صفدر علی صفدر

گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات ، حکومت سازی، حکومتی عہدوں کی تقسیم اور دیگر معاملات میں وفاقِ پاکستان کی مبینہ مداخلت سےیہ تاثرعام ہوگیا تھا کہ گلگت بلتستان کی یہ نئی حکومت بھی وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کا طرزعمل اختیار کریگی۔ لیکن  مختصر عرصے میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کی جانب سے خطے کی معاشی ترقی کے لئے اٹھائے جانے والے چند اقدامات سےیہ ظاہر ہورہا ہے کہ یہاں پروفاق کی طرح زبانی نہیں بلکہ ایک عملی تبدیلی کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ مگر یہ کوئی انہونی بات بھی نہیں۔ یہ تو ابتدائے عشق ہے،ماضی کے تجربات کے تناظر میں آگے آگے جب دیکھیں گے تو بہت کچھ تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔

 اقتدار کے ابتدائی ایام میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ بھی خالد خورشید کی طرح ہی علاقے کی تعمیروترقی کے لئے پرعزم اور پرامید تھے۔ بیوروکریسی کی قلابازیوں اور اسٹبلشمنٹ کے شطرنج کے کھیل سے نابلد درویش نما وزیراعلیٰ نے بھی اپنے دور اقتدار میں یہی دعوے اور نعرے لگائے کہ وہ گلگت بلتستان کو ایسی ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملے گی۔ اسی عزم وولولے کے تحت انہوں ایک خواتین کالج میں منعقدہ تقریب میں حقوق نسواں سے متعلق مسائل کو براہ راست سننے کے لئے بھری محفل میں اپنا ذاتی موبائل نمبر بھی اشکار کردیا۔ اللہ جانے شاہ صاحب نے اپنے اس ملنگانہ آفر سے کسی دوشیزہ کا دل جیت لیا ہو۔ مگر حقیقت میں وہ گزشتہ دو الیکشنز میں اپنے حلقے کے عوام کے دل جیتنے میں بری طرح ناکام رہے۔

سال 2015 میں سید مہدی شاہ کے دور اقتدار کا سورج غروب ہونے کے بعد تخت اقتدار کا  تاج پاکستان مسلم لیگ نواز کے حافظ حفیظ الرحمٰن کے سر سج گیا۔ حفیظ صاحب چونکہ حافظ قرآن تھے تومزاجاً وہ سید مہدی سے قدرے مختلف نظر آئے۔ بظاہر وہ ایک گراس روٹ لیول کا سیاسی ورکر اور جمہوریت کے چمپین ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ مگر عملاً وہ کسی ڈکٹیٹر سے مختلف نہ تھے۔ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک عرصے تک اپنے پیش رو سید مہدی شاہ اور اس کی ٹیم سے کرپشن، اقرباپروری اور لوٹ کھسوٹ کا حساب لینے کی ٹھان لی۔ مگر حقیقت میں وہ اپنے اس مشن میں مکمل طور پر ناکام رہے۔

حفیظ صاحب نے خوشحال اور خوددار گلگت بلتستان کے نعرے کے تحت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی ترقی حتیٰ کہ قبرستانوں کو بھی سنوارنے کے دعوے تو کئے لیکن وہ اعلانات اور دعووں کے مطابق کامیابی نہ مل سکی۔  تاہم انہوں نے اپنے دور حکومت میں گلگت بلتستان کی تعمیر وترقی خاص طور پر شعبہ صحت کی بہتری کے لئے کارہائے نمایاں سرانجام دئیے۔ لیکن آمرانہ طرز حکومت اور ون مین شو والی عادت کے سبب حفیظ صاحب عوام میں وہ مقام حاصل نہیں کرپاسکے جس کی انہیں یا عوام کو امید تھی۔ چنانچہ پانچ سال تک اقتدار کے مزے لوٹنے والے حافظ حفیظ الرحمٰن بھی گزشتہ انتخابات میں عوامی عدالت میں عبرتناک شکست سے دوچار ہوگئے۔

 اب کی بار گلگت بلتستان کے نوجوان وزیراعلیٰ خالدخورشید خان بھی اقتدار کی شروعات میں اسی طرح کی ہی پھرتی کا مظاہرہ کرتے نظرآرہے ہیں جو سید مہدی شاہ اور حافظ حفیظ الرحمٰن اپنے دور حکومت کے ابتدائی ایام میں کیا کرتے تھے۔ چنانچہ خالد خورشید صاحب کو مستقبل کی سمت کے تعین میں جدوجہد کے ساتھ ساتھ ماضی کے تلخ تجربات اور اپنے پیش رو وزرائے اعلیٰ کی حالت زار پر بھی وقتاً فوقتاً نگاہ ڈالنے کی اشد ضرورت ہے۔

 خالد خورشید صاحب کو ایک اہم ایڈوانٹیج یہ بھی ملا ہے کہ اس دفعہ کے انتخابات میں متعدد حلقوں سے روایت کے برعکس نئی اور نوجوان قیادت ابھر کر سامنے آئی ہے۔ ان میں سے نذیر احمد ایڈووکیٹ، جاوید منوا، فتح اللہ خان،راجہ ناصر، کاظم میثم وغیرہ اہم آئینی وحکومتی عہدوں پر فائز ہوکر ابھی تک علاقے اور حکومت کی بہتر نمائندگی کرتے نظر آرہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت بھی گلگت بلتستان کی تعمیر وترقی کے لئے فراغ دلی اوراعتماد کے ساتھ ساتھ اربوں روپے کے منصوبوں کی منظوری دے رہا ہے۔

ان منصوبوں کا    زیادہ تر حصہ روڈ انفراسٹرکچر کی تعمیر پر مشتمل ہے۔ جن میں سب سے اہم منصوبہ گلگت شندور روڈ کی جدید طرز تعمیر کا ہے۔ یہ منصوبہ گزشتہ دور حکومت میں کئی بار ایوان اقتدار میں زیربحث آتا رہا مگر حاکم اعلیٰ کی عدم دلچسپی اور علاقے کے منتخب نمائندوں کی نااہلی کے سبب ہمیشہ زیرالتوا رہا۔ تاہم اس بارغذر سے معروف مزاہمتی سیاستدان محترم نواز خان ناجی کے شانہ بشانہ نوجوان سیاسی رہنما محترم نذیراحمد ایڈووکیٹ کی شکل میں ایک اور توانا آواز گلگت بلتستان کے ایوانوں میں گونجنا شروع ہوئی توغذر کی ترقی کی راہیں خودبخود کھلنے لگیں۔

کچھ نادیدہ قوتیں اس بار بھی وزیراعظم پاکستان کے اعلان کردہ 270 ارب کے ترقیاتی پیکج میں ضلع غذر کو  دیوار سے لگانے کی مزموم کوششیں کررہی تھیں۔ مگر  فرزندانِ غذر نواز خان ناجی کی دھمکیانہ تقاریر اور نذیر احمدایڈووکیٹ کی مخلصانہ و دانشمندانہ جدوجہد کی بدولت گلگت شندور روڈ منصوبے کی منظوری سے غذر کے ساتھ حالیہ جی بی ڈی ڈبلیوپی سے منظور شدہ منصوبوں میں کی جانے والی ناانصافی کا کسی حد تک ازالہ ہوگیا۔ گلگت شندور روڈ کا تعمیراتی منصوبہ 49 ارب 95 کروڈ کی لاگت سے ترقیاتی منصوبوں کی جانچ پڑتال سے متعلق پاکستان کے اعلیٰ ترین فورم ایکنک سے تو منظور ہوگیا۔ لیکن دفتری امور سے نابلد بعض حلقوں کو اب بھی یہ یقین نہیں آرہا ہے کہ ان منصوبوں پر عملدرآمد بھی ہوگا کہ نہیں۔ چنانچہ گلگت شندور روڈ کے ممکنہ فوائد سے متعلق تفصیلی کالم اس وقت ہی تحریر کیا جائیگا جب اس منصوبے پر عملی طورپر کام کا آغاز ہوگا۔

فی الوقت کہنا یہی مقصود تھا کہ وزیراعلیٰ خالد خورشید صاحب کی قیادت میں گلگت بلتستان حکومت ایک اچھے اور بہتر  سمت پر گامزن ہے۔ جس میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری، ادارجاتی ریفارمز، بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ، پولیس کے لئے مراعات، لیویز فورس کی اپ گریڈیشن، ڈاکٹروں کے مسائل کا حل، نیٹکو کی حالت زار کی بہتری پر غور، کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کا معاملہ، لائن ڈپارٹمنٹ کے ملازمین کے لئے ڈی آر اے کی منظوری وغیرہ وغیرہ۔

اسی کے ساتھ ساتھ  وفاق اور صوبائی حکومت کی جانب سے منظورشدہ منصوبوں پر بروقت عملدرآمد ، سرکاری محکموں سے کرپشن اور اقرباپروری کا خاتمہ ، ٹھیکوں اور ملازمتوں میں میرٹ اور انصاف کو یقینی بنانااورحکومتی فیصلہ سازی میں ہرقسم کے دباو کو مسترد کرکے جمہوری انداز میں حکومتی امور کی انجام دہی ہی گلگت بلتستان حکومت کو  پاکستان تحریک انصاف  کی وفاقی یا دیگر صوبائی حکومتوں سے ممتاز بنا سکتی ہے۔