کالمز

پلاسٹک مٹاؤ ماحول بچاؤ 

تحریر :یاسر دانیال صابری 
گلگت بلتستان میں پلاسٹک مٹاو ماحول بچاو مہم جاری اور گلگت حکومت اور انتظامیہ کا  بڑا کردار ہیں ۔پلاسٹک کے تھیلے ایک دفعہ استعمال شدہ ہوتے ہیں جس سے ماحول  خراب اور گندا کرتا ہے ۔پلاسٹک کی خاتمے کیلٸے اے سی اور ڈی سی گلگت ساتھ انکے عملے نے بہت اچھی کارکردگی دیکھاٸی ۔گلگت بلتستان کا صاف اور دلکش ماحول کو پیدا کرنے میں گلگت بلتستان کے تاجر برادری اور دیگر لوکل دکاندار اس مہم کا حصہ بن گٸے۔
اب اگر دیکھا جاٸے تو لوگوں کو پلاسٹک کے تھیلے استعمال کرنے کے ماحولیاتی اور صحت کے اخراجات کے بارے میں آگاہ کر کے طرز عمل کی بہتری کا ایک اور اہم ذریعہ تعلیم ہے۔ ماحولیات پر پلاسٹک کے تھیلے کے اثرات کو محدود کرنے کے لئے جو دیگر اقدامات کیے جاسکتے ہیں ان میں محلے کی صفائی ستھرائی کی کوششوں میں حصہ لینا، گھریلو کچرے کو رضاکارانہ طور پر ری سائیکل کرنا، پلاسٹک شاپنگ بیگوں کو کچرے سے بچنا اور قانونی طور پر ماحول دوست مواد استعمال کرنا شامل ہیں۔ ایسی قانون سازی کرنا جو پلاسٹک کے تھیلے کے استعمال کو کم پرکشش بنائے۔ میرا بنیادی پیغام یہ ہے کہ دوبارہ استعمال کے قابل پلاسٹک بیگ بہترین طریقہ  ہیں، بشرطیکہ وہ کئی بار دوبارہ استعمال ہوں اور بشرطیکہ ماحول میں کچرے کا کوئی خاص رساؤ نہ ہو، اس کے علاوہ   ایسیپلاسٹک کے تھیلے متعارف کروانے چاہیے ہیں جو بیکٹیریا یا دیگر حیاتیات کے ذریعہ گلنے کے قابل ہوں۔
چند سال پہلے کی ہی تو بات ہیکہ کوئی بھی پلاسٹک بیگ استعمال نہیں کرتا تھ بلکہ ہم سب لوگ کپڑے کے بیگ استعمال کیا کرتے تھے، لیکن رفتہ رفتہ وہ عادت ختم ہوتی گئی۔ اب ہمیں اور ہمارے بچوں کو کپڑے کے بیگ گھر سے مارکیٹ یا دکان لے جاتے ہوئے شرم آتی ہے اور یہ عادت تقریباً ہر فرد میں پائی جاتی ہے۔ اگر ہم اپنے آس پاس نظر دوڑائیں تو ضرور احساس ہو گا ہمیں پھر سے ان کپڑوں کے بیگز کی ضرورت ہے۔
ماحول کے عالمی دن کے موقع پراقوام متحدہ نے پلاسٹک کی آلودگی پر قابو پانے کی اہمیت پر زور دیا ہے ۔ عالمی ادارے نے کہا ہے کہ دنیا کے ماحول کو جن سب سے بڑے خطرات کا سامنا ہے پلاسٹک ان میں سے ایک ہے۔
اس سلسلے میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں جس کا عنوان ہے ایک بار استعمال کا پلاسٹک، پائیداری کا تفصیلی لائحہ عمل، کہا گیا ہے کہ اب جب کہ پلاسٹک کے ایک بار استعمال پر سرکاری قوا نین نے اس کے کچرے کو گھٹانے میں کچھ کامیابی حاصل کی ہے، لیکن یہ کافی نہیں ہے اور مزید ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے اپنی ایک تقریر میں کہا ہے کہ ہماری دنیا ضرررساں پلاسٹک کے کچرے سے اٹ گئی ہے، پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ذرات کی سمندروں میں اس قدر تعداد ہو چکی ہے جتنی کہ ہماری کہکشاں میں ستارے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دور افتادہ جزائر سے لے کر اٹلانٹک تک،کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جو اس سے بچی ہو۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو سن 2050 تک ہمارے سمندروں میں پلاسٹک کی تعداد مچھلیوں سے زیادہ ہو جائے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ تخمینوں کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 5 ٹریلین پلاسٹک بیگ استعمال کیے جاتے ہیں۔
 متحدہ کی رپورٹ میں یہ تجویز سلسلے  تسل ہیں جن میں پلاسٹک کے زیادہ م استعمال اور ایک بار استعما استعمال کے ق ک میٹرک بھر کے سمندروں ہے جو ایک کرو ٹن اس کچرے م ہے جو پہلے سے ہی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چی باقی
پلاسٹک کے استعمال سے متعلق ایک تحقیقی گروپ کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایشیا کا ہی مسئلہ نہیں ہے۔ امریکہ بھی ہر سال تین کروڑ 30 لاکھ ٹن پلاسٹک پیدا کرتا ہے جس کا محض 10 فی صد حصہ ری سائیکل کیا جاتا ہے۔
اس ہفتے تھائی لینڈ کے ساحل پر ایک وہیل مچھلی پانچ روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد ہلاک ہوگئی۔جب اس کا طبی معائنہ کیا گیا تو اس کے معدے سے پلاسٹک کے کچرے سے بھرے ہوئے 80 تھیلے نکلے۔ آبی حیات کے ماہرین نے بتایا کہ وہیل نے سمندری حیات کے دھوکے میں پلاسٹک کے بیگ نگل لیے تھے۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ہمارے ہاں شہر ہو یا گاؤں، محلہ ہو یا کوئی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی ہر جگہ شاپنگ بیگ اڑتے، بکھرتے اور پانی میں تیرتے یا ڈھیر لگے نظر آتے ہیں۔کیا ہر طرف کچرے کے ڈھیر اور ان میں سے جھانکتی اور اڑتی پلاسٹک کی تھیلیاں ہمیں کچھ سوچنے پر مجبور نہیں کر رہیں؟
پلاسٹک بیگ زمین میں با آسانی تحلیل نہیں ہوتے بلکہ سیوریج یا گٹر لائنوں میں پھنس کر انھیں بند کر دیتے ہیں اور یوں ہر جگہ سیوریج کا پانی بہتا دکھائی دیتا ہے جو مچھروں کی افزائش کا باعث بھی بنتا ہے اور ماحول کو متعفن بھی کرتا ہے۔ پلاسٹک زمین میں تحلیل نہیں ہوتی جس سے فصلوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ماحولیاتی آلودگی دنیا کے لئے خطرہ ہے جس میں وقت گزرنے کیساتھ ساتھ اضافہ ہو ر ہا ہے اور اگر مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ ابھی سے نہ کیا گیا تو پھر اس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔
برا لیکن بطورِ شہری ہمارا یہ فرض بنتا ہیکہ کم از کم مندرجہ ذیل نقاط پرعمل در آمد کرنے کی حتی المقدور کوشش کریں۔
۱۔ اگر ہم گاہک ہیں تو کچھ بھی خریدتے ہوئے دکاندار سے پلاسٹک بیگ لینے سے انکار کریں اور خریدی گئی چیز کے لئے کپڑے کی تھیلی یا پائیدار متبادل استعمال کریں۔
۲۔ اگر ہم دکاندار ہیں تو اپنے خریدار کو پلاسٹک بیگ کے بغیر یا کسی متبادل چیز میں سامان رکھنے کی درخواست کریں۔
۳۔ اگر ہم سٹوڈنٹ ہیں تو اپنے ارد گرد جہاں پلاسٹک کا استعمال دیکھیں، وہاں نہایت ادب سے اس کے نقصان کے حوالے سے آگاہی دیں۔
۴۔ اگر ہم ماں باپ ہیں تو اپنے بچوں کو پلاسٹک کے مضر اثرات کے حوالے سے آگاہ کریں اور یہ سب کرتے ہوئے آپ اپنی تصویر سوشل میڈیا پر ضرور ڈالیں تاکہ باقی لوگ بھی راغب ہو سکیں۔
٥ ہر شخض اپنی ذمہ داری سمجھ کر جی بی ماحول کو صاف رکھنے کی کوشش کریں۔
اور صاف ماحول بہترین صحت کی ضمانت اور قوم کی پہچان ہوتا ہے۔۔گلگت بلتستان میں پلاسٹک ختم کرنے کی مہم ایک اچھا ماحول پیدا کریگا۔
پلاسٹک کے تھیلے  سیوریج سسٹم نالیوں اور پانی کے اندر پھنس کر ماحول آلودہ کرتے ہیں ۔پلاسٹک کے خاتمہ کے لٸے جی بی عوام الناس کو شعور پیدا کرنا لازم ہے ۔گلگت انتظامیہ اور حکومت کو شاباش دینے کے مستحق ہیں۔وسلام
تحریر:یاسر دانیال صابری
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: