کالمز

سانحہ سقوط ڈھاکہ

از قلم: پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ
شیخ الجامع
قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی
سقوط ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی افسوسناک،بدقسمت اور ناقابل فراموش باب ہے۔جس نے مُلک عزیز پاکستان کو دو حصوں میں تقیسم کیا۔جس سے بابائے قوم جناب محمد علی جناح کے دو قومی نظریے کو شدید دھچکا لگا۔اس واقعے سے جہاں دشمن ملک بھارت کے مذموم عزائم کی تکمیل کی۔وہاں ہماری ملکی سالمیت اور وفاق کے لئے بے شمار نئے چیلنجز پیدا کئے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ تقسیم پاکستان کا یہ بدقسمت اور اندوہناک واقع ہم سے بشمول ملٹری،سول لیڈرشپ،سیاست،سماجی اور معاشرے کی مجموعی ناکامی کا منطقی انجام ہے۔لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اس واقعے کو بھارت اور بنگلہ دیش کے منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کے تشخص اور سالمیت کو پامال کرانے کے لیے بُری طرح استعمال کیاجارہاہے۔اور اقوام متحدہ کے ذریعے پاکستان کوایک ظالم اور غیرمہذ ب قوم قرار دینے کے لیے قرارداد منظور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔سقوط ڈھاکہ کے مضمرات اور پس منظر کو سمجھنے کے لئے آرمی انسٹیٹیوٹ آف ملٹری ہسٹری راولپنڈی میں ایک روز قومی مشاورتی سیمینار کا انعقاد کرایاگیا۔جس میں پورے ملک سے چیدہ چیدہ وائس چانسلرز،ڈینز،میڈیا کے نمائندے وغیرہ کو مد عو کیاگیا تھا۔جس کا مقصد تقسیم پاکستان کے حوالے سے تاریخی حقائق کو اُجاگر کرانے کے علاوہ اہل قلم کو اس بدقسمت واقعے کے بارے میں موشگافی کرانے کے لئے تیار کرانا تھا۔
اس واقعے سے جہاں پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لئے نئے چیلنجز نے جنم لیا۔ وہاں پاکستان آرمی کی صلاحیتوں پر بھی ایک بد نما داغ لگانے کی کوشش کی گئی۔لیکن اس حقیقت میں کوئی بھی شک نہیں کہ ان حالات تک پہنچنے میں 24سالوں کا ایک طویل عرصہ گزرا۔جس کے دوران سیاسی اور عسکری ناکامیوں کے ساتھ انتظامیہ اور مقننہ کی ناکامی،دوسروں کے حقوق ماننے سے انکار،عدم برداشت،صلاح مشورے کے فقداں،فرعونیت اور پرُ امن بقائے باہمی کے اصولوں کی پامالی وغیرہ شامل ہیں۔چنانچہ اس واقعے کو ہماری قومی ناکامی کہنا بجا ہوگا۔جس میں کسی ایک ادارے یا فرد کو مورد الزام ٹھہرانا جائز نہیں۔دوسری طرف اس بدقسمت واقعے کے بعد پاکستان غلط بیانیوں اور منفی پروپیگنڈوں کا بھی شکار ہوگیااور دُنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ واقعہ پاکستان آرمی کی بربریت اور ظلم کے خلاف بنگالیوں کی منطقی بغاوت کا نتیجہ تھا۔بدقسمتی سے عالمی میڈیا بھارت اور بنگلہ دیش کے اُس منفی پروپیگنڈے پر نہ صرف خاموش ہے بلکہ اس کی پرچار میں اپنا کردار ادا کررہاہے۔چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی میڈیا اور اہل قلم اس واقعے سے متعلق حقائق کو آشکارہ کریں اور دشمن کے مذموم ارادوں کو پائے تکمیل تک نہ پہنچنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے بھارتی پروپیگنڈے نے کافی حد تک عالمی رائے عامہ کو پاکستان اور خصوصاًافواج پاکستان کے بارے میں مخالفانہ اور ہتک آمیز بنایا ہوا ہے۔چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے تاریخی حقائق کے آئینے میں ان کے بارے میں ملکی اور عالمی سطح پر ایک غیر جانبدار جائزہ پیش کیاجائے۔یہاں قارئین یہ سوال ضرور اُٹھائیں گے کہ اس ساری بحث کا کم وبیش نصف صدی گزرنے کے بعد کیافائدہ ہوسکتاہے۔اور کیاا س بحث سے پاکستانی قوم اور افواج پاکستان کو ملنے والے نقصان کا ازالہ کیاجاسکتاہے۔اس کا جواب اثبات میں دینا تو شاید مشکل ہے۔لیکن یہ ضرورہے کہ اس بحث سے نئی نسل اور عالمی رائے عامہ کو صحیح معلومات فراہم کرنے میں ضرور فائدہ ہوگااور انڈیا نواز قوتوں کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے سامنے ایک متبادل بیانیہ بھی فراہم ہوگا۔
سقوط ڈھاکہ کے رُونما ہونے سے پہلے کے حالات کو بغور دیکھنے سے معلوم ہو تاہے کہ پاکستان اور افواج پاکستان کو بدنام کرانے کے لئے من گھڑت کہانیاں اور افسانے بنائے گئے۔جن کی تفصیل درج ذیل سطورمیں ہیں۔
i)سرچ لائٹ آپریشن ڈھاکہ یونیورسٹی میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں بے گناہ بنگالیوں کی قتل کا الزام۔
اس الزام کے ذریعے پاکستانی افواج کے خلاف ایک منظم منفی پروپیگنڈا کیاگیا۔تاہم بعد کی تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ اس آپریشن میں صرف 18افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔لیکن بھارتی میڈیا اور مکتی باہنی نے ہزارون لوگوں کی قتل کے الزام کی آڑ میں لوگوں کو پاکستان اور پاکستانی افواج کے خلاف بدظن کرانے کی مذموم کوشش کی اور باآلاخر تقشہ تقسیم پاکستان کے بھیانک منصوبے میں کامیابی حاصل کی۔
ii) مشرقی پاکستان میں اقتصادی زبوں حالی۔
یہ بات کافی حد تک صحیح ہے کہ مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان وسائل کی تقسیم کافی حد تک غیر منصفانہ رہی اور اس سلسلے میں سیاسی تدبر اور ہم آہنگی کا فقدان بھی رہا۔تاہم یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کے صرف 24سال گزر چکے تھے اور جن حالات اور بدترین اقتصادی زبوں حالی میں پاکستان نے آزادی حاصل کی تھی۔24سال کے قلیل عرصے میں کوئی بڑی اقتصادی تبدیلی کے امکانات کافی محدود تھے۔اس کے باوجود سقوط ڈھاکہ کے وقت مشرقی پاکستان کی فی کس آمدنی اور مجموعی قومی پیداوارکافی بہتر تھی۔
iii)تیس لاکھ بنگالیوں کے قتل اور دو لاکھ عورتوں کے ساتھ زناکاری کا الزام۔
بھارت نواز میڈیا نے مشرقی پاکستان اور عالمی میڈیا میں پاکستان اور افواج پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاننے کے لئے پاکستانی افواج پر دو ماہ کے عرص میں تیس لاکھ بنگالیوں کے قتل عام اور دو لاکھ عورتوں کے ساتھ بدکاری کرنے کا ایک بے بنیاد الزام لگاکر بھارت نواز میڈیا کے پروپیگنڈے کے ذریعے بنگالیوں اور دیگر لوگوں کے اندر پاک فوج کی سالمیت اور تشخص کو نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کی۔دُنیا میں جن اقوام کو جنگ کے دوران قتل عام کا سامنا کرنا پڑا،وہاں جنگ کے بعداُن کی آباد ی میں کچھ سالوں کے لئے بہت کمی واقع ہوتی ہے۔جن میں ویت نام،بوسنیا،جاپان وغیرہ کی مثالیں شامل ہیں۔کیونکہ جب بھی کسی ملک میں جنگ کے دوران اتنی بڑی تعداد میں قتل عام ہوتاہے۔تو وہاں مردوں کی آبادی میں واضح کمی کی وجہ سے زیادہ تعداد میں عورتیں بیوائیں ہوجاتی ہے۔اور نتیجہً تولید وتولد کا سلسلہ کافی حد تک مسدور ہوجاتاہے۔جس کی وجہ سے آبادی میں کافی عرصے کے لئے کمی آجاتی ہے اور آبادی کی شرح میں اضافہ رُک جاتاہے یا پھر منفی ہوجاتاہے۔بنگلہ دیش کی آبادی کا تجزیہ کرنے سے ایسی کوئی شواہد سامنے نہیں آتے بلکہ آزادی یا علیحدگی حاصل کرنے کے بعد اُن کی آبادی میں اضافہ واقع ہوا ہے۔جو اُن کے قتل عام کے الزام کی تصدیق نہیں کرتا۔اس کے ساتھ ساتھ دو لاکھ خواتین کے ساتھ بدکاری کے الزام میں کوئی صداقت نظر نہیں آتی۔کیونکہ دو ماہ میں دولاکھ عورتوں کو جنسی تشد د کا نشانہ بنانے کا مقصد یہ ہے کہ روزانہ اوسطاً1600سے 1700عورتوں کو جنسی تشدد بنایا گیا۔جس کی کوئی واضح ثبوت موجود نہیں۔بلکہ بی بی سی کے مطابق 16دسمبر 1971کو بھارت کی آرمی پہلے ہی سے مشرقی پاکستان میں داخل ہوچکی تھی اور 40,000ہزار پاکستانی افواج کو پہلے ہی سے 150,000مکتی باہنی کے غنڈوں اور دو لاکھ بھارتی افواج نے گھیر ے میں لیا تھا۔اُن حالات میں پاکستان فوج انتھائی جوانمردی کے ساتھ بھارتی فوج اور مکتی باہنی کے غنڈوں کے خلاف لڑی اور ایک کثیرتعداد میں جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔
iv)93000بنگالیوں کو جھیل میں ڈالنے کا الزام اور ہندوں کے قتل عام کا الزام۔
ان الزامات میں بھی کوئی صداقت نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس پاکستان کے ایک کثیرتعداد میں کاروبار سے وابستہ اور افواج پاکستان کے جوانوں کو جیلوں میں ڈالا گیاتھا۔لیکن بدقسمتی سے آج تک ان ہزاروں بہاریوں کے قتل عام کے حوالے سے نہ توکوئی تحقیق ہوئی اور نہ ہی بھارتی اور بنگلہ دیش کے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے حوالے سے متبادل تحقیق اور بیانیہ پیش کیاگیا۔چنانچہ اس پاکستان خلاف بیانیے کو من کھڑت
کہانیوں اور خود ساختہ اعداد وشماد کے ذریعے دُنیا کو یہ باورکرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ گویا پاکستانی فوج ایک انتہائی ظالم،غیر انسانی اور غیر مہذب فوج ہے۔جو معصوم بنگالیوں کے قتل عام کے جرائم کے ارتکاب میں ملوث رہی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ امور بین الاقوامی کے ماہرین اور محققین کے ساتھ غیر جانبدار انہ تجزیہ کرکے دُنیا کے سامنے تصویر کا دوسرا رخ بھی رکھ لیں۔
v)آج تقسیم پاکستان اور سقوط ڈھاکہ کے 51سال بعدبھی لاکھوں کی تعداد میں بہاری بنگلہ دیش کے جیلوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔جن کو ایک طرف پاکستان منتقل کرانے کے لیے وہ تیار نہیں اور نہ ان کو وہاں شہری حقوق میسر ہیں۔بنگلہ دیش کی آزادی کے صف اول کے ہیرو شیخ مجیب الرحمن کو اُس کے گھر میں قتل کیا گیا۔اس کی ایک بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان امن اور پرُامن بقائے باہمی کے علمبردار تھے۔لیکن بدقسمتی سے بھارت نواز پروپیگنڈے کے ذریعے بنگلہ دیش کی نئی نسل کو پاکستان کے خلاف اُٹھ کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی۔پاکستان کی تاریخ میں سقوط ڈھاکہ ہمیشہ ایک تاریک او ر ناقابل فراموش باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔پاکستان کو اس اجتماعی غلطی سے ضرور سبق سیکھنا چاہیے۔ان میں چند اہم باتیں درج ذیل ہیں۔
i)پاکستان ایک قوم یا ملک ہی نہیں بلکہ ایک نظریے کا نام ہے۔چنانچہ دوقومی نظریے کی بنیاد پر بنے والے اس ملک خداداد کی سالمیت اور بقاء کے لیے ضروری ہے کہ پوری قوم بشمول سیاسی اکابرین،ملٹری لیڈرشپ،صاحب قلم اور محققین مل کر کام کریں اور ملک کی سیاسی،نظریاتی اور جغرافیائی سرحدادات کا تحفظ کریں۔
ii)پاکستان کے خلاف بھارت نواز میڈیا کے ذریعے منفی پروپیگنڈے کے اثرات کوز ائل کرانے کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی اور سیاست کے ماہرین دُنیا کے سامنے تحقیق کے ذریعے حقائق پیش کریں۔
iii)وفاق کی قوت اکائیوں کے حقوق کی پاسداری اور اُن کے احترام میں مضمر ہے۔چنانچہ لوگوں کے سپورٹ کے بغیر وفاق کبھی بھی طاقتور نہیں بن سکتا۔اس لیے ضرورت اس با ت کی ہے کہ ہم چھوٹے صوبوں کے حقوق کو نہ صرف مانیں بلکہ اُن کے حق سے زیادہ دیں تاکہ اُن کے اندر احساس محرومی پیدا نہ ہوں۔
اب جبکہ بنگلہ دیش ایک الگ مملکت کے طور پر معرض وجود میں آگیاہے۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم پرُامن بقائے باہمی کے اصولوں پر کاربند ہوتے ہوئے حکومت اور لوگوں کی سطح پر رابطے کریں اور اُن غلط فہمیوں کا ازلہ کریں جس کا فائدہ پاکستان دشمن قوتوں خصوصاًبھارت کو ہورہا ہے۔ہمارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ تمام اکابرین،سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکی مفادات کو ترجیح دیں تاکہ ملک عزیز کسی اور اس طرح کے سانحے سے دوچار نہ ہوں۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک عزیز پاکستان اور اس کے سارے عوام اور افواج پاکستان کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔آمین ثمہ آمین۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: