عوامی مسائل

چلاس: عارضی ملازمین کا عدم مستقلی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

چلاس (شفیع اللہ قریشی) دیامر بھر کے مختلف محکموں،جے ایم ٹی محکمہ صحت،بی اینڈ آر،لوکل گورنمنٹ،محکمہ حیوانات اور محکمہ تعلیم میں تعینات عارضی ملازمین کی اسمبلی سے بل پاس ہونے کے باوجود بھی مستقبلی نہ ہوسکی،کنٹریکٹ اینڈ کنٹیجینٹ پیڈ ملازمین کی مستقلی پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ تمام محکموں کے عارضی ملازمین کی جانب سے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر آفس روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جس میں مختلف قسم کے نعرے درج تھے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ سابق صوبائی حکومت گلگت بلتستان کی طرف سے تمام عارضی ملازمین کی مستقلی کے لیے2020 ایکٹ کے تحت جی بی اسمبلی سے بل منظور کر دیا گیا ہے،تاہم اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔

مظاہرین نے کہا چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے گزشتہ 4 مختلف محکموں کے سیکٹریز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے،تمام سیکرٹریز نے ابھی تک کوئی کاروائی کا آغاز نہیں کیا ہے۔عارضی ملازمین بل پاس ہوئے کہیں مہینے گزر چکے ہیں۔تاہم حکومت گلگت بلتستان کے اعلی حکام نے نظر انداز کر رکھا ہے۔جس کی وجہ سے عارضی ملازمین میں سخت مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ان مظاہرین کا مزید کہنا ہے محکمہ صحت میں تعینات جونیئر میڈیکل ٹیکنیشن کے 3 درجن کے قریب ایسے ملازمین ہے جن کی ڈی پی سی بھی (بنی ہوئی ہے)منظور ہوئے کئی سال بیت گئے ہیں تاہم انہیں بھی مستقل نہیں کیا گیا ہے۔زیادتیوں کا شکار شعبہ صحت ریگولر کنٹیجینٹ جے ایم ٹی ملازمین کے 12 سال گزرگیا ہے تاہم ڈی پی سی منظور ہونے کے باوجود بھی مستقل نہیں کیا گیا۔

مظاہرین نے کہا عارضی ملازمین کیساتھ ناانصافی کا سلسلہ بند کیا جائے،انھوں اعلی حکام سے پر زور اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام عارضی ملازمین کی مستقلی بل ایکٹ 2020 پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے۔بصورت دیگر احتجاجی مظاہرہ کا دائرہ کار وسیع کرکے شاہراہ قراقرم پر دھرنا دیا جائے گا اور گلگت صوبائی ہیڈکوارٹر کیطرف لانگ مارچ بھی کیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: