کالمز

بُبُر کا بدھا: تاریخی تناظر

گلگت بلتستان صدیوں تک مختلف تہذیبوں، مذاہب اور ثقافتی روایتوں کا سنگم رہا ہے، قدیم تاریخی تہوار اور رسم رواج آج بھی یہاں کسی نہ کسی صورت میں برقرار ہیں۔ بدھ مت، وسطی ایشیائی ترک روایات، مقامی اینیمسٹ، اور شامنک عقائد، زرتشت ، ہندومت اور بعد ازاں اسلام کا آمد ، یہ سب یہاں کے تاریخی منظرنامے کا حصہ رہے ہیں۔ ضلع غذر کی وادی پنیال میں واقع قدیم گاؤں بُبُر (بوبر) اسی تہذیبی تسلسل کی ایک نہایت اہم مگر فراموش شدہ کڑی ہے۔ جرمنی کے ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں جنوبی ایشیا انسٹیٹوٹ میں شعبہ ثقافتی اور سماجی بشریات کے سربراہ پروفیسر کارل یٹمار نے اپنی تصانیف "بلور اینڈ داردستان اور Beyond the Gorges of” Indus میں بوبر کے اس قدیم بدھا کے متعلق ذکر کیا ہے۔ 
سنہ 1979 میں موضع بُبُر کے کھٹم  نامی محلے کے ایک کھیت میں کام کے دوران ایک منفرد اور غیر معمولی چٹان دریافت ہوئی تھی جس پر بدھا کا شبیہ کندہ تھا۔ یہ ایک مخروطی اور اہرام نما یک سنگی ستون تھا، جس کی بنیاد مثلثی تھی اور اس کے چار میں سے تین اطراف پر بدھ مت کی شبیہیں نہایت مہارت سے کندہ تھیں۔  مالک زمین نے اسے "غیر اسلامی نشانی” سمجھ کر اسے بارود سے اڑانے کا فیصلہ کر لیا تھا، مگر کارل یٹمار نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے اس سے مالی معاوضہ دے کر اس قیمتی ورثے کو مکمل تباہی سے بچا لیا۔
بعد ازاں گلگت پولیس کے اس وقت کے ایس ایس پی راجہ علی احمد جان کے نے اس چٹان کو گلگت منتقل کیا، تاہم بڑے حجم کے باعث اسے دو حصوں میں کاٹنا پڑا۔ بہتر حالت میں موجود حصہ راجہ علی احمد جان کی گلگت میں واقع نجی رہائش گاہ کی بیرونی دیوار کے ساتھ نصب کیا گیا ہے، جبکہ دوسرا حصہ باغ کے پچھلے حصے میں رکھا گیا۔ آج کل یہ نگر میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں رکھا گیا ہے۔ آج بھی گلگت میں کسی باقاعدہ سرکاری عجائب گھر کی عدم موجودگی کے باعث یہ نادر تاریخی یادگار ان کی نجی ملکیت میں محفوظ ہے، جو ایک اجتماعی ثقافتی ناکامی کی علامت ہے۔

سال 2024 میں جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے
مصنف ہیرالڈ ہاپٹ مین کی نہایت عمدہ کتاب بعنوان Lords Of The Mountains  شائع ہوئی ہے اس کتاب میں گلگت بلتستان کی قدیم تاریخ،  یہاں کے راک انسکرپشنز کا تفصیلی ذکر ہے اس کتاب کے صفحہ نمبر 88 میں وادی پنیال کے گاؤں بوبر اور وہاں سے دریافت ہونے والے بدھا کے مجسمے کے متعلق دلچسپ حقائق بیان کئے گئے ہیں مثال کے طور پر کتاب میں لکھا گیا ہے کہ ” بُبُر / بوبر دسویں صدی عیسوی تک بدھ مت کا ایک فعال مرکز رہا ہے بوبر بدھا کے نقش و نگار شمالی علاقہ جات/ موجودہ گلگت بلتستان میں بدھ مت کے آخری دور سے تعلق رکھتے ہیں اور اس عہد کی تصدیق دسویں صدی کے دوسرے نصف میں تیار کردہ "ساکا سفرنامے” سے ہوتی ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے بوبر سے دریافت ہونے والے قدیم بدھ کے مجسمہ کی تاریخ دسویں یا گیارہویں صدی تجویز کی ہے، ساکا سفرنامے” میں بوبر کو ‘باؤبرا’ (Baubura) کہا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قدیم دور میں ‘بوبر کی سیاسی اہمیت تھی، کیونکہ "ساکا سفرنامے” میں اس کا ذکر "باوبویرا” نامی شہر کے طور پر ملتا ہے، جہاں "سینا (Sīna) نامی ایک عظیم دریا ہے”۔ یہ مقام چار ‘سنگھاراموں’ (بدھ خانقاہوں) کا مسکن بھی رہا ہے۔

فنی اور مذہبی اعتبار سے دیکھا جائے تو بُبُر کا یہ مجسمہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے ، بقول جیٹمار چٹان کے دونوں اطراف پر کھڑے ہوئے شاکیہ مُنی بدھ کندہ ہیں، جن کا لباس اور تناسب نپورہ/ گارگاہ کے بدھا کے مجسمہ سے مشابہ ہے۔ ایک کھڑے بدھ کے قدموں کے پاس دو چھوٹے نقوش موجود ہیں، جن میں بہتر حالت میں موجود نقش کو یٹمار نے منجوشری (Mañjuśrī) یعنی ماورائی دانش کے بودھی ستوا سے تعبیر کیا ہے، جو تلوار بلند کئے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔
ان کے متعلق یٹمار کا استدلال ہے کہ یہ ‘منجوشری’ (عقل و دانش کے دیوتا) ہیں، جو سر پر تلوار لہرائے ہوئے ہیں جبکہ تیسرے رخ پر ایک نوکیلی محراب کے اندر بیٹھے ہوئے پدماپانی دکھائے گئے ہیں، جن کے سر پر تین نوکوں والا تاج ہے اور ہاتھ میں کنول کا پھول ہے۔ سنسکرت میں پدماپانی کنول کے پھول کو کہتے ہیں جو پاکیزگی کی علامت ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ قابلِ توجہ ہے۔ معروف اطالوی ماہر (Giuseppe Tucci) نے بالائی وادیٔ سندھ کے چٹانی فن میں وجریان (Vajrayāna) دیوتاؤں کی تقریباً مکمل عدم موجودگی کی نشاندہی کی ہے۔ اس کے برعکس، بُبُر کا یہ مجسمہ مہایان بدھ مت کی ایک نسبتاً ترقی یافتہ شکل کی نمائندگی کرتا ہے، جو اس خطے میں بدھ مت کے فکری ارتقا کی آخری علامت ہے۔
بقول کارل یٹمار اس دوران یہ علاقہ اور لیٹل پلولا شاہی ،ترک حملہ آوروں کے قبضے میں تھے۔
دسویں صدی کی نایاب تاریخی دستاویز “ساکا سفرنامہ میں جن   خانقاہوں کا ذکر ہے ان کا  بوبر گاؤں میں آج وجود نہیں ہیں، البتہ اس کی باقیات ڈومو را نامی ایک تاریخی جگہ کی صورت میں تا حال موجود ہے۔
ماضی قریب میں ڈومو را نامی اسٹوپا کے نیچے موجود لکڑی کے چیمبرز میں انسانی لاشیں رکھی جاتی تھی، ان کی کچھ باقیات آج تک موجود ہیں، ممکن ہے لاشیں  دفنانے کی بجائے اس سٹوپا کے تہہ خانوں میں رکھنے کا رواج  بدھ مت  سے پہلے اینیمسٹ دور کی  ہو۔
مثال کے طور پر وادی کیلاش میں چند سال قبل تک مردے فنانے کا رواج نہیں تھا بلکل اسی طرح  رکھا جاتا تھا جس طرح ڈومو را میں مردوں کو رکھا جاتا تھا البتہ کیلاش میں انسانی لاشیں تابوت میں ڈال کر آسمان تلے  کھلا رکھا جاتا تھا۔
   بوبر سے تعلق رکھنے والے چین کی  Qilu یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں  لبرل آرٹس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر تاجور علی کے بقول "بدھ مت کے رواجوں میں کوئی ایسی مثال موجود نہیں جہاں مردے اس طرح کے تہہ خانوں میں رکھے جاتے ہوں لہذا ممکن ہے کہ ڈومو را کا سٹوپا بدھ مت کے ایک الگ فرقے کی نشانی ہو۔ ان کے بقول یہ رواج زرتشت عہد سے مماثلت رکھتی ہے۔ زرتشتی بھی مردے کو ٹاور جیسے ڈھانچوں میں رکھتے ہیں، جہاں سورج کی روشنی سے لاشیں تیزی سے گل جاتی ہیں اور پرندے انہیں کھا جاتے ہیں، بقول تاجور بوبر کے  آبدیے قبیلہ نے روایتی طور پر ڈومو را کے اس ڈھانچے کو بطور اجتماعی قبرستان کے استعمال کیا ہے ۔”
