کالمز

اپنے تن کے بھوکے گدھ

تحریر غالب شاہ سید
اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گاہکوچ غذر

میرے بابا جان کہا کرتے تھے بیٹا میرے مرنے کے بعد میری قبر کی زیارت مت کرنا مگر اپنے قبر کی زیارت بار بار کرتے رہنا۔وہ سرآمد اولیا تھے۔ انکی تقوی،کرامات، علم و فضل اور بزرگی کی تعریف اکثر لوگوں سے سنی ہے اور دیکھی بھی ہے۔عالم وجد و کیف میں رہتے اور دنیا وی دولت کی کبھی حوس نہیں کی۔نگرگلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے یاسین کے مشہور و معروف حکمران راجہ محبوب ولی خان جو خود بھی ایک عالم آدمی تھے اور علماء کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے والوں میں سے تھے،کہا جاتا ہے کہ ہمارے بابا جان کی دل سے قدر کیا کرتے تھے،نے ایک دفعہ والد محترم کو بڑی سی جائیداد تحفے کے طور پہ پیش کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر ٹھکرا دی کہ میں اپنی اولاد کو مفت خور نہیں بنا سکتا اور نہ مجھے کسی حاکم وقت کا احسان منظور ہے۔انہوں نے پندرہ سے زائد نظم و نثر کی کتابیں تصنیف کی مگر جسطرح کی بے قدری کی زندگی انہوں نے خود دیکھی انکی تصانیف بھی فارسی زبان میں ہونے کی وجہ سے قدر کی نظروں سے کبھی نہیں دیکھی جاسکی۔ انکی یہ فلسفیانہ اور عمیق بات مجھے اس وقت تو سمجھ میں نہیں آئی مگر اب جب کبھی میں اس جملے پہ غور کرتا ہوں تو مجھے انکے چوٹی کے عالم، دانشور اور فلسفی ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہتی۔ کوئی تو بات تھی ان میں جنکا پیچھا کرکے جرمنی کے ایک مشہور صحافی وولفی گونگ ہولی ورتھ سالانہ انہیں سننے اتنی دور کی مسافت طے کر کے آتے اور انکا دیدار کرکے پرسکون اور مشکور انداز میں چلے جاتے۔

ہم اپنی قبر کی زیارت نہیں بلکہ روز اپنی قبر کے پھتر گرانے والوں میں سے ہیں۔ہم سب سے زیادہ فائدہ اور منافع جنگ،قحط، وبا، دھشت گردی ، سیلاب اور زلزلوں جیسے قدرتی آفات کے دنوں میں کماتے ہیں۔ہماری جیب اور ہمارا پیٹ ان دونوں میں بڑے سوراخ ہیں یہ دونوں کبھی نہیں بھرتے۔خیرایک جیب اور پیٹ ہی کیا سوراخ تو ہمارے،دل،دماغ اور ایمان میں بھی پڑ چکے ہیں۔اور اس مفت کے فائدے اور منافع خوری میں حکمران،تاجر،صنعت کار،زمیندار، افیسروں، نوکروں اور مزدوروں سے لیکر قوم کا ایک ایک فر د شامل ہے۔مگر اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہمارے ملک میں اچھے لوگ نہیں۔دنیا اچھوں سے کبھی خالی نہیں ہوتی ہاں البتہ ہمارے ہاں اچھائی کی شدید ترین قحط موجود ہے جس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔

2006 کی ایک سہانی شام میں لندن کے ایک پارک میں چہل قدمی میں مصروف تھا کہ کسی میم صاحبہ کا ایک کتا سیدھا بھاگتا ہوا میری طرف بڑھا۔ مجھے شیر، چیتے اور بھڑیے جیسے خونخوار جانوروں سے شائد ڈر نہ لگے مگر کتوں سے میں ہمیشہ سے بے حدڈرتا رہا ہوں۔ اسکی وجہ شائد یہ بھی ہو کہ بچپن میں ایک دفعہ میرے ماموں کے کسی کتے نے مجھے لہولہان کر دیا تھا۔ ڈرحالانکہ خدا سے اور اسکے بعد اللہ کے بندوں سے لگنا چاھیئے۔بہر حال مجھ پر شدید خوف طاری ہو ا۔دل زور زور سے د ھڑکنے لگا،ٹانگیں لرزنے لگی،گلا خشک ہونے لگا۔پرایا دیس اور اوپر سے جانوروں کے حقوق،اپنا ملک ہوتا تو دو چار پتھر اس بے زبان پر برسا کر جان چھڑاتے، یاں ایسا سوچنا بھی گناہ تھا،یہ سوچ کر میرے پاوں کے نیچے سے زمیں ہل گئی۔ میری گھبرائی ہوئی شکل کو میم صاحبہ بھانپ گئی۔ اس نیک سیرت عورت نے مسکراتے ہوے محبت بھرے لہجے میں کہا۔

"Gentleman! don,t wory it is well mannered and deciplined it will not hurt you”

کتا میرے جوتوں کے قریب سے شعیب اختر کی گیند کی طرح گزرا اور اس پاربلی کی شکل سے ملتی جلتی ایک بہت ہی پیاری کتیا کے پاس جاکر ٹھہر گیا۔میرے ہوش ٹھکانے آگئے دل کی دھڑکنیں نارمل ہوگئی اور تھرتھراتے اور نحیف سی آواز میں میرے منہ سے it is ok mam Thanks” ” کے الفاظ ادا ہوے۔کچھ سیکنڈوں کے لئے ہم دونوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹیں نمودار ہوئی اور پھر اسکے بعد میں کون تو کون ہوگیا۔

کہنا یہ مقصود تھا کہ اہل یورپ تو اپنے کتوں تک کو ڈسپلن اور مینرز سیکھاچکے اور ہم اپنی نسلوں کو بھی کچھ نہیں سکھا سکے۔جب خود ہی نہیں سیکھا تونسلوں کو کیا خاک سیکھاتے۔ خیراگر سچ پوچھے تو ہمارے ہاں آج تک والدین پیدا نہیں ہوے۔ ایک آسان سا پیمانہ ہے جو قومیں سخت محنت اور ایمانداری کا مظاہرہ کرتی ہیں وہ ترقی کے زینے چڑتیں ہیں اور جو قومیں آرام طلبی،عیش اور بے ایمانی سے کام لیتی ہیں، ترقی ان سے کوسوں دور بھاگتی ہے۔ فیصلہ آپ پر چھوڑ دیتا ہوں ترقی کس نے کی اور زوال کس کا مقدر بنا۔اہل یورپ ہمیں پسند ہوں نہ ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔دین کی تعلیمات سے کچھ نہیں سیکھ سکے تو کم از کم اس طرح کے کچھ اصول ہمیں دنیا کے ترقی یافتہ قوموں سے سیکھنے ہونگے۔دین سے تو ٹھیک طرح سے ہاتھ دھونا تک نہ سیکھ سکے تو اور کیا سیکھا؟ورنہ آج عہد کروناکی مجبوری میں ڈر کرہاتھ دھونا سیکھنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ہم اگر سیکھ جائے تو چینی،ماسک،آٹا اور متاثرین کو ملنے والے بیرون ملک سے پیش کئے جانے والے قیمتی تحائف وغیرہ سے ہاتھ کون صاف کرے گا؟گائے،بھینس کی عنائت کی ہوئی خالص دودھ میں پانی کون ملائے گا؟دوا کے نام پر زہر کون فروخت کرے گا؟ذخیرہ اندوزی کون کرے گا؟کمیشن کون لیگا؟مصنوعی منگائی کون کرے گا؟ملاوٹ کون کرے گا۔؟رشوت کون لیگا؟سفارشوں کے دفتر کون کولے گا؟بھائی کو بھائی کا دشمن کون بنائے گا؟ہمارا ایمان خراب کون کرے گا؟ہمارے جذبات سے کون کھیلے گا؟ ہمارے عقل پر تالے کون لگائے گا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔حاشا و کلا

غالبا 28 جولائی 1976 کی بات ہے کہ چین کا ایک شہر تانگ شان شدید زلزلے کی زد میں آگیا اور پورہ شہر قریبا زمیں بوس ہو گیا۔نہ کوئی عمارت رہی، نہ سڑک، نہ گھر اور نہ دفتر۔اس زلزلے میں دو لاکھ پچاس ہزار(2,50,000) لوگ لقہ اجل بن گئے۔یہ چین کے لوگوں کے لئے شدید آزمائشوں کا سال تھا۔ کیونکہ اسی سال چین کے دو عظیم لیڈر چوں اینلائی اور چوں دی وفات پا چکے تھے۔ماہرین ارضیات، انجیئرز اور آرکیٹکٹس کی یہ رائے تھی کہ تانگ شان کی زمیں پھر سے آباد کر دینے کی قابل نہیں رہی چنانچہ اسے دوبارہ آباد کرنے کا نہ سوچا جائے اور اگر ایسا سوچا بھی گیا تو یہ چین اور اسکی معیشت کے لئے بہت مہنگا ثابت ہوگا۔چنانچہ کمیونسٹ انقلابی لیڈر ماو زی تنگ نے ان کٹھن اور ناگفتہ بہ حالات میں اس شہر کو نہ صرف پہلے سے زیادہ خوبصورت انداز میں آباد کرنے کا تہیہ کرلیا۔ بلکہ اس نے فی چائینز ایک اینٹ کی پالیسی کا اعلان کر کے پوری قوم کو متحد کیااور اسی طرح پوری قوم اس کھنڈر شہر کو پھر سے آباد کرنے میں مگن ہوگئی یوں یہ شہر نہ صرف آباد کیا گیا بلکہ اسکی ایسی تزئین و آرائش کی گئی کہ تانگ شان دنیا کے لئے ایک عظیم سیاحتی مقام بن گیا۔

ارادے بلند اور نیک ہوں تو کوئی آزمائش، وبا، جنگ،قحط اور آفت مصیبت وغیرہ انسان سے بڑی نہیں ہوتی۔نہ قوموں اور ملکوں کا کچھ بگاڑدیتی ہے۔ملک امتحان میں ہے۔بہت کچھ بھگڑ چکا ہے۔بہت کچھ بگھڑرہاہے۔ امتحان کے ان دنوں میں کیا قوم کا ہر فرد اپنے حصے کاایک اینٹ اس ملک کی تعمیرو ترقی کے لئے وقف کریگا یا پہلے کی طر ح اپنے تن کی پھر سے بوٹی بوٹی نوچی جائیگی؟ کیونکہ ہم سب اپنے اپنے تن کے بھوکے گدھ ہی تو ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: