کالمز

غیرت کس کی؟ جان کس کی؟ دیامر کا کڑا سوال

دیامر کو اکثر مہمان نوازی، غیرت، عورت کی عزت اور مضبوط دینی اقدار کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ تصویر جزوی طور پر درست ضرور ہے، مگر مکمل سچ نہیں۔ اصل اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ اسی دیامر میں انسانی جان اس قدر سستی ہو چکی ہے کہ معمولی طعنہ، انا کی ہلکی سی ٹھیس یا نام نہاد غیرت کے نام پر پورے پورے خاندان صفحۂ ہستی سے مٹا دیے جاتے ہیں۔ اگر یہ سب غیرت ہے تو پھر ظلم کسے کہتے ہیں؟
دیامر میں ایک خطرناک رجحان تیزی سے جڑ پکڑ چکا ہے، جہاں قبائلی روایات اور اسلامی تعلیمات کے درمیان فرق کو دانستہ طور پر مٹایا جا رہا ہے۔ قبائلی نظام میں انا، ضد، طاقت اور انتقام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جبکہ اسلام عدل، صبر، مساوات اور قانون کی بالادستی سکھاتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ دیامر میں اسلام کو صرف مسجد، جنازے اور چند مذہبی رسومات تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ عملی زندگی میں بندوق، بدلہ اور دشمنی کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔
غیرت کے نام پر قتل، دیرینہ دشمنیاں اور ذات پات کا گھٹیا تصور اس معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ اسلام میں نہ ذات کی بنیاد پر برتری ہے اور نہ ہی کسی فرد کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ خود قاضی، منصف اور جلاد بن بیٹھے۔ مگر دیامر میں یہ سب کچھ کھلے عام ہو رہا ہے اور المیہ یہ ہے کہ اسے ’’قبائلی روایت‘‘ کا مقدس لبادہ اوڑھا کر جائز ثابت کیا جاتا ہے۔
اسلام نے واضح طور پر ریاست، عدالت اور شوریٰ کو انصاف کے اختیارات دیے ہیں۔ جب یہ اختیارات افراد یا گروہ اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں تو وہ معاشرہ نہیں بلکہ جنگل بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے دیامر میں آج یہی جنگل کا قانون نافذ ہے، جہاں طاقتور بچ نکلتا ہے اور کمزور لاش بن جاتا ہے۔ یہ کوئی حادثاتی صورتحال نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک نظام اور ایک بیمار ذہنیت کا نتیجہ ہے۔
حالیہ دنوں ضلع دیامر کے علاقے تھور میں پیش آنے والا واقعہ اسی ذہنیت کی ایک ہولناک مثال ہے۔ رات کے اندھیرے میں چند مسلح افراد ایک گھر میں گھس آئے اور اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق جبکہ تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔ اس سنگین واردات کے دوران گھر کی ایک نوجوان لڑکی کو زبردستی اغوا بھی کر لیا گیا۔ یہ محض ایک جرم نہیں بلکہ پورے معاشرے کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جس معاشرے میں عورت کو کبھی عزت، حرمت اور تحفظ کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج اسی معاشرے میں عورت سب سے زیادہ غیر محفوظ ہو چکی ہے۔ عورت کو کبھی دشمنی کا ہدف بنایا جاتا ہے، کبھی بدلے کا ذریعہ اور کبھی محض ایک الزام کی بنیاد پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف ہمارے سماجی اقدار پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اجتماعی خاموشی کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ پہلا واقعہ ہے نہ آخری۔
 گزشتہ چند برسوں میں دیامر کے مختلف علاقوں میں درجنوں ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں معمولی باتوں سے شروع ہونے والی دشمنیوں نے برسوں بلکہ دہائیوں تک جاری رہنے والی خونریزی کو جنم دیا۔ ان دشمنیوں میں نوجوان مارے گئے، باپ بیٹوں کے جنازے ایک ساتھ اٹھے، عورتیں بیوہ ہوئیں، بچے یتیم ہوئے، مگر انتقام کی آگ ٹھنڈی نہ ہو سکی۔ کہیں زمین کے جھگڑے کو غیرت کا نام دیا گیا، کہیں طعنہ زنی کو قتل کا جواز بنایا گیا، اور کہیں عورت کو محض ایک الزام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ دیامر کے معاشرے میں ایسے قاتلوں کو مجرم نہیں بلکہ ’’غیرت مند‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ انہیں جرگوں میں تحفظ دیا جاتا ہے، ان کے لیے نرم گوشہ رکھا جاتا ہے اور بعض اوقات کھلے عام ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ جو شخص صلح، قانون یا ریاست کی بات کرے، اسے کمزور، بزدل اور روایت دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ گویا قتل کرنا بہادری اور زندگی کو بخش دینا بزدلی بن چکا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ نام نہاد غیرت دراصل خوف، جہالت اور انا کا مرکب ہے۔ یہ غیرت نہیں بلکہ کھلا فساد ہے جس نے نسلوں کو برباد کیا ہے۔ اگر یہی روش جاری رہی تو آنے والی نسلوں کے لیے دیامر ایک پرامن معاشرہ نہیں بلکہ ایک وسیع قبرستان بن جائے گا۔
اب بھی وقت ہے، مگر یہ وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ دیامر کے علما، مشران، پڑھے لکھے نوجوان اور ریاستی ادارے اگر اب بھی خاموش رہے تو تاریخ انہیں بھی اس جرم میں شریک سمجھے گی۔ مساجد سے واضح اور دوٹوک پیغام جانا چاہیے کہ غیرت کے نام پر قتل حرام ہے۔ جرگوں کو قاتلوں کے لیے ڈھال بننے کے بجائے انہیں قانون کے حوالے کرنا ہوگا۔ ریاست کو بھی مصلحت، خوف اور دباؤ سے نکل کر بلاامتیاز قانون نافذ کرنا ہوگا۔
اگر دیامر کو واقعی غیرت مند، اسلامی اور باوقار معاشرہ بنانا ہے تو سب سے پہلے اس جھوٹی غیرت، اندھی روایت اور خونخوار دشمنی سے جان چھڑانا ہوگی۔ ورنہ یہ آگ جو آج دوسروں کے گھروں کو جلا رہی ہے، کل کسی کا لحاظ کیے بغیر سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button