دوسری طرف ضلع غذر، گلگت بلتستان میں اجتماعی تدفین کے مقبرے کے عنوان سے اپنے مقالے میں ڈاکٹر معیز الدین ہکل ڈومو را کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ” نوادرات کی تلاش میں غیر قانونی کھدائی کرنے والوں نے اس قبر کو کھول دیا تھا جو قبر بالائی چھت یعنی ٹیلے کی چوٹی پر واقع ہے جبکہ زمینی منزل پر ہڈیاں رکھنے کے لیے مشرقی اور مغربی دیواروں کے نیچے چار خانے یا طاقچے  بنے ہوئے ہیں، یعنی ہر طرف دو طاقچے تھے ہر طاقچہ تدفین کے کمرے کے فرش کی سطح سے تقریباً 15 سینٹی میٹر گہرا ہے، دیواروں پر چاروں طرف پلستر کیا گیا ہے۔ چھت لکڑی کے تختوں سے بنی ہے جو مشرق-مغرب کی سمت میں ترتیب دیے گئے ہیں، یہ تختے آپس میں جڑے ہوئے شہتیروں پر رکھے گئے ہیں، جنہیں ‘کریبیج’ کی روایتی تکنیک کے مطابق پتھر کے ڈھانچے کو سہارا دینے کے لیے استعمال کیا گیا ہے، جبکہ اوپر مٹی کے گارے کا پلستر کیا گیا ہے۔
اب ان قبروں میں موجود ہڈیاں اس قدر بوسیدہ ہو چکی ہیں کہ لاشوں کی پوزیشن، جنس اور عمر کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔ تاہم، یٹمار کی لی ہوئی تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سر اصل میں دھڑ سے الگ کر کے شمالی دیوار کے ساتھ قطار میں رکھے گئے تھے”۔
گلگت بلتستان کے معروف دانشور عزیز علی داد کے بقول اس خطے میں بدھ مت سے قبل یہاں کی اینیمسٹ رسومات  بدھ مذہب کے دور میں بھی جاری رہی جس طرح ڈومو را میں مردوں کو رکھا جاتا تھا اس طرح ہنزہ میں بھی یہ رسم موجود تھی جو اسلام کی آمد کے بعد ختم ہوئی  بقول عزیز بدھ مت یہاں کا سرکاری مذہب تھا مقامی لوگ اپنی قدیم روایات اور رسومات پر عمل پیرا تھے۔
جب کارل یٹمار نے 1967 میں ڈومو را کا دورہ کیا اور اسے دستاویزی شکل دی تو اس وقت  یہ آثار تقریباً  اپنی اصلی حالت میں موجود تھے ۔اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہو کہ مقامی لوگ روحیت پر بدستور یقین رکھنے کی وجہ سے اس کی دیکھ بھال کرتے ہونگے مگر اج صورتحال بالکل مختلف ہے، کیونکہ اب وہاں چند دیواروں کے باقیات رہ گئی ہیں۔
کارل یٹمار نے بوبر سے ملنے والے بدھا کے مجسمے کو گلگت سے ملحقہ علاقوں میں بدھ متی فن کے آخری مرحلے  سے منسوب کیا ہے۔
اس یادگار بدھا کی سب سے اہم اور منفرد خصوصیت اس میں پائے جانے والے وسطی ایشیائی ترک اثرات ہیں۔ کھڑے بدھوں کے چوڑے چہرے، سامنے کی طرف سخت رخ اور سادہ مگر طاقتور تراش خراش وسطی ایشیا، الطائی اور منگولیا کے قدیم ترک قبائل کے (Balbal) نامی انسانی شکل کے یادگاری پتھروں سے غیر معمولی مماثلت رکھتے ہیں۔ یٹمار کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ترک قبائل نے بدھ مت کو فوراً ختم نہیں کیا بلکہ اس کے فنی اظہار کو اپنے ثقافتی ذوق میں ڈھال کر ایک منفرد ترک بدھ فن کو جنم دیا۔
