کالمز

اقبال الدین سحر صرف ایک انسان نہیں، ایک عہد تھا

وہ کھوار ثقافت کا امین، فن کے آسمان پر جگمگاتا ستارہ، ڈرامہ نگار، افسانہ نویس، نعت خواں، مزاحیہ شاعر اور موسیقی کے ساز پر جذبوں کے نغمے بکھیردینے والا جادوگر  تھا۔ وہ زبان کا زرخیز باغبان تھا، جس کے الفاظ صرف جملے نہیں، دل کی دھڑکنیں ہوتے تھے۔ وہ کمپئیرنگ کا ماہر، اور الفاظ کا ایسا ساحر ہے جو لفظوں سے خواب بُنتا  تھا ۔ وہ پاکستان کے مشہور و معتبر شاعر احمد فراز کا شاگرد تھا  اور اپنے مرشد کی طرح احساسات کا شاعر تھا۔ وہ اقبال الدین سحر تھا ۔ کھوار ثقافت کی چلتی پھرتی تصویر، چترال کی روشنیوں میں جگمگاتا چراغ۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صرف زندہ نہیں ہوتے، وہ اپنی ذات میں ایک مکمل داستان ہوتے ہیں۔صابر سے سحرکت سفر درد حوصلہ عشق لبریز اور خوش نصیبی کا سفر تھا۔ایک ایسا سفر  جو مکمل ہوا۔


21جنوری 1951 کو چترال کے خوبصورت گاؤں شغور میں پیدا ہونے والا یہ ہنر مند، اندر سے نرم، باہر سے مضبوط انسان والد حاجی رحمت الدین، گلگت بلتستان کے دلکش علاقے چھشی (غذر) سے تعلق رکھتے تھے، جو میرسبحا قبیلے سے وابستہ تھے ان کے دادا شیلی حاکم، غذر کے گاؤں چھشی سے چترال آئے۔ جب شجاع الملک کو چترال کا مہتر مقرر کیا گیا تو شیلی حاکم معززین کے وفد کے ہمراہ ان سے ملنے چترال آئے ان کی گفتگو کی فصاحت، بلاغت، اور شیرینی سے مہتر اتنے متاثر ہوئے کہ انہیں چترال میں قیام کی دعوت دی  اور یوں یہ خاندان چترال کا حصہ بن گیا۔اقبال الدین نے تعلیم کا آغاز اسٹیٹ مڈل اسکول شغور سے کیا، ہائی اسکول چترال سے میٹرک کیا اور اسلامیہ کالج پشاور سے بی اے کیا۔ لیکن زندگی کا ایک کڑا موڑ اُن کے تعلیمی خوابوں کے سامنے آ کھڑا ہوا  ایک مہلک بیماری کی صورت میں  علاج معالجے کے لیے پشاور میں ڈاکٹر کے پاس گئے ڈاکٹر نے کہا زیادہ توقعات نہ باندھیں، خود کو خوش رکھیں۔ یہ ایک سادہ جملہ تھا، مگر سحر کے خوابوں کی بستی اجاڑ گیا۔ اور جب زخم ابھی تازہ تھے، ماں کی جدائی کا دکھ ان پر بجلی بن کر گرا۔

وہ خود کہتے تھے ماں کی جدائی اور بیماری کے خوف نے مجھے شاعر بنا دیا جینے کی امید میں دل کی باتیں قلم سے کاغذ پر اتارتا رہا، اور خود بھی نہ جان سکا کہ کب شاعر بن گیا، کب ستار کے تاروں سے دوستی ہو گئی۔ اپنے نام کیساتھ پہلے صابر لکھتے تھے پھر ایک دن معروف معالج ابوالکیف کیفی  پشاور کے ہاں علاج کے غرض سے گیا اس نے نام پوچھا اور کہا تُو صبر کا پتلا نہیں، تیری روح میں سحر ہے۔ تیرے لیے ’سحر‘ زیادہ موزوں ہے۔ یوں صابرسے سحربننے کی داستان نے جنم لیا۔

وہ ریڈیو پاکستان پشاور کے لیے ماں پر لکھی گئی پہلی کھوار نظم نان  لکھا اور خود کمپیرنگ کی علامہ اقبال کے فلسفے سے اتنے متاثر ہیں کہ انہیں اپنا روحانی مرشد مانتے ہیں۔ اقبال کے کچھ اشعار کو انہوں نے کھوار میں اس خوبصورتی سے ڈھالا کہ سننے والے سحر زدہ ہو جاتے ہیں۔

ان کا ایک مشہور کلام، جو  علامہ اقبال کے فکر سے متاثر ہو کر لکھا گیا، دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے

دونی عقل حیران مگم ھردی مجبور
فکر کوراکو نظرا نامنظور
ھردی بادشاہ عقل غلام بہچور
ھردیو پروشٹہ عقلو شکست ضرور
نہ کی موتن عقلو شکست جوشور
قالب تھانور پولیک عشقو دستور

سحر صرف شاعر یا ادیب نہیں تھا ، چترال اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن، پشاور یونیورسٹی کے جنرل سیکریٹری بھی رہ چکے تھے۔ ان کی نظر میں کھوار ثقافت ادب، وفا اور احترام کا استعارہ ہے۔ آج ہماری موسیقی دوسروں کی دھنیں چرا کر اپنی اصل کو کھو رہی ہے۔ یہ کھوار تہذیب پر ظلم ہے۔ وہ دوستی کو دل کا رشتہ مانتے ہیں۔ان کا ماننا  تھا دوستو پوشی تہہ طبیعت خوشان کی ہاسے دوستی مزا!!.

نوجوان فنکاروں میں وہ منصور شباب، انصار الٰہی، اور محس شاداب کو خاص طور پر سراہتے ہیں۔ سیاست پر اُن کی رائے بڑی سچی اور تلخ ہے چترال میں بہادر، خوددار اور بے لوث لیڈروں کی شدید کمی ہے۔اقبال الدین سحر چترال کا فخر تھا وہ ہر محفل کی جان، ہر دل کی آواز، اور ہر درد کا ترجمان تھا ان کے لفظوں میں چراغوں جیسی روشنی، ستار میں سوز و ساز، اور شخصیت میں سحر ہے۔ ان کی زندگی، صابر سے سحر تک کا یہ سفر، اُن تمام لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہے، جو اندھیروں میں امید کی کرن ڈھونڈ رہے ہیں۔

آپ کی رائے

comments

نور الہدی یفتالی

نورالہدی یفتالی بالائی چترال کے علاقے مستوج سے تعلق رکھنے والے لکھاری ہیں

متعلقہ

Back to top button