
سکردو (محمد علی عالم) بین الاقوامی ماحولیاتی ادارے آئی سی آئی ایم او ڈی نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی تازہ رپورٹوں کی روشنی میں ہندو کش اور ہمالیہ کے گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پچھلے چھ سالوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے، جو خطے کے ماحولیاتی، سماجی اور معاشی نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق، دنیا کے ساٹھ فیصد میٹھے پانی کے ذخائر پہاڑوں سے آتے ہیں، لیکن بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے ہندو کش ہمالیہ کے گلیشیئرز تیزی سے غائب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مختصر مدت میں سیلاب، جھیلوں کے اچانک پھٹنے، اور دیگر قدرتی آفات کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ طویل مدت میں پانی کی قلت، خشک سالی، خوراک اور توانائی کے بحران، ہجرت اور تنازعات کے خطرات میں اضافہ ہوگا۔ پرمافراسٹ (ہمیشہ جمی ہوئی زمین) بھی تیزی سے پگھل رہا ہے، جس سے زمینی استحکام متاثر ہو رہا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہندو کش ہمالیہ کے بڑے دریاؤں، خاص طور پر دریائے سندھ، آمو دریا اور ہلمند، میں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ برفانی ذخائر پر انحصار کے اعداد و شمار مطابق دریائے سندھ چالیس فیصد، آمو دریا چوہاتر فیصد اور ہلمند ستاتر فیصد ہے آئی سی آئی ایم او ڈی کے ریموٹ سینسنگ ماہر شیر محمد کے مطابق، کم برفباری خاص طور پر پہاڑی اور نشیبی علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا کر سکتی ہے، جو براہ راست برفانی پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ دریائے سندھ پاکستان کی لائف لائن سمجھا جاتا ہے، جس پر ملک کی زراعت، صنعت اور توانائی کے نظام کا انحصار ہے۔ تاہم، پاکستان کے 13,000 گلیشیئرز میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیاں پانی کے انتظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔ فاصلہ لیوساڈ قمر، جو آئی سی آئی ایم او ڈی کی ریور بیسن لیڈ ہیں، کہتی ہیں کہ "پانی کے بہتر انتظام کے لیے ڈیٹا کے حصول اور ماحولیاتی سفارتکاری کو بہتر بنانا ضروری ہے۔آئی سی آئی ایم او ڈی کی ڈائریکٹر جنرل، پیما گیانگتسو نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے مہلک اثرات سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کاربن کے اخراج میں فوری کمی ضروری ہے تاکہ درجہ حرارت میں اضافے کو روکا جا سکے، پانی کے انتظام کے لیے ایک جامع اور تعاون پر مبنی حکمت عملی اپنانا ہوگی، مقامی کمیونٹیز اور حکومتوں کو موافق حکمت عملیوں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ پانی، خوراک اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