اسی تناظر میں یٹمار نے بُبُر کے نقوش کا تقابل سوات کے علاقے گلی گرام کے قریب پائے جانے والے ایک چٹانی نقش سے بھی کیا ہے، جہاں ایک ناچتی ہوئی دیوی کو بظاہر زرخیزی کے کسی مقامی رسم و رواج سے جوڑا جاتا ہے۔ یہ تقابل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس دور میں بدھ مت مقامی عقائد اور رسوم کے ساتھ ایک پیچیدہ مگر تخلیقی مکالمے میں تھا۔
یہ دور شمالی علاقہ جات میں بدھ مت کے "بجھتے ہوئے چراغ کی آخری لو” کی مانند تھا، جس کے بعد اسلام کا غلبہ شروع ہوا۔
بُبُر کا یہ یک سنگی ستون (Monolith) گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک ایسی گمشدہ کڑی ہے جو مہایان بدھ مت کی ترقی اور ترک قبائل کی آمد کے درمیانی عہد کو جوڑتا ہے جو کہ گلگت بلتستان کی قدیم تاریخ کو سمجھنے میں نہایت اہم ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جہاں پنیال اور گلگت کے گردونواح میں بدھ مت دسویں صدی کے بعد تیزی سے زوال پذیر ہوا، وہاں بلتستان میں پورگ، لداخ اور وسطی ایشیا کے ساتھ مضبوط روابط کے باعث بدھ مت کی روایت میں کوئی نمایاں تعطل نظر نہیں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلتستان میں بدھ متی ریاستوں اور بعد ازاں چھوٹی سیاسی اکائیوں کا تسلسل ہمیں اٹھارویں صدی تک دکھائی دیتا ہے۔
بُبُر کا بدھ مجسمہ محض ایک پتھر پر تراشی گئی شبیہ نہیں، بلکہ یہ گلگت بلتستان کی اس کثیر تہذیبی تاریخ کا خاموش گواہ ہے جسے ہم نے یا تو لاعلمی میں نظرانداز کیا یا عقیدے کے نام پر مسترد کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کو تسلیم کرنے سے عقیدہ کمزور نہیں ہوتا، بلکہ فکری پختگی پیدا ہوتی ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ گزشتہ بیس سے تیس برسوں میں بُبُر اور اس کے اطراف میں قدیم قبروں کی غیر قانونی کھدائی کی گئی، نوادرات سستے داموں فروخت ہوئے، اور یوں تاریخ کا ایک قیمتی باب خاموشی سے ضائع ہوا ۔ لہٰذا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان میں ایک باقاعدہ، سائنسی بنیادوں پر قائم عجائب گھر بنایا جائے، جہاں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے بعد زیر آب آنے والے تمام چٹانی نقاشیوں کو محفوظ کیا جا سکے نیز بُبُر جیسے نادر آثار کو سرکاری تحویل میں محفوظ کر کے آنے والی نسلوں کو یہ بتایا جا سکے کہ یہ خطہ ہمیشہ سے تہذیبوں کا سنگم رہا ہے،نہ کہ کسی ایک عہد کی یک رُخی کہانی کے گرد گھومتی ہے، یہی وجہ ہے آج ہم نے مادی ثقافتی ورثہ کو بھلا دیا ہے اور المیہ یہ ہے کہ ہم نے محض ناچ گانے کو ثقافت کا نام دیا ہے یہ بات یہ ثابت کرتی کہ ہم اپنے ثقافتی و تاریخی ورثہ سے نابلد ہیں اور نابلد قومیں اپنے ماضی کی تہوں کو کھولنے کا حوصلہ نہیں رکھتیں۔ یوں وہ مستقبل کی تعمیر  کرنے کی اہل نہیں ہوتے۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button