تبدیلی مہنگی پڑ گئی

تحریر:ارسلان شاہ

پاکستان میں تبدیلی کی سیاست وقت کا اہم سوال بن گیا ۔تاریخ کے ہر دور کے چند سوال(sawalat) ہوتے ہیں اور یہی سوال (sawalat) قوموں کی ترقی اور پسماندگی کا فیصلہ کرتے ہیں۔قومیں اگر ان سوالوں کا جواب تلاش کرنا شروع کرے تو ان کا سفر مختصر اور بامراد ہوجاتا ہے۔تبدیلی ہمارے ملک کے سوال نامے کی ایک اہم کتاب بن گئی ہے۔ کتاب کے دو اہم سوالوں کاجواب غریب عوام کے لئے پریشانی کا سبب بنے ہیں۔ موجودہ نظام کو تبدیل کر کے ریاست مدینہ کا نظام نافظ کرنے کا دعویٰ اور معاشیت کے نظام کو بہتر کرنے کا اعلان قومی مفاد سے مذاق کرنے والے بہت سے سیاست دان پاکستان کی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں لیکن قومی سوچ سے کھیلنے والے کھلاڑیوں نے ریاست مدینہ تو دور کی بات اسلام کے وسیع سمندر سے ایک قطرہ پانی بھی اس قوم کو نہیں دے سکے ہیں۔معاشی سرویز کے بنیاد پر معشیت میں تبدیلی کے کلیدی اعداد وشمار کا موازنہ دو سال پہلے کے اعداد وشمار سے کر لیں تو رات بھر نیند نہیں آئے گی۔ ڈالر کی قیمت 105سے بڑھ کر 143 تک پہنچا ہے۔ایک بات یہاں پہ آہ کے سمجھ نہی آئی ڈالر سے متاثر نہ ہونے والی اشیاء جو یہاں پاکستان میں ہی بنتی ہے ان کی قیمیتوں کا 250 فیصد بڑنا وقت کا اہم سوال ہیں اسٹاک انڈیکس 53,000 سے بڑھ کر 38,000 تک پہنچا ہے, شرح سود 5.75 سے بڑھ کر 10.75, مہنگائی 3.8 سے بڑھ کر 9.8,شرح ترقی 6 فیصد سے تبدیل ہو کر 3.5% تک اور والڈ بینک کے سروے کے مطابق 2020 میں شرح ترقی میں تبدیلی پھر سے نظر آئے گئی یعنی 3.5 سے تبدیل ہو کر 2.5 پہ آیئے گا۔یہ بہت بڑی تبدیلی پاکستان کی معیشیت کے لئے بہت مہنگی ثابت ہوگئی۔ملک کے بدترین حالات کو دیکھ کر پاکستانی عوام نے تبدیلی سلوگن کا ساتھ دیا اس کا سلہ میرے وطن کو اس جدید دور سے تبدیل کر کے 16 سال پچھے لا کر چھوڑ دیا۔ حالات کا مقابلہ صرف حالات کو سمجھنے والیحکمران ہی کر سکتے ہیں۔ تبدیلی لانے والی حکومت 1947 میں بھی اقتدار میں آتی اور ملک کی معیشیت بگڑ جاتی تو الزام کانگرس کے سر پہ ڈال کر خود بری اذمہ ہو جاتے۔ صرف الزامات لگانے سے بدترین حالات کبھی بھی تبدیل نہیں ہوتے بلکہ ملک چلانے کے لئے الزامات کی نہیں اقدامات کی ضرورت پڑتی ہے۔ریاست کا حکمران ہمیشہ حکم دیا کرتا ہے احتیجاج نہیں۔وقت کا حکمران احتیجاج کرے اور اپوزیشن برداشت کرے تو اس کا مطلب ہے تبدیلی جموریت میں بھی آگئی ہے کاش ہمارے حکمران سمجھ جاتے اور گرتی ہوئی کشتی کو کنارہ دیکھا دیتے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments