"تحریک حقوق دو، ڈیم بناؤ” کا چارٹر آف ڈیمانڈ

گلگت بلتستان کے گیٹ وے ضلع دیامر کے دل میں ایک عظیم الشان منصوبہ تشکیل پا رہا ہے۔ یہ منصوبہ "دیامر بھاشا ڈیم” کے نام سے معروف ہے۔ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا۔ مگر بدقسمتی سے، پہلے روز سے ہی اس کا نام "دیامر بھاشا ڈیم” رکھا گیا، جو ایک بڑی زیادتی کے مترادف ہے۔ حق یہ تھا کہ نام صرف "دیامر ڈیم” ہونا چاہیے تھا۔ اس منصوبے کے باعث دیامر کا وسیع نشیبی علاقہ غرقابی کی زد میں آ رہا ہے، اور یہاں کے باسیوں کو ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا ہے۔
ڈیم کی تعمیر کا المیہ یہ ہے کہ صرف زمینیں ہی زیرِ آب نہیں آ رہیں بلکہ یہاں کے عوام کے حقوق بھی واپڈا کی بے رحم کرپشن میں ڈوب رہے ہیں۔ جیسے ہی تعمیراتی کام کا آغاز ہوا، ویسے ہی واپڈا نامی ادارے نے کرپشن اور استحصال کا ایک نہ ختم ہونے والا باب کھول دیا۔
واپڈا نامی ادارے نے دیامر کے حقوق کی پامالی کا سیاہ باب غیر معقول انداز میں شروع کیا۔ چھوٹی سے چھوٹی ملازمت ہو یا بڑی سے بڑی آسامی، ہر جگہ رشوت کی دیوار کھڑی کر دی گئی۔ میرٹ کو پیسے اور سفارش کے بوجھ تلے کچل دیا گیا۔ زمینوں کی قیمتوں میں خردبرد کی گئی، اور چولہا پےمنٹ کے نام پر عوام کے ساتھ سنگین دھوکہ دہی کی گئی۔ اس ظلم کی انتہا یہ تھی کہ بھائی کو بھائی کے خلاف، خاندان کو خاندان کے خلاف، اور پورے علاقوں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا گیا۔ اور گزشتہ 20 سال سے لوگ یہ بھگت رہے ہیں ۔
عوام کا غم و غصہ روز بروز بڑھتا رہا، پہلے بھی شدید قسم کے احتجاج ہوتے رہے اور کچھ لوگ مارے بھی گئے، اور آخرکار دیامر کے علماء و عمائدین نے قوم کو متحد کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ قرآن پر حلف لے کر ایک عہد کیا گیا کہ واپڈا کی ناانصافیوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کی جائے گی۔ یوں "حقوق دو، ڈیم بناؤ” تحریک نے جنم لیا، ایک ایسی تحریک جس نے نہ صرف دیامر بلکہ پورے گلگت بلتستان کے عوام کو یکجا کر دیا۔ اس تحریک کا یہ پہلو بھی انتہائی دلچسپ اور سماجی ہم آہنگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
یہ تحریک فرقہ، زبان اور علاقے کی تفریق سے بالاتر ہو کر ایک عوامی انقلاب میں ڈھل گئی۔ گلگت بلتستان کے ہر ضلع، ہر طبقے، اور ہر مذہب کے لوگ اپنے حقوق بالخصوص واپڈا گردی کے خلاف یک زبان ہو گئے اور چلاس کے تاریخی احتجاجی دھرنے میں پہنچے اور دو ٹوک انداز میں مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ اور اسی طرح دیامر کے جو قبائل ایک دوسرے کا نام تک سننے کے لیے تیار نہیں تھے وہ سب واپڈ گردی کے خلاف ایک پیج پر آگئے اور لوگوں نے ذاتی اور فیملی دشمنیاں چھوڑ کر متحد ہوگئے، تو بہر حال علاقائی، مذہبی و مسلکی اور قبائلی طور پر لوگ بہترین ہم آہنگی کا مظاہرہ کرنے لگے۔ ایک سماجی علوم کے طالب علم کے یہ سماج میں ایسی تبدیلی نیک شگون ہی لگتی ہے ۔
اور ہاں یہ دھرنا اور تحریک صرف واپڈا کے مظالم کے خلاف احتجاج نہیں ہے، بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کے اس غیر متزلزل عزم کا مظہر ہے کہ وہ اپنے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
"تحریک : حقوق دو ڈیم بناؤ” دراصل تنگ آمد بجنگ آمد ہے۔ دیامر کے علماء کرام، معززین اور متاثرین نے طویل مشاورت کے بعد تحریک کا آغاز کردیا اور اس کی جملہ ذمہ داریاں دیامر کے علماء کرام کو سونپی گئی، علماء نے قرآن مجید پر حلف لے کر کام کا آغاز کیا اور جو بھی تحریک میں شامل ہونا چاہتے ہیں انہیں حلفاََ شامل ہونا پڑا، ورنا معذرت کی گئی،
بہر حال ذیل میں "حقوق دو ڈیم بناؤ” تحریک کا چارٹر آف ڈیمانڈ من و عن نقل کیا جارہا ہے جو 31 نکات پر مشتمل ہے۔
ملاحظہ کیجئے:
"چارٹرآف ڈیمانڈ متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم :
1۔ یہ کہ 2010 اور 2015 کے معاہدہ کے تحت جن لوگوں نے بھی مکانات کے چیک لئے ہیں ان کو چولہاپیکج میں شامل کرکے پیمٹ کیاجائے۔ اور مہنگائی اور تاخیر کی وجہ سے تمام چولہ جات کی پیمنٹ کو ڈبل کی جائے ۔نیزہرشادی شدہ جوڑے کو چولہا دیاجائے۔
2۔ ڈبل چولہ جات کی پیمنٹ کسی ٹی ۔او ۔آر کے بغیر حرجانہ سمیت فورا ادا کی جائے ۔
3۔ یہ کہ جو آدمی بھی آج کے دن سے متاثر ہوتا ہے ان سب کو چولہا پیمنٹ کیا جائے۔
4۔ یہ کہ چھ کنال زرعی زمین جوکہ معاہدہ 2010 میں موجودہے اس زرعی زمین کو جلدازجلد متاثرین کے حوالہ کیاجائے۔
5۔ یہ کہ رہائشی 10 /20 مرلہ پلاٹس واپڈاماڈل کالونی ہرپن داس چلاس کو جلدازجلد تیارکرکے عیدگاہ اورقبرستان کی جگہ سمیت حوالہ کیاجائے۔اور2016 سے 2024 تک تاخیر کی وجہ سے مہنگائی کے تناسب سے پیکج بھی دیاجائے تاکہ متاثرین بر وقت اپنی تعمیر نو کو مکمل کرسکے ۔
6۔ یہ کہ جومدارس اورمساجد متاثرہوئی ہیں ان کوبھی چولہاپیکج شکل میں معقول پیکج دیاجائے۔تاکہ متاثرین اپنی نئی آبادی میں مساجد اورمدارس تعمیرکرسکے۔
7۔ جس آدمی کو بھی چولہ پیکیج دیا جائے اسے پلاٹ کا آپشن بھی دیا جائے ۔
8۔ 2015 کے بعد جو ضروری تعمیرات ہوئی ہیں ان سب کی سروے کرکے ان کو بھی پیمنٹ کیا جائے ۔
9۔ 2015 میں مکانات کے معاوضہ جات PWD ریٹس کے مطابق ادا کرنے تھے جبکہ اس وقت کا ریٹ فی فٹ تقریبا 4500 کا تھا جبکہ واپڈا نے گول مول کرکے 1500 سے 1600 پیمنٹ کیا ہے جو کہ ناقابل قبول ہے لہٰذا باقی ماندہ رقم کو جلد از جلد پیمنٹ کی جائے ۔
10۔ لفٹ آور اراضیات کو نئی پیمائش کرکے گلگت بلتستان حکومت کے نئے ریٹس کے مطابق فوراایوارڈ پاس کرکے ادائیگی کیاجائے۔
11۔ یہ کہ سال 2007 اور2015 کی سروے میں غلطی سے کسی آدمی کے گھرکو کچن یاسٹور یامویشی خانہ کے نام سے درج کیاگیاہے لہذا اس غلطی کودرست کرکے جلدازجلد اس کو چولہا پیکج میں شامل کیاجائے۔
12۔ یہ کہ چونکہ ضلع دیامر کی تمام زرعی زمینیں دیامر بھاشہ ڈیم کی زدمیں آرہی ہیں اس لئے ضلع دیامر کے عوام کیلئے خصوصی طورپر گندم سبسڈی ڈبل اورمستقل طورپردینے کویقینی بنایاجائے۔
13 ۔ یہ کہ 18000 ایکڑ اراضی کی پیمائش کرکے اس کی پیمٹ کویقینی بنایاجائے۔اورموجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق اس کے معاوضہ جات دیاجائے۔کیونکہ ضلع دیامر میں کوئی اراضی خالصہ سرکارنہیں ہے۔
14۔ دیامر بھاشہ ڈیم کے متاثرین کاعلاج واپڈاہسپتالوں جوکہ ڈاؤن کنٹری میں موجودہیں فری طورپرکیاجائے۔
15 ۔ یہ کہ CBM سکیمیں جوکہ متاثرین ڈیم کیلئے ہیں ان سکیموں کو ڈیم متاثر ہ ایریازمیں استعمال کیاجائے۔پیری فیری روڈ اوردیگر روڈز کو سی۔بی ۔ایم سکیموں میں شامل نہ کیاجائے۔جوکہ ہرگز تسلیم نہیں ہے۔
16 ۔ یہ کہ ضلع دیامر کے رہائشیوں کو دیامر بھاشہ ڈیم سے بجلی فری مہیاکیاجائے ۔اور گلگت بلتستان کیلئے بجلی جتنی بھی ضرورت ہو دیامر بھاشہ ڈیم سے 50 فیصدڈسکاؤنٹ کیساتھ دیاجائے۔
17۔ یہ کہ گریجویٹ الائنس کے ساتھ جومعاہدہ مورخہ 27 جنوری 2021 کوطے پایاہے اس کی روکے مطابق 100 فیصد عملدرآمد کرکے گریڈ 1 سے 16 ٹیکنیکل اورنان ٹیکنیکل تمام ملازمتیں دیامر کے نوجوانوں کودی جائے۔اورنان لوکل تمام ملازموں کو کمپنی اور واپڈاسے فارغ کرکے لوکل کو موقع فراہم کیاجائے۔
18 ۔ یہ کہ سکیل 1 سے لیکر 10 تک جو مقامی ملازمین واپڈامیں خدمات سرانجام دے رہے ہیں ان کاتبادلہ کہیں اورنہ کیاجائے ان کی ڈیوٹی ضلع دیامر میں ہی لگایاجائے۔
19۔یہ کہ ضلع دیامرکے کنٹیجنٹ اورڈیلی ویجزملازمین کو مستقل کیاجائے۔
20 ۔ یہ کہ ضلع دیامر کے تمام کمپنی اورایف ۔ڈبلیو۔اوکے ملازمین کو بھی واپڈامیں سروس سمیت ملازمت کا موقع دیاجائے۔
21۔ یہ کہ تاجربرادری ،کارخانہ وغیرہ جتنی کاروبارمتاثرہوئی ہے ان کے رن کاروبارکامعاوضہ دیکر ان کے کاروبارکو یقینی بنایاجائے۔
22۔ یہ کہ دریائے سندھ کے آس پاس سوناوغیرہ کاکام کرنے والوں کاکاروبارمکمل متاثرہورہاہے لہذا ان کے لیے اس کی مدمیں متاثرین کوریالٹی دیاجائے۔
23 ۔یہ کہ دیامر بھاشہ ڈیم کے ملازمتوں میں متاثرین کیلئے خصوصی کوٹہ مختص کیاجائے۔اور ہر متاثرہ گھرانہ کو ایک سرکاری ملازمت ان کی تعلیمی کوائف کی روشنی میں دی جائے۔
24۔ یہ کہ ٹیکنیکل انسٹیوٹ ،میڈیکل کالج ،انجینرنگ کالج اورواپڈاہسپتال کاقیام جلدازجلددیامر میں عمل میں لایاجائے۔
25۔یہ کہ گریجویٹ الائنس دیامر کے معاہدے کے مطابق دیامر کے نوجوانوں کوملک کی معیاری یونیورسٹیزمیں اعلی تعلیم کے مواقع بطورسکالرشپ فراہم کئے جائے۔
26۔ یہ کہ جورقم انتظامیہ کے اکاؤنٹس میں پڑی ہیں ان کوفوری طورپراداکیاجائے اوربمع منافع دلایاجائے۔
27۔ یہ کہ متاثرین کو رائیلٹی سالانہ کے حساب سے جومراعات بنتے ہیں وہ دائمی طورپر دئے جائے۔
28۔ یہ کہ ڈیم پانی کے متاثرین ہیں لہذا ڈیم کے پانی آنے تک اورپانی آنے کے بعدبھی جومکان اورزمین اوردرختان قابل استعمال ہوگی وہ اسی مالک کی ملکیت ہوگی۔جس میں وہ بذات خودتصرف کرنے کاحقدارہوگا۔
29۔ یہ کہ ڈیم کی وجہ سے موسمی اثرات مرتب ہونے کی بناء جونقصانات مثلا،جنگلات وجنگلی حیات ،فصلیں اورگلہ بانی وغیرہ جوکہ متاثر ہوتے ہیں ان کاازالہ فرمایاجاوے۔
30۔ یہ کہ متاثرین کی شناخت کیلئے گرین کارڈ کااجراء یقینی بنایاجائے۔
31۔ یہ کہ سال 2014 میں جبری طورپر جن لوگوں نے احتجاجا چیک وغیرہ وصول کیے ہیں اوران کے ساتھ زمین ،درختان اورمکانات میں ناانصافی ہوئی ہے ان کاازالہ فرمایاجائے۔اوران کو پیمٹ کی جائے۔”
ان اکتیس نکات پر غور کیا جائے تو یہ انتہائی معمولی مطالبات ہیں جو لوگوں کا آئینی، قانونی، شرعی اور اخلاقی حق ہے۔ ریاست پاکستان کے لیے یہ مطالبات ماننا بہت آسان ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست، حکومت اور واپڈا اپنے رویے پر نظر ثانی کریں۔ عوام کے جائز مطالبات کو مزید ٹال مٹول کا شکار نہ بنایا جائے، بلکہ ان کا فوری اور منصفانہ حل نکالا جائے۔ اگر حکومت واقعی دیامر میں ترقی چاہتی ہے، تو اسے پہلے دیامر کے عوام کو ان کا حق دینا ہوگا۔ ورنہ، تاریخ گواہ ہے کہ جب قوم بیدار ہوتی ہے، تو تخت و تاج ہل جایا کرتے ہیں!