کالمز

ماحول پر کورونہ وائرس کے اثرات

تحریر: اکرم شاہ

دنیا بھر میں اس وقت کورونہ وائرس سے پچاس لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر اور ساڑھے دو لاکھ سے زیادہ لوگ اس مہلک اور جان لیوا وائرس سے اپنی جان گوا بیٹھے ہیں ۔یہ اندازا لگانا بہت زیادہ مشکل لگ رہا ہے کہ کتنےاور انسان اسکا شکار ہونگے اور کب تک اسکا علاج تمام انسانوں کے لئے دستیاب ہوگا۔

دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ ،برطانیہ،اٹلی،سپین اور روس میں اس وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں ۔ان کی اس وائرس کے سامنے بے بسی عیاں ہیں لیکن وسائل کے لحاظ سے وہ خود کفیل ہیں ۔اس کے مضر اثرات زندگی سے وابستہ تمام شعبوں پر نمایاں نظر اریے ہیں ۔ان منفی اثرات کا ڈاریکٹ واسطہ انسانی زندگی پر سب سے زیادہ ہوا ہے ۔غریب  ممالک پر اسکے بہت گہرے اثرات مرتب ہونے کے قوی امکانات ہیں ۔اس لئے کی یہاں معیشت کا پہیہ پہلے سے بیٹھ چکا تھا اس وائرس نے کمر تو ہی دے گی ۔کیونکہ پہلے سے مہنگائی اسمانوں کو چھو رہہی تھی ۔اب مزید بڑے گی روزگار کے وسائل میں کمی سے ملک میں بے روزگاری مزید بڑھے گی۔بہت سے ممالک میں اور کمپنیوں میں کا کرنے والے ملازموں کو ان کے ملازمتوں سے فارغ کرنے کے خدشات ہیں اور کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے مسائل بڑھنگے ۔

ان حالات میں زیادہ متاثر طبقات کی مدد اور دادراسی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے ۔مقامی طور پر چلائے جانے والے انڈسڑیز اپنے صنعتی پیداوار کو بڑھانا ہو گا ۔اس طرح مسائل میں کمی واقع ہوسکتی ہے اور اس وائرس سے پیدا شدہ خلا کو پر کرنے میں آسانی رہے گی ۔اس کرونہ وائرس کا دوسرا رخ پلٹ کر دیکھنگے تو اس کے کرہ ارض پر مثبت اثرات بھی پڑے ہیں ان میں سے نمایاں موسمیاتی تبدیلیوں سے رونما ہونے والے آفات ،پرندوں کی نسل کشی ،کاربن ڈائی آکسائڈ میں کمی کے امکانات ہیں اور اکسیجن کی مقدار میں اضافہ ،تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی جس کے ان مسائل کے کم کرنے میں مددگار ر ثابت ہونگے۔

پاکستان میں کرونہ سے پہلے تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں۔بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بہت گراوٹ دیکھی گئی ہے اور تاریخ کے کم ترین سطح پر خریدوفروخت ہو جاری ہے۔اس نادر موقع  سے ہمارا ملک فائدہ اٹھا سکتی ہے۔چار پانچ سال کے لئے اگر تیل زخیرہ کر لے تو ڈوبتی معیشت کو سہارا ملے گی یوں بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی کم ہوگی ۔اس کام براہراست ثمرات غریب طبقے تک پہنچنے کے امکانات بہت حد تک موجود ہیں ۔اس وبائی مرض  کے دوران جو محنت اور مشقت دیہی علاقوں میں دیکھی گئی وہ تاریخ کے اوراق میں اس کی مثال نییں ملے گی۔لوگوں نے واپس اپنے اباواجداد کے کاموں میں لوٹ کر خوب لگن کے ساتھ کام کیا۔دنیا بھر میں آمدورفت کا عمل بہت متاثر ہوا ۔

اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ماحولیات اپنی اچھی حالت میں اگئی ۔کاربن ڈائیاکسائڈ گیس کی اخراج سے جہاں ماحولیاتی الودگی میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھی گئی تھی اس میں خاطر خواں کمی واقع ہوئی ۔اسی گیس کی وجہ سے دنیا میں Global warming  میں اضافہ ہوتا تھا ۔جہازوں اور گاڑیوں کی نقل وحمل کے رک جانے سے اس میں کمی ہو گی۔جنگلی حیات اور آبی پرندوں کی شکار میں روزبروز اضافہ ہوا تھا ۔پرندوں کو وائرس کے انسانوں میں منتقلی کے خدشے کے سبب شکار پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جس کی وجہ ان کے نا پید ہونے کے خطرات کم ہونگے ۔اس وبا سے پہلے ہسپتالوں اور صحت عامہ کے اوپر بہت زیادہ بوجھ تھا لیکن کرونہ سے خوف زدہ لوگ بہت کم ہی ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں اگر زیادہ نہیں پھیلا تو اس کی وجہ سے ہسپتا لو ں پر پڑنے والی بوجھ  میں کمی آئے گی ۔یوں جس حساب سے اس وائرس کے نقصانات ہیں اس میں کوئی دو رائے نہیں لیکن اس مثبت اثرات بھی کافی حد تک موجود ہیں ۔اس طرح قدرت کے نظام میں یہ ہے کہ ہر چیز کا اگر منفی پہلو ہے تو اسکا مثبت پہلو بھی ہے ۔ماہرین کے مطابق کرونہ سے چھوڑ کارہ ممکن نہیں ہمیں اسکے ساتھ رہنا ہوگا ۔جب تک باقائدہ علاج نہیں نکلتا زندگی کو اس حساب سے ڈھلنا ہوگا ۔مگر احتیاط اور حفظان صحت کے اصولوں پر عمل میں کوتاہی برتنا ہمارے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا ۔شکریہ

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: