما اصول تسلیم کرتے ہیں اور ان کے اشعار کو سماجی افادیت کا اعلیٰ شاہکار قرار دیتے ہیں اس ضمن میں اس سے پہلے اردو ادب کے صف اول کے شاعر فیض احمد فیض نے کسی جگہ اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ شعر کی مجموعی قدر میں جمالیاتی خوبی اور سماجی افادیت دونوں شامل ہیں اچھا شعر وہ ہے جو فن کے معیار پر نہیں زندگی کے معیار پر بھی پورا اترے استاد جواد نقوی کے مطابق اقبال کی شاعری اس کی بہترین مثال ہے۔

جواد نقوی صاحب اقبال کے افکار و نظریات کا تجزیہ و تحلیل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

’’آج بہت سے اقبال ناشناس اقبال شناسی کے عنوان سے جو کچھ کر رہے ہیں وہ ہمارے سامنے ہیں اقبال کی نظریاتی بات کو انہوں نے قومیت میں لے آئے ہر وہ بات جو علام اقبال نے کی تھی اس کو توڑ موڑ کر کسی اور سمت میں لے آئے ہیں۔ علامہ اقبال نے وطنیت کے متعلق کئی باتیں کی ہیں بعض نے کہا ہے کہ ابتداء میں اقبال وطن پرست تھے پھر آہستہ آہستہ وطنیت چھوڑ دی اور اس کے بعد اسلام اور نظریاتی گفتگو شروع کر دی یعنی یہ ایک ترقی یا ایک فکری تبدیلی اقبال کی سوچ میں آئی یہ اقبال ناشناسوں کا نظریہ ہے‘‘ (ماخوذ از مشرب ناب ۲۴ واں شمارہ صفحہ نمبر ۵۳)

یہاں علامہ اقبال کے تصور وطنیت کا تجزیہ و تحلیل استاد جواد نقوی اپنے الفاظ میں یوں بیان کرتے ہیں’’کہ عزیزان ایسا نہں ہے علامہ اقبال متوجہ تھے تھوڑا بہت پڑے لکھے نہں تھے بلکہ کافی پڑے لکھے تھے اتنا سواد و علم ضرور تھا کہ وطن کے مختلف تصورات کیا ہیں۔ انہوں نے وطن میڈیا سے نہیں سنا تھا علامہ اقبال آشنا تھے کہ وطنیت کن معنوں میں استعمال ہوتی ہے وطن کا جغرافیائی تصور کیا ہے وطن کا سیاسی و ثقافتی و سماجی تصور کیا ہے اور وطن کا اسلام اور عرفانی تصور کیا ہے۔ لہذا ایک وطن کی شدت سے مذمت کرتے تھے اور ایک وطن کے حامی تھے اور اس کے گیت گاتے تھے ایک وطن جس کا خود نظریہ پیش کیا مگر وطنیت کو سب سے بڑا دشمن دین و مذہب قرار دیتے ہیں یہ اقبال کے کلام میں تضاد نہیں ہے‘‘۔

ماہانہ جریدہ ’’مشرب ناب‘‘ کے مذکورہ شمارے کے صفحہ نمبر ۵۴ پر اقبال کی فکری اور نظریاتی پختگی و پائیداری کا خاکہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ ’’اقبال برصغیر کا تنہا بالغ انسان ہیں ۔ جو برصغیر میں بلوغ تک پہنچا ہے فکری‘علمی اور اعتقادی بلوغ تک فقط ایک فرد پہنچا ہے وہ علامہ اقبال ہیں‘‘

اسی طرح استاد جواد نقوی مروجہ نظام تعلیم کی خامیوں اور خوبیوں پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں کلام اقبال کے پیغامات کی روشنی میں اس نظام تعلیم کی حیثیت کو نئی نسل کے سامنے کھول کر رکھ دی ہے صرف اس نظام کی خامیوں کی نشان دہی کرنے پر اکتفا نہیں کی ہے بلکہ علامہ اقبال کے تصورِ تعلیم کو پسندیدہ قرار دیا ہے۔

تاریخ برصغیر کی اگر ورق گردانی کرے تو آپ مشاہدہ کرینگے کہ اقبال واحد رہنما تھا جنھوں نے خاص اسلامی طرز پر انگریز نظامِ تعلیم کی مخالفت کی اگر چہ ان کے علاوہ کئی علمی شخصیات ایسی ہیں جنھوں نے انگریز نظام تعلیم پر تحفظات کا اظہار تو کیا لیکن ان کی تنقیدی روش اور اقبال کی تنقیدی روش میں خاص فرق پایا جاتا ہے۔حالیہ صدی میں استاد جواد نقوی بھی اقبال کی اس تنقیدی روش کے سب سے بڑا حامی کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ علامہ اقبال نے جس نظامِ تعلیم کی تائید کی ہے اور جس نظامِ تعلیم کو دین و مذہب کیلئے ایک سازش قرار دیا ہے اس کی تشریح کرتے ہوئے استاد جواد نقوی اپنے جریدے میں لکھتے ہیں کہ ’’نہ صرف ان تعلیمی اداروں کے خلاف یا ان کے اندر سازشیں موجود ہے بلکہ علامہ اقبال کے اس کلام !

اور یہ ا ہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم

ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف

اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے

قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف

کی روشنی میں جو نظامِ تعلیم اس وقت رائج ہے یہ خود سراپا سازش ہے ۔ اِس ضمِن میں استاد جواد نقوی اقبال کی فہم و فراست اور دُور اندیشی یوں بیان کرتے ہیں کہ ’’کلیسائی نظامِ تعلیم پر اقبال نے کڑی تنقید کی ہے اقبال کی تنقید وہ روایتی تنقید نہں جو بغیر دلیل کے تنقید برائے تنقید کی نیت کا حامل ہو بلکہ اقبال کی یہ تنقید ایک ایسی توانا علمی،فکری و نظریاتی تنقید ہے جس کے پس منظر میں اسلامی نشاۃ ثانیہ کی گوناگون علمی و فکری سوچ کار فرما ہے۔اقبالؒ نے اسی سوچ کو بنیاد بنا کر ایک سلیقے سے جدید مغربی نظامِ تعلیم کی خامیوں کی نشان دہی کی۔ برصغیر پر جب برطانیہ کا راج تھا انگریز سرکار نے ایک کمیٹی بنائی اور اس کا سربراہ لاڈ میکالے کو بنایا جنہوں نے پوری ایک قوم کا دھارا بدل دیا اس کا رخ بدل کر کسی اور سمت ڈال دیا مسلمان رہنما اگرچہ ہوشیار تھے لیکن بعض باریکیوں کی طرف متوجہ نہیں ہو پائے اُس وقت اگر کوئی شخصیت اُس المیے کی طرف متوجہ تھے تو وہ علامہ اقبال تھے۔ حالانکہ اقبال مغرب سے پڑھ کر آئے تھے لیکن حقیقتِ حال کو خوب سوچ سمجھ کر استعمال کیا ‘‘

آغا صاحب فرماتے ہیں کہ اقبال نے اپنے کسی کلام میں پوری داستان کا ذکر کیا ہے یعنی کلیسا کا نظامِ تعلیم دین مروت کے خلاف ایک سازش ہے ۔ جس نے قوموں کو غلاموں کا ایک ٹولہ بنا دیا اور قوموں کو لیبر بنا دیا ۔ آغا صاحب اقبال کی اس منطقی سوچ کی بھر پور تائید کرتے ہوئے ہمارے معاشرے کا تعلیمی المیہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ’’آج کا ہمارا تعلیمی نظام فیکٹریوں کے مزدور پیدا کر رہا ہے نہ کہ قوم کے معمار۔ خود مغرب کی مادی ترقی کا راز ٹیکنیکل سائنس پڑھنے میں نہیں بلکہ سوشل سائنس پڑھنے میں ہے یہ راز وہ کسی کو نہیں بتاتے۔‘‘

وطن عزیز کے ہم وطنوں کم از کم آپ اس حقیقت سے تو آگاہ ہونگے کہ مادرِ وطن جس میں ہم اس وقت آزادی کے سانس لے رہے ہیں انگریزوں اور ہندووں کے چنگل سے آزاد کس نے کرایا؟ اور کیوں کرایا؟ اس کا جواب یقیناًیہ ہے کہ اس ملک کو قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اور علامہ اقبال نے دشمنوں سے آزاد اس لیئے کرایا تھا کہ یہاں مسلمان کسی کی غلامی میں نہ رہیں اور آزادی کے ساتھ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں ۔ آپ بتائیں کہ کیا ہمارے ان عظیم رہنماؤں کی خواہشات کی تکمیل ہو چکی ہے؟ جغرافیائی طور پر یہ ملک آزاد ہو گیا البتہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اس کے باشندے بھی فکری اور نظریاتی طور پر آزاد ہیں؟ اسکا جواب یقیناًنفی میں ہو گا۔ چونکہ ہماری جغرافیائی سرحدیں توواضح اور آزاد ہیں لیکن اس کے باشندوں کی نظریاتی سلطنت پر اب بھی دشمنوں کا راج ہے چناچہ آغا صاحب اس بات پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں جب تک اقبال کی تعلیمات پر کلی طور پر عمل نہیں کرتا اس کے

باشندے اسی حالت کے شکار ہیں۔ انشااللہ وہ دن دُور نہیں کہ اس ملک کا ہر شہری مفکرِ پاکستان علامہ اقبال کے نظریاتی ا ور آفاقی پیغام کو سننے سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی اپنے اندر جوہر پیدا کریگا اسی لیئے تو اقبالؒ بھی اپنی قوم سے نا امید نہیں تھے:۔

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

استاد جواد نقوی کی منشاء اپنے فکری استاد سے جدا نہیں ۔ وہ اپنی قوم کو اقبال شناس دیکھنا چاہتے ہیں یقیناًایک اقبال شناس دین شناس ہوتا ہے دین شناسی انسان کو اپنی منزلِ مقصود پر پہنچائے بغیر نہیں رہتی ۔ بلا شبہ آغا صاحب کی یہ کاوشیں ایک اقبال شناس اور دین شناس معاشرے کے قیام میں اکی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments